نماز کی پانچویں شرط :- نیّت

یعنی نماز پڑھنے کی نیت ہونی چاہیئے ۔

حدیث : بخاری و مسلم نے امیرالمومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں ’’ انما الاعمال بالنیات و لکل امرء مانوی‘‘ یعنی ’’ اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے اور ہر شخص کے لئے وہ ہے جو اس نے نیت کی ‘‘

نیت کے تعلق سے اہم مسائل :-

مسئلہ:نیت دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں ۔ محض جاننا نیت نہیں تاوقتیکہ ارادہ نہ ہو (تنویرالابصار)

مسئلہ:زبان سے نیت کرنا مستحب ہے ۔ نماز کی نیت کے لئے عربی زبان میں نیت کرنے کی تخصیص نہیں کسی بھی زبان میں نیت کرسکتا ہے ۔ البتہ عربی زبان میں نیت کرنا افضل ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ:احوط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ ( اللہ اکبر) کہتے وقت نیت حاضر ہو ( منیۃ المصلی)

مسئلہ:نیت میں زبان کا اعتبار نہیں بلکہ دل کے ارادہ کا اعتبار ہے ۔ مثلاً ظہر کی نماز کا قصد کیا اور زبان سے لفظ عصر نکلاتو بھی ظہرکی ہی نماز ادا ہوگی ( رد المحتار، درمختار)

مسئلہ:نیت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اگر اس وقت کوئی پوچھے کہ کون سی نماز پڑھتا ہے تو فوراً بلا تامل بتادے کہ فلاں نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایسا کوئی جواب دے کہ سوچ کر بتاؤںگا تو نماز نہ ہوئی ۔(درمختار)

مسئلہ:نفل نماز کے لئے مطلق نماز کی نیت کافی ہے ۔اگرچہ نفل نیت میںنہ کہے ۔ (درمختار)

مسئلہ:فرض نماز میں نیت فرض ضروری ہے ۔ مطلق نماز کی نیت کافی نہیں ۔ ( در مختار)

مسئلہ:فرض نماز میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس خاص نماز کی نیت کرے ۔ مثلاً آج کی ظہر یا فلاں وقت کی فرض نماز پڑھتا ہوں ۔ ( تنویرا لابصار)

مسئلہ:فرض نماز میں صرف اتنی نیت کرنا کہ آج کی فرض پڑھتا ہوں کافی نہیں بلکہ نماز کو متعین کرنا ہوگا ۔ مثلاً آج کی ظہر یا آج کی عشاء وغیرہ ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ:واجب نماز میں واجب کی نیت کرے اور اسے متعین بھی کرے ۔ مثلاً نماز عید الفطر، عیدالاضحیٰ ، وتر ، نذر ، نماز بعد طواف وغیرہ ۔ ( در مختار ، ردا لمحتار)

مسئلہ:سنت ، نفل اور تراویح میں اصح یہ ہے کہ مطلق نماز کی نیت کافی ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح کی یاسنتِ وقت کی یا قیام اللیل کی نیت کرے ۔ تراویح کے علاوہ باقی سنتو ںمیں بھی سنت یانبی کریم ﷺ کی متابعت کی نیت کرے ۔ ( منیۃ المصلی)

مسئلہ:نیت میں تعدادِ رکعت کی ضرورت نہیں البتہ افضل ہے ۔ اگر تعداد رکعت میں غلطی واقع ہوئی مثلاً تین رکعت ظہر کی یا چار رکعت مغرب کی نیت کی اور ظہر کی چار پڑھی اور مغرب کی تین پڑھی تو نماز ہوجائے گی ۔ ( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ:یہ نیت کرنا کہ منہ میرا قبلہ کی طرف ہے ، شرط نہیں ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ قبلہ سے انحراف و اعراض کی نیت نہ ہو (درمختار، رد المحتار )

مسئلہ:مقتدی کو امام کی اقتداء کی نیت بھی ضروری ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ:مقتدی نے بہ نیتِ اقتدا یہ نیت کی کہ جوا مام کی نماز ہے وہی میری نماز تو جائز ہے۔(عالمگیری )

مسئلہ:مقتدی نے اگر صرف نمازِ امام یا فرض امام کی نیت کی اور اقتدا کا قصد نہ کیا اس کی نماز نہ ہوئی۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:نیت اقتدا میں یہ علم ہونا ضروری نہیں کہ امام کون ہے ؟ زید ہے یا عمرو ہے ۔ صرف یہ نیت کافی ہے کہ اس امام کے پیچھے ۔ ( غنیہ )

مسئلہ:اگر مقتدی نے یہ نیت کی کہ زید کی اقتداکرتاہوں اور بعد کو معلوم ہوا کہ امام زید نہیں بلکہ عمرو ہے تو اقتدا صحیح نہیں ۔ ( عالمگیری ، غنیہ )

مسئلہ:امام کو مقتدی کی امامت کرنے کی نیت ضروری نہیں یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس شخص نے اس امام کی اقتدا کی تو نماز ہوجائے گی۔ (درمختار)

مسئلہ:اگر کسی کی فرض نماز قضا ہوگئی ہو اور وہ قضا پڑھتا ہو تو قضا نماز پڑھتے وقت دن اور نماز کا تعین کرنا ضروری ہے ۔ مثلاً فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا کی نیت ہونا ضروری ہے ۔ اگر مطلقاً کسی وقت کی قضا نماز کی نیت کی اور دن کاتعین نہ کیا یا صرف مطلقاً قضا نماز کی نیت کی تو کافی نہیں ۔ ( در مختار)ـ

مسئلہ:اگر کسی کے ذمہ بہت سی نمازیں باقی ہیں اور دن و تاریخ بھی یاد نہ ہو اور ان نمازوں کی قضا پڑھنی ہے تو اس کے لئے نیت کا آسان طریقہ یہ ہے کہ سب میں پہلی یا سب میں پچھلی فلاں نماز جو میرے ذمے ہے اس کی قضا پڑھتا ہوں ۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۲۴)