أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَـقُّ‌ ؕ قُلْ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَكِيۡلٍؕ ۞

ترجمہ:

اور آپ کی قوم نے اس کو جھٹلایاحالان کہ یہی حق ہے آپ کہیے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کی قوم نے اس کو جھٹلایاحالان کہ یہی حق ہے آپ کہیے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ ہر خبر (کے ظہور) کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور عنقریب تم جان لو گے۔ (الانعام : ٦٧۔ ٦٦) 

اس آیت میں فرمایا ہے حالانکہ یہی حق ہے۔ اس میں کس چیز کو حق فرمایا ہے اس میں حسب ذیل اقوال ہیں : 

(١) کفار نے اس عذاب کا انکار کیا ‘ حالانکہ اس کا نزول حق ہے۔ 

(٢) کفار نے اس قرآن کا انکار کیا ‘ حالانکہ یہ قرآن حق ہے۔ 

(٣) اللہ تعالیٰ نے الوہیت اور توحید پر استدلال کے لیے جو آیات نازل کی ہیں کفار نے ان دلائل کا انکار کیا ‘ حالانکہ یہ دلائل حق ہیں۔ 

اس کے بعد فرمایا آپ کہئے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں ‘ یعنی اگر تم ان دلائل سے اعراض کرتے ہو اور حق کا انکار کرتے ہو تو میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں ‘ یعنی نہ میں تم پر جبر کرکے تمہیں مومن بنا سکتا ہوں اور نہ تمہارے اعراض کرنے کی تمہیں سزا دے سکتا ہوں۔ میں تو تم کو صرف آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ اس نہج پر قرآن مجید میں اور بھی آیات ہیں : 

(آیت) ” نحن اعلم بما یقولون وما انت علیہم بجبار فذکر بالقران من یخاف وعید “۔ (ق : ٤٥) 

ترجمہ : ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اور آپ ان سے جبرا منوانے والے نہیں ہیں تو آپ قرآن سے اس کو نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو۔ 

(آیت) ” فذکر انما انت مذکر، لست علیہم بمصیطر “۔ (الغاشیہ : ٢٢۔ ٢١) 

ترجمہ : پس آپ نصیحت کرتے رہیں آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں، آپ ان کو جبر سے منوانے والے نہیں ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے اور اس وقت میں یقینا اس خبر کا ظہور ہوگا اور اس میں کوئی تقدیم تاخیر نہیں ہوگی۔ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے عذاب آخرت کی جو خبر دی ہے ‘ وہ عذاب یقینا نازل ہوگا۔ اور اس سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ خبر دی ہے کہ کفار کے ساتھ جنگ میں مسلمان کافروں پر غالب ہوں گے تو بغیر شک وشبہ کے اس خبر کا ظہور ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار کے لیے وعید ہے ‘ کیونکہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا انکار کرتے تھے اور دنیا میں بھی ان کے لیے وعید ہے جیسا کہ بدر وغیرہ میں وہ شکست سے دو چار ہوئے اور مسلمانوں کو بھی ڈرنا چاہیے ‘ کیونکہ اگر انہوں نے قرآن مجید کے احکام پر عمل نہیں کیا ‘ بلکہ قرآن کریم کے احکام کی خلاف ورزی کی ‘ تو یہ قرآن مجید کے انکار کے مترادف ہے ‘ تو ایسا نہ ہو کہ وہ بھی عذاب الہی سے دو چار ہوجائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 66