مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں:’’مفتی منیب الرحمن صاحب پورے سال لاپتہ رہتے ہیں اور صرف دو مرتبہ نظر آتے ہیں‘‘۔ محترمہ حکومت میں نو وارد ہیں، انہیں اپنے حکومتی معاملات کا پتا نہیں ہے ، مفتی منیب الرحمن کے علمائے کرام کے ساتھ وزیرِ اعظم جناب عمران خان سے اہم امور پر دوباقاعدہ اجلاس ہوچکے ہیں، مفتی صاحب نیشنل ٹاسک فورس اور نیشنل کریکولم کے اجلاسوں میں شرکت کرچکے ہیں، اس کے علاوہ وفاقی وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود کے ساتھ دینی مدارس وجامعات کے موضوع پر ایک باقاعدہ اجلاس منعقد ہوچکا ہے اور اس کی مفتقہ کارروائی کا تحریری ریکارڈ بھی موجود ہے، محترمہ کی ترجیحات ذرا مختلف ہیں ، البتہ ہربات میں ٹانگ اڑانا اور بے تکی باتیں کرنا نئے مشیروں اور وزیروں کا شیوہ ہے۔