مفتی جہانگیر رضا المدنی حفظہ اللہ

میرا خیال ہے کہ پوپلزئی سعودیہ کو فالو کرتا ہے، جو کہ فقہ میں ایک شاذ و مرجوح قول ہے باقی شھادت وغیرہ لینا سب بہانہ ہے، ورنہ ایک عام سے مذہبی ذہن رکھنے والے میں بھی یہ جرات نہیں کہ لاکھوں لوگوں کا روزہ خراب کرنے پر تل جائے اور لاکھوں لاکھ لوگوں کے روزوں کا ذمہ اپنے سر پر لے لہذا یہ شخص کچھ نہ کچھ حیلہ لیکر ضرور بیٹھا ہوگا اور میرا خیال ہے پوپلزئی “اختلاف مطالع ” والے مسئلہ کی بنیاد پر سب کچھ کرتا ہے اسی لئے پاکستان میں چاند کا ہونا نہ ہونا اس کے لئے برابر ہے ۔( جس پر عمل بہ ہر حال درست نہیں ہے )

لیکن اٹھائیس روزوں کی صورت میں ہر حال میں اختلاف مطالع ہی معتبر ہوتا ہے، یعنی اپنی سرزمین پر جب چاند دیکھے گا تو ماہ کا آغاز ہوگا، اور میں حیران ہوں کہ یہ شخص اور کے پی حکومت اتنی ڈھٹائی سے دین اسلام کے ان حساس معاملات کو نشانہ بنارہے ہیں اور ان کی خباثت دن بدن بے لگام ہوتی جارہی ہے، مگر نہ خیبرپختونخواہ کے علماء انہیں روک رہے ہیں اور نہ حکومت کے سنجیدہ حلقے انہیں کچھ کہہ رہیں ہے بلکہ ہر بار ایسے لوگوں کو حکومتیں پرموٹ کرہی ہیں ، اس سال 28 روزے کرکے ان لوگوں نے لاکھوں مسلمانوں کے روزہ قضاء کروائے ہیں جس کا وبال یقینا حمایتی علماء اور پختونخوا کی حکومت دونوں پر ضرور آئے گا ۔

اور ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ حکومت نیازی کی ہو یا بلور کی، کبھی سیاسی لوگ ایسے لوگوں پر ہاتھ نہیں دلاتے حالانکہ کہ ریاست کی رٹ کو چلینج کرنا اسے ہی کہتے ہیں اور یہاں ڈنڈی لہرا کر انہیں سیدھا کرنا چاہیے لیکن حکومت ہمیشہ اسیے معاملات میں منافقت کرتی ہے کیونکہ اولا تو اس افراتفری میں حکومت کی کارکردگی کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ کر ان مسائل میں لگ جاتی ہے ، دوئم حکومت میں موجود دین بیزار طبقے کو دین سے عوام کو متنفر کرنے کا موقع مل جاتا ہے ، اسی لئے یہ ان معمالات میں جلتی پر تیل ڈالتے ہیں تاکہ آگ زیادہ بھڑکے اور زیادہ مقاصد حاصل ہوں، یعنی ایک تیر سے بہت سارے شکار۔

ایسے میں عوام کو کوشش کرنی چاہیے کے ہمیشہ جمہور علماء کو ہی فالو کریں ناکہ علاقائی و سیاسی عصبیت کا شکار ہوکر اپنی عبادات کو خراب کریں ۔

جہانگیر رضا