امام ابو داؤد

نام ونسب :۔نام ،سلیمان ۔کنیت ،ابودائود ۔والد کا نام ،اشعث ،اورسلسلہ نسب اس طرحہے۔ ابودائود سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازدی السجستانی ۔

کہتے ہیں آپکے جد امجد عمران نے جنگ صفنین میں حضرت علی کا ساتھ دیا تھا اور اس میں شہادت پائی ۔

ولادت وتعلیم ۔آپکی ولادت ۲۰۲ھ؁ میں ملک سجستان (اسبستان )میں ہوئی جو سندھ اورہرات کے درمیان ہندوستان کے پڑو س میں قندھار سے متصل واقع ہے ۔

آپ نے جس زمانہ میں ہوش سنبھالا اس وقت علم حدیث کا حلقہ بہت وسیع ہوچکا تھا ، آپ نے بلاد اسلامیہ کا عموما دورہ کیا اور بالخصوص مصر ،شام ، حجاز ،عراق اور خراسان کے سفر اختیار کئے اور اس دور کے مشاہیر اساتذہ وشیوخ سے علم حدیث حاصل کیا اور متعدد بار بغدادکا سفر فرمایا ،پھر آخر میں بغداد ہی کو آپ نے وطن بنالیا ۔لیکن ۲۷۱ھ میں بعض وجوہ کی بنا پر بغداد کوخیر با دکہہ کر بصرہ میں مقیم ہوگئے تھے ۔

اساتذہ: ۔جن اساتذہ وشیوخ سے آپ نے علم حدیث وفقہ کی تعلیم حاصل کی ان کا استفصاء مشکل ہے ۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے آپکے تین سو شیوخ کی تعداد تحریر کی ہے ،ان میں بلند پایہ محدثین وفقہاء شمار کئے جاتے ہیں ،جیسے امام احمد بن حنبل ،اسحاق بن راہویہ ،قتیبہ ،ابوالولیدطیالسی ،یحیی بن معین ،ابوبکر بن ابی شیبہ ،عثمان بن ابی شیبہ وغیرہم ۔

تلامذہ: ۔آپکے حلقہ درس میں شریک ہونے والے بیشمار ہیں ،بعض اوقات ہزاروں کا جم غفیر بھی ہوتا تھا ،امام احمد بن حنبل اگر چہ آپکے استاذ حدیث ہیں لیکن آپ سے روایت بھی کی ہے ۔

آپ کے تلامذہ میں چار حضرات جماعت محدثین کے پیشوا اور سردار ہوئے ہیں ۔

آپکے صاحبزادے ابوبکر بن ابی دائود ۔ابوعلی محمدبن احمد بن عمر ٹولوی ۔ابوسعید احمد بن محمد بن زیاد اعرابی ۔ابوبکر محمد بن عبدالرزاق بن داسر ۔

علم وفضل ۔ حافظ محمد بن اسحاق صنعانی اور ابراہیم حربی فرماتے تھے ۔

امام ابودائودکیلئے اللہ تعالیٰ نے علم حدیث ایسانرم کردیا تھا جیسے حضرت دائود علیہ السلام کیلئے لوہا ۔

محمد بن لیث کہتے ہیں:۔

امام ابودائود دنیا میں علم حدیث کے لئے اور آخرت میں جنت کے لئے پیداکئے گئے ۔

موسی بن ہارون نے کہا:۔

میں نے ان سے افضل کسی کو نہ دیکھا ۔

امام حاکم نے فرمایا :۔

علم حدیث میں آپکی امامت مسلم چیز ہے ۔

اصحاب صحاح ستہ کی بہ نسبت آپ پر فقہی ذوق زیادہ غالب تھا ، چنانچہ علامہ شیخ ابو اسحاق شیرازی نے صرف آپ کو طبقات فقہاء میں شمار کیا ہے ، وجہ بھی معقول ہے کہ احادیث فقہیہ کے حصر واستیعاب کے سلسلہ میں ابو دائود کو جو بات حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین صحاح ستہ کو حاصل نہیں ۔علامہ یافعی نے آپ کو حدیث وفقہ دونوں کا امام کہاہے ۔

حفظ حدیث اور اتقان وروایت کے ساتھ آپ زھد وعبادت میں بھی یکتائے روزگار تھے ،یقین وتوکل میں مثالی کردار ادافرماتے ،اس لئے آپکی مجلس میں ہرطرح کے لوگ حاضری دیتے ، طلبہ وعلماء ،شاہان وقت وامراء اور محدثین وصوفیاء سب نے آپکی بارگاہ میں نیاز مندانہحاضری دی ہے ۔

ایک مرتبہ مشہور عارف باللہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری آپ سے ملاقات کیلئے حاضر ہوئے ،جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ کو نہایت خوشی ہوئی اور خوش آمدیدکہتے ہوئے تشریف لائے ۔ حضرت سہل نے کہا : اے امام ! ذرااپنی وہ مبارک زبان دکھائیں جس سے آپ احادیث رسول بیان کرتے ہیں تاکہ میں اس مقدس زبان کو بوسہ دوں ۔آپ نے زبان منہ سے باہر نکالی تو انتہائی عقیدت سے آپ نے اسکو چوم لیا ۔

وصال ۔ ۱۶؍ شوال ۲۷۵ھ بروز جمعہ وصال فرمایا اور بصرہ میں امام سفیان ثوری کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔

سنن ابی دائود

آپکی پوری زندگی طلب حدیث اور مختلف بلاد کے سفر میں گذری لیکن اسکے باوجود آپ نے تقریباً بیس کتابیں تصنیف فرمائیں ۔ ان سب میں سنن ابی دائود کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی جو آپکے نام کو قیامت تک زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے ۔ تمام طبقات فقہاء میں مسلکی اختلا ف کے باوجود یہ کتاب مقبول رہی ہے ۔

حسن بن محمد بن ابراہیم کہتے ہیں : ایک بار میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دیدارپرانوار کیا ،حضور فرمارہے تھے ،جو شخص سنن کا علم حاصل کرنا چاہے وہ سنن ابی دائود کا علم حاصل کرے ۔ حضور کے اس فرمان سے ظاہر ہوا کہ یہ کتاب بارگاہ رسالت میں مقبولہے ۔

پانچ لاکھ احادیث سے انتخاب کرکے آپ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی جو اپنی نظیر آپ ہے ،

امام غزالی فرماتے ہیں :۔علم حدیث میں صرف یہ ہی ایک کتاب مجتہد کیلئے کافی ہے ۔

آپ نے یہ کتاب اپنے شیخ امام احمد بن حنبل کی حیات ہی میں لکھی اور مکمل کرکے پیش کی تو انہوں نے اسکو بہت پسند فرمایا اوردعائیں دیں ،اس سے معلوم ہوا کہ آپ اس کتاب کی

تصنیف سے جوانی ہی میں فارغ ہوچکے تھے ۔

خصائص سنن ۔امام ابودائود نے اپنی اس کتاب میں جمع و ترتیب کے لحاظ سے جن اسالیب کواختیا ر کیا وہ بہت خوبیوں اور نکات پر مشتمل ہیں ۔آپ نے اہل مکہ کے نام جو مکتوب رسالہ مکیہ کے نام سے ارسال کیا تھا اس میں بہت سے شرائط ونکات کی طرف رہنمائی کی ہے ۔فرماتے ہیں ۔

آپ لوگوں نے مجھ سے احادیث سنن کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میں آپ کو بتائوں کہ اس میں درج شدہ کیا میرے نزدیک صحیح ترین احادیث ہیں ۔ تو سن لیجئے

یہ تمام احادیث ایسی ہی ہیں ۔البتہ وہ احادیث جو دو صحیح طریقوں سے مروی ہوں اور ایک کا راوی اسناد میں مقدم ہو کہ اسکی سند عالی اور واسطے کم ہوں اور دوسرے کا راوی حفظ میں بڑھا ہوا ہو ایسی صورت میں اول الذکر طریقہ کو لکھ دیتاہوں ۔حالانکہ ایسی احادیث کی تعدادبمشکل دس ہوگی ۔

باقی مراسیل کا جہاں تک تعلق ہے تو پہلے زمانہ میں امام مالک ،سفیان ثوری اور امام اوزاعی وغیرہ ان سے استدلال کرتے تھے ، یہانتک کہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا زمانہ آیا

اور انہوں نے یہ کلام کرنا شروع کیا ،اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی رضا نصیب فرمائے ۔

میرا مسلک یہ ہے کہ جب کوئی مسند روایت مرسل روایت کے خلاف موجود نہ ہو یا مسند روایت نہ پائی جائے تو ایسی صور ت میں مرسل روایت سے استدلال درست ہے اگر چہ وہ متصل کی طرح قوی نہیں ہوتی ۔میں نے اپنی سنن میں متروک راوی کی روایت نہیں لی ہے ،اور اگر کوئی منکر حدیث آئی ہے تو میں نے اسکو بیان کردیا ہے ۔اس میں کوئی اور علت ہو تو اسکو بھی بیان کردیا ہے ۔جس حدیث کے بعد میں نے کچھ نہیں لکھا وہ صالح للعمل ہوتی ہے۔ میں نے اس کتاب میں اکثر احادیث مشہور جمع کی ہیں۔

میں نے کتاب سنن میں صرف احکام ہی کو تصنیف کیا ہے ، زھد اور فضائل اعمال سے متعلق احادیث نہیں بیان کی ہیں ۔ لہذا یہ چار ہزار آٹھ سو احادیث (۴۸۰۰) ہیں ۔

یہ اس کتاب کا اجمالی تعارف جو خود مصنف علیہ الرحمۃ نے بیان فرمایا تفصیل کیلئے مطولات کا مطالعہ کریں ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)