حکایت نمبر228: ایثار کی انوکھی مثال

حضرتِ سیِّدُناابوعیسیٰ محمد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم سے منقول ہے، میں نے ابو حنیفہ محمد بن عبدالرحمن علیہ رحمۃاللہ المنان کو یہ فرماتے ہوئے سنا:”عید قریب تھی، میرے پاس ان دنوں صرف تین ہزار درہم تھے۔ میرے ایک بہت قریبی دوست حَکَم بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پیغام بھجوایاکہ میرے پاس خرچے کے لئے رقم وغیرہ نہیں، اگر تمہارے پاس کچھ رقم ہوتو بھجوا دو۔ پیغام ملتے ہی میں نے تین ہزار درہم ان کی طرف بھجوا دئیے ۔جب ان کے پاس رقم پہنچی تو انہیں خَلَّادبن اَسْلَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کا پیغام ملا کہ مجھے عید کے خرچ کے لئے رقم کی ضرورت ہے، ہوسکے تو مجھے کچھ رقم بھجوا دو ۔ پیغام ملتے ہی انہوں نے درہموں کی تمام تھیلیاں بغیر کھولے خَلَّادبن اَسْلَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی طرف بھجوادیں۔

اب میرے پاس بالکل بھی خرچہ وغیرہ نہ تھا ۔ میں نے خَلَّادبن اَسْلَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کو پیغام بھجوایا کہ اگر تمہارے پاس کچھ رقم ہوتو بھجوا دو تاکہ ہم عید کے موقع پر اہل وعیال کے لئے اشیاءِ خوردونوش خرید سکیں ۔ انہوں نے درہموں کی تھیلیاں بھجوائیں۔ جب میں نے انہیں کھولنا چاہا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ تھیلیاں تو وہی تھیں جو میں نے حکم بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بھجوائیں تھیں ۔میں فوراً خَلَّادبن اَسْلَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کے پاس گیا، ساراواقعہ سنایااورپوچھا :”آپ کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی؟” انہوں نے فرمایا:” مجھے حکم بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھجوائی تھی ۔ ”اب میں سارا معاملہ سمجھ چکا تھا کہ یہ درہموں کی تھیلیاں واپس مجھ تک کیسے پہنچیں ۔ میں حکم بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اورانہیں ایک ہزار درہم دئیے۔ پھر خَلَّادبن اَسْلَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کو ایک ہزار درہم بھجوائے اوربقیہ ایک ہزار درہم اپنے پاس رکھ لئے ۔اس طرح ہم تینوں کو عید کے اخراجات کے لئے کچھ نہ کچھ رقم میسرآگئی۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)