باسمہ تعالیٰ و بعون المصطفی ﷺ

سب چمک والے اجلوں میں چمکا کئے

اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی

حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام سے لے کر میرے آقا حضور رحمت عالمﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار یا دو لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام تشریف لائے، سب نے انسانوں کو ایک ہی پیغام دیا۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں موجود ہے ’’وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ‘‘ اور بے شک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو۔ (سورۂ نحل: ۳۵)

دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرام تشریف لائے سب نے ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کا حکم دیا۔ خوش نصیبوں نے ان حضرات کی دعوت پر لبیک کہہ کر آغوشِ اسلام میں پناہ لی اور جو شقی و بد بخت تھے اس دعوت کو قبول کرنے سے محروم رہے۔

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کی مقدس جماعت کودعوت و تبلیغ کی راہ میں جن تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اس کے قرآن و احادیث گواہ ہیں۔ بھلائی کی دعوت دینے والے، برائی سے روکنے والے، کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرنے والے اور معبود برحق کی بارگاہ میں جبین نیاز جھکانے کی تعلیم دینے والے اس مقدس گروہ کو انسانوں سے کوئی لالچ و حرص نہ تھی بلکہ وہ علی الاعلان یہی کہتے تھے ’’اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی اللّٰہِ‘‘ میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر۔

پھر بھی غرور اور اَنا میں ڈوبے ہوئے لوگ سرکش و بغاوت کے علم کو اٹھائے ہوئے ہر قسم کی اذیت رسانی میں مصروف رہتے اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی صبر و رضا کے ساتھ نبھاتے چلے جاتے اور راہِ خدا میں آنے والی ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہوئے دعوت و ارشادکے فرائض انجام دیتے رہے، چونکہ رحمت عالم ا کو اللہ عزوجل نے ہر نبی کا کمال عطا فرمایا تھا یعنی جو کمالات علیٰحدہ علیٰحدہ طور پراور نبیوں میں تھے اللہ نے ان تمام کمالات کو رحمت عالم ا کی ذات میں جمع فرما دیا۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

ہر نبی کا دائرۂ دعوت و تبلیغ خاص قوم یا پھرخاص قبیلہ تک محدود رہا لیکن رحمتِ عالم ﷺ کسی خاص قوم اور کسی خاص قبیلہ کے لئے نبی بن کرنہ آئے بلکہ جملہ بنی نوع انسان آپ کی دعوت کے مخاطب تھے۔

جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ’’قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا‘‘ تم فرمائو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ (الاعراف: ۱۵۷)

پیغمبر اعظم ﷺ کل بنی نوع انسانی کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے لہٰذا ہر انسان کے لئے حضور ﷺ پر ایمان لانافرض ہے ، اس لئے کہ حضورﷺ صرف نبی بن کر تشریف نہیں لائے بلکہ آخری نبی بن کر تشریف لائے ، اب حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ۔

تاریخ شاہد ہے کہ اِس دور میں بھی لوگوں کی ترقی وعروج حضور ﷺ کے فرمان کی اتباع ہی میں پنہاں ہے ، جن لوگوں نے حضور ﷺ کی رسالت و نبوت کا اقرار کیا اور تعلیم رسولﷺ پر عمل پیرا رہے وہ دنیا کے نقشہ پر کامیاب و کامران کی حیثیت سے چھاگئے۔ حضور ﷺ نے غلاموں کو تاجدار بنادیا اور جن لوگوں نے انکار کیا وہ رشتہ دار ہوکر بھی مستحق عذابِ نار ہوئے۔

محسن انسانیت رحمت عالمﷺ جملہ بنی نوع انسان کو دولت ہدایت سے مالامال کرنے کے لئے تشریف لائے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: وَمَآ اَرْسَلْنٰاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَاَیَعْلَمُوْنَo اور اے محبوب ! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر (ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے) خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ (سورئہ سبا: ۲۸)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور سید عالمﷺ کی رسالت ، رسالت عامہ ہے کہ تمام انسان اس کے احاطہ میںہیں ،گورے ہوں یا کالے ، عربی ہوں یا عجمی، اگلے ہوں یا پچھلے سب کے لئے آپ رسول ہیںاور وہ سب آپ کے امتی ہیں۔

حضور سید کونین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں (۱) ایک ماہ کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی۔ (۲)تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پا ک کی گئی کہ جہاں میرے امتی کو نماز کا وقت ہو نماز پڑھے ۔ (۳) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں۔ (۴) مجھے مرتبۂ شفاعت عطا کیا گیا۔ (۵) اور انبیا خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اورمیں سب کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہوں۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اس حدیث پاک میں رسول کائنات ﷺ کے فضائل مخصوصہ کا بیان ہے جن میں ایک اہم فضیلت آپ کی رسالت عامہ ہے جو تمام جن و انس کو شامل ہے ۔

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاo‘‘بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے عالم کو ڈر سنانے والاہو۔ (الفرقان :۱)

مذکورہ آیت کریمہ میںحضور سید عالم ﷺ کی رسالت عامہ کا بیان ہے کہ آپ ساری کائنات کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ، جن ہوں یا بشریا فرشتے یا دیگر مخلوقات سب آپ کے امتی ہیں کیوںکہ ’’عَالَم‘‘ ماسِوا اللہ کو کہتے ہیں اور ’’عَالَم‘‘ میں سب داخل ہیں ملائکہ کو اس سے خارج کرنا بے دلیل ہے۔

اور نبی ٔ اکرم نور مجسم ﷺ نے خود ارشاد فرمایا : اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً یعنی میں تمام خلق کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔ حضرت علامہ ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے مرقات میں اس حدیث کی شرح میں فرمایا: یعنی تمام موجودات کی طرف ،جن ہوں یا انس ، فرشتے یا حیوانات یا جمادات حضور ساری مخلوق کے نبی ہیں۔اس مسئلہ کی کامل تحقیق حضرت امام قسطلانی علیہ رحمۃ الباری کی مواہب لدنیہ میں ہے۔ مَنْ شَآئَ التَّفْصِیْلَ فَلْیَرْجِعْ۔

ارشادِ خداوندی ہے ’’وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔(الانبیاء: ۱۰۷)

اس آیت کریمہ میں خود رب العلمین اپنے محبوب کی شان ظاہر فرما رہا ہے کہ اگر میں ساری کائنات کا پالنے والاہوں تو میرا محبوب ساری کائنات کے لئے رحمت ہی رحمت ہے اس لقب سے کسی نبی کو اللہ نے نہیں نوازا۔ یہ لقب صرف اور صرف حضور خاتم پیغمبراں ﷺ کو اللہ نے عطا فرمایا ہے پورا قرآن اس پر شاہد ہے لہٰذا رسالت عامہ کے ساتھ رحمت عامہ بھی موجود ہے اور خود رحمت عالم ا نے اپنی دعائوں سے لے کر اپنی فکر میں کبھی قوم کو شامل نہیں کیا اور نہ قبیلے کو اور نہ ہم وطن کو بلکہ جب بھی دعا فرمائی تو ساری امت کے لئے دعا فرمائی اور وقت ولادت و وقت وصال دعا فرمائی تو بھی ساری امت کے لئے دعا فرمائی ۔لہٰذا ایسے عظمت والے رسول کی امت میں ہونے پر ہم جتنا فخر کریں کم ہے، وہ لوگ کتنے کم نصیب ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہیںاور اسلام کو فساد پھیلانے والا مذہب کہتے ہیں۔

کاش ایسے لوگ اپنی نگاہوں سے تعصب کی عینک ہٹاکر رحمت عالم ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کرتے توانہیں پتہ چل جاتاکہ پوری دنیا کو امن وسلامتی کا گہوارہ اور فساد زدہ قوم کو امن کا علمبردار کس نے بنایا؟

آج دہشت گردی کے نام پرمسلم دنیا پر چڑھائی کرنے والی مغربی اورصیہونی طاقتوں کو کون سمجھائے کہ جس مذہب کے ماننے والوں کو تم دہشت گرد کہتے ہو انصاف پسند عوام اسی مذہب کو قبول کرنے کے لئے بے چین و بے قرار ہے اور دہشت گردی کے ڈھونگ رچنے والی یہ ظالم اور استعماری قوتیں اسلام کو دہشت گرد کہہ رہی ہیں ، دہشت گردی کو مٹانے کے نام پر دہشت گردی ظلم اور زیادتی بے قصور مسلمانوں پر کرکے انصاف پسند عوام کی آنکھ میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی ۔

آیئے دیکھئے کہ رحمت عالمﷺ نے کس طرح دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا ۔

اولاً آج کی دہشت گردی اور رحمت عالم ﷺ کے زمانے کی دہشت گردی میں بہت فرق ہے ، آج کا دہشت گرد دوسروں کی بستیاں اور گھروں کو اجاڑتا ہے ،بچے ، بچیوں کو یتیم کرتا ہے اور ان کو موت کے گھاٹ اتار کر ماںباپ کی آنکھوں کا نور چھین لیتا ہے ،ایسے دہشت گرد معاشرے میں چند ہی ہوتے ہیں لیکن رحمت عالم ا کے دور پاک کے دہشت گرد زیادہ سخت دل تھے اور چند نہیں بلکہ ہر گھر میں دہشت گرد موجود تھے ۔

تاریخ شاہد ہے کہ دور جاہلیت میں اگر کسی گھر میں بچی کی ولادت ہوتی تو باپ اسے اپنے لئے شرم کی بات سمجھتا اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہی بیٹی کو زندہ دفن کردیتا ، کیسے دہشت گرد تھے اس زمانے کے لوگ جو اپنے ہی جگر کے ٹکڑے کو اپنے ہی ہاتھوں سے زندہ دفن کرنے میں کوئی جھجھک تک محسوس نہیں کرتے تھے لیکن رحمت عالم ا نے ان دہشت گردوں کے پتھر جیسے دل کو اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ایسا موم کیا کہ دختر کشی کی رسم کو ختم کرکے رکھ دیا اور دنیا نے اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھا کہ اپنی بچیوں کو زندہ دفن کردینے والے اب صرف اپنی ہی بچیوں کی پرورش نہیں کررہے ہیں بلکہ دوسروں کی بچیوں کا ذمہ لے کر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔

بتائو! ان دہشت گردوں کو امن پسند کس نے بنایا ؟ تسلیم کرنا پڑے گا کہ رحمت عالم ﷺ ہی نے ان کی زندگی میں یہ انقلاب آفریں تبدیلی پیدا فرمائی ۔ آج بھی اگر دنیا دہشت گردی سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو دامن رسول میں آجائے اور تعلیمات مصطفیٰ ﷺ کو عام کرے اور تعصب کی عینک توڑ کر تسلیم کرے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ ہی دہشت گردی کے خاتمہ کا ذریعہ ہیں، خیر بات آگے نکل گئی،بات چل رہی تھی کہ حضور رحمت عالم ﷺ کی شان رحمت سارے عالم پر محیط ہے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جہاں جہاں ہے حضور ﷺ کی رحمت وہاں وہاںہے اور یہ شرف انبیا میں صرف میرے پیارے آقامحمد عربیﷺ کو میسر ہوا ۔

اب آپ دیکھئے کہ دائرہ ٔ کارجتنا وسیع ہوگا تکالیف بھی اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کی تکالیف اور مصائب کا تقابل اگر ہم رحمت عالم ﷺ کے مصائب وآلام سے کرتے ہیں تو آپ کی تکالیف و مصائب سب سے زیادہ نظر آتے ہیں، جیسا کہ زبانِ نبوت خود اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے ’’راہِ خدا میں سارے نبیوں سے زیادہ میں ستایا گیا ہوں‘‘ (البدایہ و النہایہ جلد ثالث)

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کے مقابلے میں زمین دعوت بھی سرکار رحمت عالم ﷺ کو بہت سخت دی گئی۔ ہر نبی گل و لالہ کی زمین پر تشریف لائے، لیکن تاجدارِ کائناتﷺ ریگستان میں بھیجے گئے جہاں نہ سبزہ و شادابی نہ پانی بلکہ قدم قدم پر زمین و آسمان کی گرمی کی تپش انسانوں کی جلدو دماغ کو جھلساتی تھی۔ زمین تو پتھر کی تھی ہی، انسان پتھروں کی عبادت کرتے کرتے پتھروں جیسے سخت ترین ہو چکے تھے۔ ایسے میں رسولِ اعظم ﷺ کو پتھر دل انسانوں کے دلوں میں شمع توحید جلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ دنیا نے دیکھا کہ پتھر دل انسانوں کو ۲۳؍سالہ دور نبوت میں اپنی محبت اور اپنے دلنشیں اخلاق و کمالات سے ایسا سنوارا کہ انبیا کے علاوہ تاریخ انسانی میں ایسے انسان نہیں ملتے۔ کسی کو صدیق اکبر، کسی کو فاروقِ اعظم اور کسی کو عثمان غنی اور کسی کو حیدر کرار جیسا عدیم المثال انسان بنا کر دنیا کے ہر قائد و رہنما کے لئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ دیا کہ تم سے ہو سکے تو لائو ان شاگردانِ رسول جیسے تارے۔

یاد رکھیں! ہر نبی کے کمالات کا اعتراف ہمارا ایمان ہے۔ ہم نہ کسی نبی کے کمالات کا انکار کر کے ایمان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور نہ ان کے مراتب میں کمی کے مرتکب ہو کر غضب الٰہی کو دعوت دے سکتے ہیں۔ ہم تو قرآن مقدس کے اس قانون کے عامل ہیں اور رہیں گے۔ ’’قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَمَا اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ‘‘ یوں کہوکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسماعیل و اسحق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیا اپنے رب کے پاس سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔ (سورئہ بقرہ:۱۳۶)

لہٰذاہم ہر نبی پر ایمان رکھتے ہیں اور ہر نبی کے کمالات و معجزات کے قائل ہیں۔ اس لئے کہ ایک نبی کا بھی انکار دراصل سارے انبیا کا انکارہے۔

جیسا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰہُمْ وَ جَعَلْنٰہُمْ لِلنَّاسِ آیَۃً‘‘ اور نوح (علیہ الصلوٰۃ و السلام)کی قوم کو جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے ان کوڈبو دیا اور انہیں لوگوں کے لئے نشانی کر دیا۔ (سورئہ فرقان:۳۷)

قومِ نوح کا رسولوں کو جھٹلانے سے مراد واقعہ کی رو سے سارے رسولوں کا نہیں صرف حضرت نوح علیہ السلام کا جھٹلانا تھا لیکن قرآن نے ایک رسول کی تکذیب کو سارے رسولوں کی تکذیب قرار دیا کیوں کہ ہر نبی کی دعوت ایک ہی رہی کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔ اس لئے کسی ایک کا انکار در حقیقت اس دعوتِ توحید کا انکار ہے جس کے لئے اللہ عزوجل نے ان کو مبعوث فرمایا۔

قرآن پاک میں ہے : وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَھْتَدُوْا ط قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْج لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ o فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْاج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَاھُمْ فِیْ شِقَاقٍج فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُج وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُoاور کتابی بولے یہودی یا نصرانی ہوجائو راہ پائوگے تم فرمائو بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔ یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم واسماعیل و اسحٰق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے باقی انبیااپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیںپھر اگر وہ بھی یوں ہی ایمان لائیں جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں ، تو اے محبوب عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔ (سورئہ بقرہ:۱۳۵، ۱۳۶، ۳۷ ۱)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے دین میں تحریف و تبدیل کر کے دین کی اصل صورت کومٹا دیا تھا، ان میں سے ہر ایک اپنے خود ساختہ دین کو دینِ الٰہی بتاتا تھااور اس کو ذریعۂ نجات سمجھ کر لوگوں سے کہتا تھاکہ اگر نجات چاہتے ہو تو ہمارے دین میں داخل ہو جائو۔ یہودی کہتے تھے کہ ہمارا دین حق ہے، نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ نصرانیت حق ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں کی مذمت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ دینِ ابراہیمی میں تحریف و تبدیل کر کے تم نے نئے دین بنا لئے۔ تمہارے ان خود ساختہ باطل عقائدسے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں، نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی، وہ تو اسلام کے داعی تھے، ان کا دین دینِ اسلام ہی تھا۔

ایک مقام پر پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے ۔یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نُزِّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُط وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًم بَعِیْدًاo

اے ایمان والو! ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاری اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔ (النساء:۱۳۶)

اس آیت کے تحت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان صاحب قبلہ نعیمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:اے وہ لوگو! جو ایمان لا چکے ابھی اپنے پر مطمئن نہ ہو ابھی منزل دور ہے۔ راہ مار بہت ہیں، ایمان پر مرتے دم تک قائم رہو کہ اللہ پر اس کے رسول محمد مصطفی ا پر اور اس کتاب پر جو اُن پر آہستگی سے اتری اور تمام ان کتابوں پر جو اگلے نبیوں پر اتریں ایمان قبول کئے رہو، ان میں سے کسی چیز کا انکار اپنے دل میں نہ آنے دو، خیال رکھو کہ بڑا پرانا مسلمان بھی اگر اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں یا اس کی کسی کتاب یا اس کے کسی رسول کا یا قیامت کا انکار کر بیٹھے تو وہ ایسا پرے درجے کا گمراہ ہوگا جسے ایمان سے کوئی تعلق نہ رہے گا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍلا وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً0لا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّاج وَّ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًاo وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْط وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاo

وہ جو اللہ اور رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کر دیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں۔ یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (النساء:۱۵۰۔۱۵۲)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ امت مصطفی ﷺ کی ہدایت کے لئے کبھی ان کے سامنے اچھے لوگوں کے اعمال اور کارناموں کا ذکر فرماتا ہے تاکہ یہ امت اعمالِ حسنہ کی جانب مائل ہو اور کبھی برے لوگوں کے اعمال بد کا تذکرہ بھی فرماتا ہے تاکہ ان برے اعمال سے امت مصطفی ﷺ بچے اور دور رہنے کی کوشش کرے۔ اس آیۂ کریمہ میں بھی یہودیوں، نصرانیوں کے کرتوتوں، بدکاریوں اور بد عقیدگیوں سے متنبہ فرما کر ان کے انجام بد سے آگاہ فرمایا جا رہا ہے تاکہ ہم ان کے برے انجام سے سبق حاصل کریں۔ چنانچہ ارشاد ہوا اے مسلمانو! یقین کر لو کہ یہ یہود و نصاریٰ وغیرہ جو در حقیقت اللہ کی ذات و صفات کے بھی منکر ہیں اور سارے نبیوں کے بھی منکر کیوں کہ وہ محمد رسول اللہ ا کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے سارے نبیوں کا انکار کرتے ہیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں جدائی کر دیں کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماننے جاننے، اطاعت کرنے کا مستحق جانیں مگر اس کے رسولوں کو مستحق نہ جانیں۔ وہ اس کے مدعی ہیں کہ ہم بعض رسولوں پر تو ایمان اختیار کرتے ہیں اور بعض کے مراتب و درجات و نبوت کا انکار کرتے ہیں ان کا ارادہ ہے کہ نہ تو مومنوں کی طرح اللہ تعالیٰ اور سب رسولوں پر ایمان ہی لائیں اور نہ مشرکین و دہریوں وغیرہم کفار کی طرح سب کا انکار ہی کریں۔ وہ ایمان و کفر کے درمیان ایک اور راہ نکالنا چاہتے ہیں حالانکہ ایمان و کفر کے درمیان کوئی اور راہ نہیں ہے، دو ہی راستے ہیں ایمان یا کفر۔

جان رکھو ایسے لوگ پکے کافر ہیں جن میں ایمان کا شائبہ بھی نہیں۔ ہم نے ایسے تمام کافروں کے لئے آخرت میں وہ عذاب تیار کر رکھا ہے جو دائمی بھی ہوگا اور سخت تکلیف دہ بھی اور ساتھ ہی ان کے لئے بہت ذلت و خواری کاعذاب بھی لہٰذاتم ان چیزوں میں کچھ بھی تردد نہ کرو۔

مذکورہ آیات کی تشریح کے بعد آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم جس طرح حضور رحمت عالم ﷺ کو نبی و رسول مانتے ہیں ویسے ہی اللہ کے جتنے بھی انبیا و رسل تشریف لائے ان سب پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں، ان میں سے کسی کی بھی تکذیب نہیں کرتے۔ البتہ ہمارے آقا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ا اللہ کے آخری نبی بن کر تشریف لائے اب حضور رحمت عالم ا کے بعد کوئی نیانبی نہیں آئے گا۔ ٭٭٭٭