باب التعجیل الصلوۃ

جلدنمازپڑھنے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک نماز مغرب ہمیشہ اورنمازظہرسردیوں میں جلدی پڑھنا مستحب ہے کہ وقت داخل ہوتے ہی نمازشروع کردی جائے ان دو کے سوا باقی تمام نمازیں کچھ دیر سے پڑھنا مستحب ہیں۔امام صاحب کے نزدیک نمازجلدی پڑھنے کے معنے یہ ہیں کہ وقت شروع ہوتے ہی نماز پڑھ لی جائے دیر نہ لگائی جائے،بعض آئمہ کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ نماز کا وقت آتے ہی پڑھ لی جائے مگرنمازعشاء میں تہائی رات تک دیر لگاناسب کے نزدیک مستحب ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ عشاءکی تاخیراورمغرب میں جلدی یونہی سردیوں میں ظہر کی جلدی پرسب متفق ہیں باقی نمازوں میں اختلاف ہے۔

حدیث نمبر :551

روایت ہے حضرت سیارابن سلامہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والدحضرت ابی برزہ اسلمی کے پاس گئے۲؎ ان سے میرے باپ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کیسے پڑھتے تھے وہ بولے کہ دوپہری کی نماز جسے تم پہلی کہتے ہو تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۳؎ اورعصر پڑھتے پھر ہم میں سے ایک کنارہ مدینہ میں اپنے گھر پہنچ جاتا حالانکہ سورج صاف ہوتا۴؎ اورجوکچھ مغرب کے بارے میں فرمایاوہ میں بھول گیا اورآپ عشاءجسے تم عتمہ کہتے ہواسے دیرسے پڑھنے کوپسندفرماتے تھے۵؎ اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت ناپسند فرماتے تھے ۶؎ اورنمازفجرسے جب فارغ ہوتے جب کہ آدمی اپنے پاس والے کوپہچان لیتاحالانکہ آپ ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۷؎ اورایک روایت میں ہے کہ آپ عشاءکوتہائی رات تک تاخیرکرنے میں پروا نہ کرتے تھے اس سے پہلے سونا اوراس کے بعدبات چیت کرنا ناپسندفرماتے تھے۔(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ مشہورتابعی ہیں،بصری،قبیلۂ بنی تمیم سے ہیں،بہت صحابہ سے ملاقات ہے۔

۲؎ آپ کانام نفلہ ابن عبیدہے،صحابی ہیں،حضورکی وفات کے بعد مسلمان دور دور سے صحابہ کی زیارت کرنے،ان سے مسائل پوچھنےآیا کرتے تھے اس سلسلے میں آپ کی حاضری بھی تھی۔

۳؎ یعنی ظہراول وقت پڑھ لیتے تھے،یہاں سردی کے زمانہ کی ظہرمراد ہے،ورنہ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ حضورنے فرمایاظہرٹھنڈی کروکیونکہ دوپہری کی گرمی دوزخ کی بھڑک سے ہے،لہذا یہ حدیث نہ اگلی حدیث سے متعارض ہے نہ حنفیوں کے خلاف۔

۴؎ یعنی آفتاب ڈوبنے سے قریبًا پچاس منٹ پہلے اور پیلا پڑنے سے آدھا گھنٹہ پہلے عصر پڑھتے تھے،قریبًا دس منٹ میں نماز سے فراغت ہوتی تھی،چالیس منٹ میں انسان بخوبی مدینہ منورہ کے کنارے پہنچ سکتا ہے۔یہ فقیرآدھے گھنٹے میں پیدل مسجدقباءشریف پہنچ جاتاتھا،لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضورایک مثل میں پڑھتے تھے یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔

۵؎ شریعت میں اس نماز کا نام عشاءہے مگر بدوی لوگ عتمہ کہتے ہیں یعنی اونٹنی دوھنے کے وقت کی نماز۔خیال رہے کہ نماز کے وہی نام لینے چاہئیں جو شریعت نے مقرر کئے،ظہرکو پیشی،عصرکو دیگر،مغرب کو شام،اورعشاء کو خفتَاں کہناجیسا کہ پنجاب میں مروج ہے براہے۔یہاں تاخیر سے مرادتہائی رات تک دیر لگاناہے،جیسا کہ دوسری روایات میں ہے۔

۶؎ اس کی شرع پہلے گزر چکی۔بات سے دنیاوی غیرضروری باتیں مراد ہیں یہی مکروہ ہیں،لہذا دینی جلسے،دینی کتب کا مطالعہ عشاء کے بعدمنع نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عشاء کے بعد جلدی سوجاؤ صبح کوجلدی اٹھو۔

۷؎ یعنی فجراتنی جلدی شروع کرتے کہ ساٹھ یاسو آیتیں پڑھ کرفارغ ہونے پر اتنا اجیالا ہوتا کہ ساتھی پہچان لیا جائے،یہ ان لوگوں کی دلیل ہے جن کے نزدیک فجراندھیرے میں پڑھنا مستحب ہے۔امام اعظم کے نزدیک یہ اندھیرا مسجدکاہوتاتھا نہ کہ وقت کاکیونکہ مسجد نبوی بہت گہری ہے ،باہر کی روشنی وہاں بہت دیر میں پہنچتی ہے اور اگر مان لیا جائے کہ یہ وقت کا اندھیرا تھا تو یہ حضور کا خصوصی عمل ہے،فرمان آگے آرہا ہے کہ فرمایا فجر اجالاکرکے پڑھو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے اورجب حضورکے فرمان وعمل شریف میں تعارض معلوم ہو تو فرمان کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ عمل میں احتمال ہے کہ آپ کی خصوصیات میں سے ہو۔خیال رہے کہ ایسی حدیث کوئی نہیں جس میں اندھیرے میں فجر پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو مگر اجیالے کے حکم کی بہت حدیثیں موجودہیں،نیز عام صحابہ فجراجیالے میں ہی پڑھتے تھے۔حضرت علی قمبر سے فرمایا کرتے تھے اے قمبرخوب اجیالاکرو،خوب اجیالاکرو(طحاوی)صدیق اکبرجب فجر سے فارغ ہوتے تو محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب نکلاچاہتا ہے۔(بیہقی)ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کاجیسااتفاق فجروعصرکے اجیالے پرہے ایسا بہت کم مسائل پرہے۔(طحاوی وخسرو)فقیر نے “جاء الحق”حصہ دوم میں اجیالہ فجر کی انتیس ۲۹ احادیث پیش کی ہیں حتی کہ دیلمی کی روایت نقل کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوفجرروشنی میں پڑھے اﷲ اس کی قبراور دل میں روشنی کرے۔