وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖ‌ ؕ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 68

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖ‌ ؕ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب ! ) جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو (طعن تشینع کا) مشغلہ بناتے ہیں تو ان سے اعراض کرو ‘ حتی کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب ! ) جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو (طعن تشینع کا) مشغلہ بناتے ہیں تو ان سے اعراض کرو ‘ حتی کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (الانعام : ٦٨) 

دین میں تفرقہ ڈالنے کی مذمت : 

امام ابو عبدالرحمن بن ادریس رازی بن حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کی آیتوں میں اللہ نے مسلمانوں کو اپنی جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے اور ان کو آپس میں اختلاف کرنے اور تفرقہ سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اس سے پہلے کی قومیں اپنے دین میں اختلاف کرنے اور مناظرے کرنے کی وجہ سے ہلاک اور تباہ و برباد ہوگئیں۔ 

سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے کہ خوض کا معنی ہے تکذیب کرنا ‘ اور یہ آیت مشرکین اور اہل اعداء کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ سدی نے بیان کیا ہے کہ مشرکین جب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کے متعلق بدگوئی کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جب تک وہ کسی اور موضوع پر بات نہ کریں ان کے پاس نہ بیٹھو۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣١٤‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منکروں اور مکذبوں کے اعمال کے ذمہ دار ‘ محافظ اور نگہبان نہیں ہیں۔ آپ کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے اور وقت آنے پر انہیں اپنی تکذیب کا انجام خود معلوم ہوجائے گا اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جب یہ لوگ دین اسلام ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید پر نکتہ چینی کریں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کی مجلس میں نہ بیٹھیں۔ اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب کیا گیا ہے۔ 

اسی طرح جب بدعتی اور گمراہ فرقے اپنی بدعت کی ترویج اور اشاعت کررہے ہوں اور اہل سنت و جماعت کا رد کر رہے ہوں ‘ تو ان کی مجلس سے بھی احتراز کرنا لازم ہے اور گمراہ لوگوں کے ساتھ الفت اور محبت کے ساتھ ملنا جلنا ‘ ربط ضبط بڑھانا بھی جائز نہیں ہے ‘ اور عام مسلمانوں کے لیے ان گمراہ فرقوں کا لٹریچر پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ وہ یہ کتابیں پڑھ کر شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں گے۔ البتہ اہل علم کو ان کی کتابیں پڑھنی چاہئیں اور ان کے شکوک و شبہات کا رد کرنا چاہیے۔ 

شیطان کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نسیان میں مبتلا کرنا ممکن نہیں : 

جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں اور اس پر قوی قرینہ یہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگ کے ساتھ نہ بیٹھو اور یہ بات شرعا محال ہے کہ شیطان کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تسلط ہو اور وہ آپ کو کوئی بات بھلادے ‘ اللہ تعالیٰ شیطان سے فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان الا من اتبعک من الغوین “۔ (الحجر : ٤٢) 

ترجمہ : بیشک میرے خاص بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا۔ البتہ جو تیری پیروی کرے ‘ گمراہوں میں سے۔ 

اور شیطان نے خود بھی اعتراف کیا کہ اللہ کے خاص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چل سکے گا : 

(آیت) ” قال فبعزتک لاغوینھم اجمعین، الا عبادک منھم المخلصین “ ، (ص : ٨٣۔ ٨٢) ۔

شیطان نے کہا پس تیری عزت کی قسم میں ان سب کو ضرور بہکاؤں گا ‘ ماسوا انکے جو ان میں سے تیرے خاص بندے ہیں۔ 

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کون اللہ کا خاص بندہ ہے ‘ پس معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شیطان کا کوئی زور اور غلبہ یا تصرف اور تسلط نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ شیطان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھلا دے ‘ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس آیت میں خطاب سے مراد عام مسلمان ہو ‘ لیکن سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ نے اس کے برعکس ترجمہ کیا ہے ‘ وہ لکھتے ہیں : 

اور اے محمد ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں ‘ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ (تفہیم القرآن ‘ ج ١‘ ص ٥٤٩‘ طبع مارچ ١٩٨٣ ء) 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : 

اور اگر خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول ونبی پر بھی بھول اور نسیان کا اثر ہوجایا کرے تو ان کی تعلیمات پر کیسے اعتماد و اطمینان رہ سکتا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی کسی خاص حکمت و مصلحت کے تحت بھول تو وہ سکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فورا ان کو تنبیہ بذریعہ وحی وہ جاتی ہے ‘ جس سے وہ بھول پر قائم نہیں رہتے۔ اس لیے بالآخر ان کی تعلیمات بھول اور نسیان کے شبہ سے پاک ہوجاتی ہیں۔ (معارف القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٣٧٢۔ ٣٧١‘ طبع جدید ‘ ١٤١٣ ھ) 

شیخ امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں : 

یہاں خطاب اگرچہ واحد کے صیغہ سے ہے ‘ جس کا غالب قرینہ یہی ہے کہ خطاب آنحضرت سے ہو لیکن یہ خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے سے تمام مسلمانوں سے ہے۔ (تدبر قرآن ‘ ج ٣‘ ص ٧٧‘ مطبوعہ فاران فاؤنڈیشن ‘ ١٤٠٩ ھ) 

ہمارے نزدیک اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب نہیں ہے ‘ بلکہ عام مسلمانوں کو خطاب ہے اور اس کا غالب قرینہ یہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں ہے اگر شیطان تمہیں بھلا دے۔ الایہ اور یہ محال ہے کہ شیطان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں وسوسہ اندازی کرے اور کوئی حکم شرعی آپ کو بھلا دے۔ بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ آیت میں آپ کو خطاب ہے لیکن اس سے مراد آپ کی امت ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ (الزمر : ٦٥) 

ترجمہ : اگر (بالفرض) آپ نے (بھی) شرک کیا تو آپ کے سب عمل ضائع ہوجائیں گے۔ 

قرآن اور سنت کی روشنی میں انبیاء (علیہم السلام) کا نسیان :

انبیاء (علیہم السلام) کے نسیان میں بھی کلام کیا گیا ہے۔ 

شیخ ابو جعفر محمد حسن الطوسی المتوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں : 

جبائی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر سہو اور نسیان جائز ہے۔ اس کے برخلاف رافضی یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) پر سہو اور نسیان جائز نہیں ہے۔ جبائی کا یہ قول صحیح نہیں ہے، کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جن امور کو انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کرتے ہیں ان میں سہو اور نسیان جائز نہیں ہے۔ اور جن امور کو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا نہیں کرتے ‘ ان میں سہو اور نسیان جائز ہے۔ اور ان پر سہو اور نسیان کیسے جائز نہیں ہوگا ؟ حالانکہ وہ سوتے ہیں اور بیمار ہوتے ہیں اور ان پر بےہوشی طاری ہوتی ہے اور نیند بھی سہو ہے اور وہ اپنے بہت سے تصرفات میں بھول جاتے ہیں۔ (التبیان ‘ ج ٤‘ ص ١٦٦۔ ١٦٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

جس طرح بشری تقاضے سے اور کئی جسمانی عوارض انبیاء (علیہم السلام) پر طاری ہوتے ہیں ‘ ان پر نسیان بھی طاری ہوتا ہے۔ 

حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فنسی ولم نجدلہ عزما “۔ (طہ : ١١٥) 

ترجمہ : سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا کوئی عزم نہیں پایا۔ 

اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے فرمایا : 

(آیت) ” لا تؤاخذنی بما نسیت “۔ (الکہف : ٧٣) 

ترجمہ : میرے بھولنے کی وجہ سے مجھ سے مواخذہ نہ کریں۔ 

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “۔ (الکہف : ٢٤) 

ترجمہ : اور جب آپ بھول جائیں تو (یاد آتے ہی) اپنے رب کا ذکر کیجئے۔ : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت آدم بھول گئے ‘ سوا ن کی اولاد بھی بھول گئی۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی ‘ اس میں آپ نے کچھ زیادتی یا کمی کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا ‘ نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ آپ نے پوچھا کیوں ؟ صحابہ نے کہا آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے ‘ آپ نے پیر موڑے اور قبلہ کی طرف منہ کیا دو سجدے کیے ‘ پھر سلام پھیر دیا۔ پھر ہماری طرف منہ کرکے فرمایا اگر نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تم کو خبر دیتا ‘ لیکن میں محض تمہاری طرح بشر ہوں ‘ میں اسی طرح بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ‘ پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلایا کرو اور جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو تو وہ صحیح امر پر غور کرے ‘ نماز پوری کرے ‘ پھر (سہو کے) دو سجدے کرلے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠١‘ صحیح مسلم ‘ مساجد ‘ ٨٩‘ (٥٧٢) ١٢٥١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٢٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٤٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢١١) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت ایک شخص کو ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا ‘ تو آپ نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی جس کو میں فلاں فلاں سورت سے بھلا دیا گیا تھا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٣٨‘ صحیح مسلم ‘ صلاۃ المسافرین ‘ ٢٢٤‘ ٧٨٨‘ ١٨٠٦‘ سنن ابوداؤد ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٨٠٠٦‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٣٨٩‘ مسنداحمد ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢١٦‘ طبع دارالحدیث قاہرہ) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو اور نسیان کے متعلق فقہاء اور محدثین کا موقف : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ائمہ نے کہا ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) پر نسیان طاری ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس نسیان پر برقرار نہیں رکھتا ‘ بلکہ ان کو اس پر متنبہ فرما دیتا ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ ان کو علی الفور متنبہ فرماتا ہے یا تاخیر سے۔ قاضی ابوبکر اور اکثر علماء اول الذکر کے قائل ہیں اور ابو المعالی ثانی الذکر کے قائل ہیں۔ علماء کی ایک جماعت نے افعال بلاغیہ اور عبادات شرعیہ میں سہو کو منع کیا ہے اور اقوال تبلیغیہ میں سہو اتفاقا ممنوع ہے اور فرقہ باطنیہ نے یہ کہا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سہو اور نسیان جائز نہیں ہے۔ آپ قصدا اور عمدا نسیان کی صورت طاری کرتے ہیں تاکہ احکام شرعیہ مسنون ہوجائیں ‘ ایک بہت بڑے امام ابو المظفر الاسفرائنی نے بھی اپنی کتاب الاوسط میں یہی لکھا ہے ‘ لیکن یہ نظریہ صحیح نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٧‘ ص ١٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

اس میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہے کہ شیطان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں وسوسے ڈال کر سہو اور نسیان پیدا کرنا محال ہے قاضی عیاض نے کہا ہے ‘ بلاشبہ حق یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی کسی بھی خبر میں غلطی واقع ہونا محال ہے۔ خواہ سہوا یا عمدا تندرستی میں بیماری میں ‘ خوشی میں یا غضب میں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت ‘ آپ نے اقوال اور آپ کے افعال جن کے مجموعہ سے ہر موافق و مخالف ومومن اور منکر واقف ہے ‘ ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی کوئی غلط بات نہیں فرمائی ‘ نہ آپ کو کبھی کسی بات یا کسی کلمہ میں وہم ہوا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ منقول ہوتا جیسا کہ نماز میں آپ کو سہو واقع ہونا منقول ہے۔ البتہ دنیاوی معاملات میں بعض مرتبہ آپ نے اپنی رائے سے رجوع فرمایا جیسے کھجوروں میں پیوندلگانے کا واقعہ ہے۔ (روح المعانی جز ٧ ص ١٨٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو اور نسیان کی بحث میں یہ حدیث بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔ 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں ‘ تاکہ (کسی کام کو) سنت کروں (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

حافظ ابو عمرو یوسف بن عبداللہ ابن البر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : 

آپ کی مراد یہ ہے کہ میں امت کے لیے طریقہ معین کروں کہ وہ سہو کی صورت میں کس طرح عمل کریں اور میرے فعل کی اقتداء کریں۔ (الاستذکار ‘ ج ٤‘ ص ٤٠٢‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

نیز حافظ ابن عبدالبر مالکی لکھتے ہیں : 

امام مالک نے از ابن شہاب ‘ از سعید بن المسیب روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شب خیبر سے واپس ہوئے ‘ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو آپ نے ایک جگہ قیام فرمایا اور حضرت بلال (رض) سے کہا تم صبح تک ہمارا پہرہ دینا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب سو گئے۔ جب تک حضرت بلال (رض) کی تقدیر میں تھا ‘ وہ پہرہ دیتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنی سواری سے ٹیک لگا لی ‘ وہ اس وقت فجر کے مقابل تھے۔ پھر ان کی آنکھوں پر نیند غالب آگئی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے ‘ نہ حضرت بلال (رض) نہ قافلہ کا اور کوئی فرد حتی کہ ان پر دھوپ آگئی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرا گئے۔ پس بلال نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے نفس کو بھی اسی ذات نے پکڑ لیا تھا جس نے آپ کے نفس کو پکڑ لیا تھا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہاں سے کوچ کرو ‘ تو انہوں نے اپنی سواریاں اٹھائیں اور وہاں سے کچھ دور چلے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو نماز کی اقامت کہنے کا حکم دیا ‘ پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی ‘ پھر نماز ادا کرنے کے بعد آپ نے فرمایا جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب اسے یاد آئے وہ نماز پڑھے ‘ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ٢٥) 

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کبھی کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام آدمیوں کی طرح سو جاتے تھے اور بہت کم ہوتا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پوری ہو اور آپ کی امت کے لیے ایک ایسی سنت قائم ہوجائے جو آپ کے بعد باقی رہے اور اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے میں البتہ بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں ‘ تاکہ میں کسی کام کو سنت کروں اور علاء بن خباب کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ ہمیں بیدار کرنا چاہتا تو بیدار کردیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ تمہارے بعد والوں کے لیے یہ سنت ہوجائے اور آپ کے سونے کا جو طبعی ‘ فطری اور معروف طریقہ تھا اور آپ سے پہلے نبیوں کا بھی ‘ وہ یہ ہے کہ جس کو آپ نے خود بیان فرمایا کہ بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ‘ آپ نے اپنے اس معمول کو مطلقا بیان فرمایا ہے اور کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں فرمایا۔ 

ایک اور حدیث میں ہے ہم گروہ انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں اور ہمارے دل نہیں سوتے۔ اس حدیث میں آپ نے یہ خبر دی ہے کہ تمام نبیوں کا یہی معمول ہے ‘ اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا صف مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تم کو اپنے پس پشت بھی دیکھتا ہوں ‘ سو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جبلت ‘ فطرت اور آپ کی عادت ہے۔ باقی رہا سفر میں نماز کے وقت آپ کو سوتے ہوئے رہ جانا تو یہ آپ کی عادت کے خلاف تھا ‘ تاکہ آپ کی امت کے لیے قضاء نماز کی سنت کا عمل قائم ہو اور آپ کی امت کو یہ تعلیم دیں کہ جو شخص نماز کے وقت سوتا رہا ‘ حتی کہ نماز کا وقت نکل گیا ‘ اس پر کیا کرنا واجب ہے اور وہ کس طرح کرے گا اور اس وقت میں آپ کی نیند کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کے لیے تعلیم کا سبب بنادیا۔ (التمہید ج ٦‘ ص ٣٩٣۔ ٣٨٥‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) 

نیز حافظ ابن عبد البرمال کی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صبح کی نماز کے وقت طلوع آفتاب تک سوتے رہنا ‘ یہ وہ امر ہے جو آپ کی عادت اور طبیعت سے خارج ہے ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کا دل نہیں سوتا اور اس وقت آپ کی نیند اس لیے تھی کہ یہ امر سنت ہوجائے اور مسلمانوں کو یہ امر معلوم ہوجائے کہ یہ شخص نماز کے وقت سوتا رہے ‘ یا نماز پڑھنا بھول جائے ‘ حتی کہ نماز کا وقت نکل جائے اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ اور یہ اس قبیل سے ہے کہ آپ نے فرمایا بیشک میں بھول جاتا ہوں یا بھلادیا جاتا ہوں ‘ تاکہ کوئی کام سنت ہوجائے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فطرت اور عادت یہ تھی کہ نیند آپ کے دل کو نہیں ڈھانپتی تھی اور یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ‘ اور یہ حکم عام ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ ہم گروہ انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ (یہ حدیث صحیح ہے ‘ الجامع الصغیر ‘ ج ١ رقم الحدیث : ٢٥٢٦) 

اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو قضاء نماز کا طریقہ تعلیم فرمائے تو اس نے آپ کی روح کو قبض کرلیا اور مسلمان آپ کے ساتھ تھے ‘ ان کی روحوں کو بھی نیند میں قبض فرمایا لیا اور سورج طلوع ہونے کے بعد ان سب کی روحوں کو لوٹا دیا ‘ تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اللہ تعالیٰ ان پر اپنی مراد بیان فرمائے۔ فقہاء اور محدثین نے اس حدیث کی یہی تاویل کی ہے اور یہ بالکل واضح ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا بدعتی ہے۔ (التمہید ج ٥‘ ص ٢٠٩۔ ٢٠٥‘ ملخصا مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) 

نیز حافظ ابن عبد البرمال کی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک از ابن شہاب ‘ از عبدالرحمن اعرج ‘ از عبداللہ بن بحینہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت نماز پڑھائی ‘ پھر آپ بیٹھے بغیر کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ نے پوری نماز پڑھ لی تو ہم آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے ‘ آپ نے اللہ اکبر کہا اور بیٹھ کر سلام سے پہلے دو سجدے کیے ‘ پھر سلام پھیر دیا۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ٢١٨‘ مطبوعہ دارالفکر)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مخلوق میں سے کوئی شخص بھی وہم اور نسیان سے محفوظ نہیں ہے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو نسیان طاری ہوتا ہے ‘ وہ امت کے نسیان کی طرح نہیں ہوتا ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا ہے بیشک میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں ‘ تاکہ (کوئی کام) سنت ہوجائے۔ (التمہید ج ١٠‘ ص ١٨٤۔ ١٨٣‘ ملخصا مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) 

فاسق اور بدعقیدہ سے اجتناب کے متعلق قرآن ‘ سنت اور آثار سے تصریحات : 

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : 

(آیت) ” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “۔ (ھود : ١١٣) 

ترجمہ : اور ظالموں سے میل جول نہ رکھو ‘ ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ‘ ان سے پرہیز کرو۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٤٧‘ سنن ابودؤاد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٩٨‘ کتاب السنہ ‘ ج ١“ رقم الحدیث :‘ ٥) 

امام ابوبکر عمرو ابی عاصم الشیبانی المتوفی ٢٨٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا اے عائشہ ! جو لوگ اپنے دین سے الگ ہوگئے ‘ وہ شیعی (ایک فرقہ) تھے۔ یہ لوگ بدعتی اور اپنی خواہش کے پیروکار تھے اور اس امت کے گمراہ لوگ تھے۔ اے عائشہ ! بدعتی اور خواہش کے پیروکار کے سوا ہر گنہ گار کی توبہ ہے ‘ ان کی کوئی توبہ نہیں ہے۔ میں ان سے بیزار ہوں اور یہ مجھ سے بری ہیں۔ (کتاب السنہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤‘ المعجم الصغیر ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٠‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بدعتی کی تعظیم کرنے کے لیے گیا ‘ اس نے اسلام کو منہدم کرنے پر اعانت کی۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ٢٠‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٨‘ ص ٩٦‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٦‘ ص ٩٦‘ اس کی سند میں بقیہ ضعیف ہے) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو برزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے وہ تمہارے پیٹوں اور شرم گاہوں کی گمراہ کن خواہشیں ہیں اور فتنوں سے گمراہ کرنے والی چیزیں ہیں۔ (مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٤٢٠‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٢‘ ص ٣٢‘ کتاب السنہ ‘ رقم الحدیث : ١٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے۔ اور تم کو ایسی باتیں سنائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے ‘ تم ان سے دور رہنا ‘ وہ تم سے دور رہیں ‘ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (مقدمہ صحیح مسلم ‘ باب ٣‘ حدیث ٢‘ مسند احمد ‘ ج ٨ رقم الحدیث : ٨٥٨٠‘ طبع دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣٤٩‘ طبع قدیم) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

کہ حضرت عمر (رض) نے رکوع کے بعد دعاء قنوت پڑھی اس میں یہ الفاظ تھے جو تیری نافرمانی کرے ‘ ہم اس سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اس کو ترک کرتے ہیں۔ (سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٢‘ ص ٤١١‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منکرین تقدیر اس امت کے مجوس ہیں ‘ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ۔ (سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٤٦٩١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

رضین بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت یوشع بن نون کی طرف وحی کی ‘ میں تمہاری قوم میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نیکو کاروں کو اور ساٹھ ہزار بدکاروں کو ہلاک کرنے والا ہوں حضرت یوشع نے عرض کیا : اے میرے رب ! تو بدکاروں کو تو ہلاک فرمائے گا ؟ نیکوکاروں کو کیوں ہلاک فرمائے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ بدکاروں کے پاس جاتے تھے ‘ ان کے ساتھ کھاتے اور پیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے ان پر غضبناک نہیں ہوتے تھے۔ (شعب الایمان ج ٧ رقم الحدیث : ٩٤٢٨ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٠١ ھ) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی سمرقندی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

ایوب بیان کرتے ہیں کہ ابو قلابہ نے کہا کہ اہل اھواء (بدعتی) کے ساتھ بیٹھونہ ان سے بحث کرو ‘ کیونکہ میں اس سے بےخوف نہیں ہوں کہ وہ تم کو اپنی گمراہی میں ڈبو دیں گے ‘ یا جس دین کو تم پہچانتے ہو اس میں شبہات ڈال دیں گے۔ (سنن الدارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٩١) 

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں نئی باتیں نکالی ہیں (بدعتی ہوگیا ہے) اگر وہ بدعتی ہوگیا ہے تو اس کو میرا سلام نہ کہنا۔ (سنن الدارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٩٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

اس اسماء بن عبید بیان کرتے ہیں کہ بدعتیوں میں سے دو شخص ابن سیرین کے پاس گئے اور کہا اے ابوبکر ! ہم آپ کو ایک حدیث سنائیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا پھر ہم آپ کے سامنے کتاب اللہ سے ایک آیت پڑھیں ‘ انہوں نے کہا نہیں۔ تم یہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ‘ ورنہ میں اٹھ جاؤں گا ‘ سو وہ دونوں چلے گئے۔ کسی نے کہا اے ابوبکر ‘ اگر وہ آپ کو قرآن مجید کی ایک آیت سنا دیتے تو کیا حرج تھا ؟ انہوں نے کہا مجھے یہ خوف تھا کہ وہ میرے سامنے ایک آیت پڑھیں گے ‘ پھر اس میں معنوی تحریف کریں گے ‘ کہیں ان کی بیان کردہ باطل تاویل میرے دل میں بیٹھ نہ جائے۔ (سنن الدارمی ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٩٧‘ مطبوعہ بیروت) 

سلام بن ابی مطیع بیان کرتے ہیں کہ ایک بدعتی نے ایوب سے کہا میں آپ سے ایک بات کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ وہ اٹھ کر چل دیئے اور کہا میں آدھی بات کا بھی جواب نہیں دوں گا۔ (سنن الدارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٩٨) 

ہشام بیان کرتے ہیں کہ حسن اور ابن سیرین نے کہا بدعتیوں کے پاس نہ بیٹھو ‘ نہ ان سے بحث کرو اور نہ انکی باتیں سنو۔ (سنن الدرامی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٤٠١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

اہل بدعت کے مصداق : 

اصحاب الاہواء اور اہل بدعت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین اور عقائد میں ایسی نئی نئی باتیں داخل کردیں جن کی دین میں کوئی اصل نہیں ہے اور وہ دین کے عقائد اور احکام کی مغیر ہیں۔ مثلا رافضیہ جنہوں نے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کا انکار کیا اور ان کو غاصب اور کافر قرار دیا ‘ اور ناصبیہ جنہوں نے اہل بیت رسول کو برا کہا اور ان سے بغض رکھا ‘ اور خارجی ہیں جنہوں نے حضرت علی (رض) اور حضرت معاویہ (رض) دونوں پر لعنت کی اور انکو کافر کہا اور معتزلہ ہیں جنہوں نے تقدیر کا انکار کیا اور ہمارے دور میں منکرین حدیث ہیں جن میں سے بعض مطلقا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور بعض ان احادیث کا انکار کرتے ہیں جو ان کی عقل کے خلاف ہوں ‘ بعض بدعتی ائمہ کی تقلید کو شرک کہتے ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہتے ہیں ‘ بعض بدعتی دعا میں فوت شدہ بزرگوں کے وسیلہ کو ناجائز کہتے ہیں اور بعض لوگ تعین عرفی پر تعیین شرعی کے احکام جاری کرتے ہیں اور کوئی شخص ایصال ثواب کے لیے بغیر وجوب کے بطور استحسان عرفا کسی دن کی تعیین کرے تو اس کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں اور جو مسلمان یارسول اللہ ! کہے ‘ اس کو مشرک کہتے ہیں اور بعض غالی لوگ مزاروں کا طواف کرتے ہیں اور ان کو سجدہ کرتے ہیں۔ 

فاسق اور بدعقیدہ سے اجتناب کے متعلق فقہاء کی تصریحات : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کی مجلس میں بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ ابن خویزمنداد نے کہا جو شخص قرآن مجید کی آیات پر طعن کرے ‘ اس کی مجلس ترک کردی جائے ‘ خواہ وہ مومن ہو یا کافر۔ اسی طرح ہمارے علماء نے دشمن کے علاقہ اور اس کی عبادت گاہوں میں داخل ہونے سے کیا ہے اور کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ ان کے ساتھ دوستی رکھی جائے ‘ نہ ان کی باتیں سنی جائیں اور نہ ان سے مناظرہ کیا جائے۔ فضیل بن عیاض نے کہا جس شخص نے بدعقیدہ سے دوستی رکھی ‘ اللہ اس کے عمل کو ضائع کر دے گا ‘ اور اس کے دل سے اسلام کے نور کو نکال دے گا اور جس نے اپنی بیٹی کی شادی کسی بدعقیدہ سے کی ‘ اس نے اس سے رحم منقطع کردیا اور جو شخص کسی بدعتی کے ساتھ بیٹھا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو حکمت نہیں دے گا اور جب اللہ تعالیٰ نہ جان لیتا ہے کہ فلاں شخص کسی بدعتی سے بغض رکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٤۔ ١٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو سلیمان خطابی متوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

مسلمانوں کے درمیان جو تین دن سے زیادہ قطع کلام کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اس کا محمل یہ ہے کہ وہ دنیاوی معاملات اور معاشرتی وجوہ میں سے کسی وجہ سے ایک دوسرے سے ناراض ہوں اور دین کی وجہ سے جو ناراضگی ہو ‘ وہ دائمی ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اس لیے بدعقیدہ اور بدعتی شخص سے جب تک وہ توبہ نہ کرے ‘ دوستی اور محبت کا کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔ (معالم السنن ‘ ج ٧‘ ص ٥‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

کسی شخص کو ولیمہ میں بلایا گیا اور اس گھر میں لہو ولعب اور گانا بجانا تھا تو وہاں بیٹھ کر کھانا کھالے اور اگر جس جگہ دسترخوان بچھا تھا ‘ وہاں یہ برے کام تھے تو اس کو وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے ‘ بلکہ اٹھ کر چلے جانا چاہیے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ پس یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ (الانعام : ٦٨) اگر وہ ان لوگوں کو منع کرنے پر قادر ہے تو منع کرے ‘ ورنہ صبر کرے۔ اگر وہ لوگوں کا پیشوا ہے اور منع کرنے پر قادر نہیں ہے تو اٹھ کر چلا جائے ‘ کیونکہ اس کے بیٹھے رہنے سے دین کی بدنامی ہوگی۔ (الدر المختار ج ٥ ص ‘ ٢٢١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ اگر دسترخوان پر لوگ ایک دوسرے کی غیبتیں کر رہے ہوں تب بھی اٹھ کر چلا جائے کیونکہ غیبت لہو ولعب سے بڑا گناہ ہے۔ 

نیز علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

کو بوڑھا شخص مذاق کرتا ہو ‘ جھوٹ بولتا ہو ‘ اور بےہودہ باتیں کرتا ہو ‘ اس کو سلام نہ کرے ‘ اور جو شخص لوگوں کو گالیاں دیتا ہو اور اجنبی خواتین کے چہروں کو دیکھتا ہوں اس کو بھی سلام نہ کرے ‘ اور نہ فاسق ملعون کو سلام کرے اور نہ گانے بجانے والے کو سلام کرے اور جو لوگ کسی گناہ میں مشغول ہوں ‘ ان کو بھی سلام نہ کرے۔ (ردالمختار ‘ ج ٥‘ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 68

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.