وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ﳓ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۱۰۱)

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو(ف۲۷۳) اگرتمہیں اندیشہ ہوکہ کافرتمہیں ایذا دیں گے (ف۲۷۴)بے شک کفّار تمھارے کھلے دشمن ہیں

(ف273)

یعنی چار رکعت والی دو رکعت

(ف274)

مسئلہ : خوفِ کفار قصر کے لئے شرط نہیں

حدیث: یعلی بن امیہ نے حصرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں فرمایا اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ جو چیزیں قابل تملیک نہیں ہیں ان کا صدقہ اسقاطِ محض ہے رَد کا احتمال نہیں رکھتا۔ آیت کے نزول کے وقت سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لئے آیت میں اس کا ذکر بیانِ حال ہے شرطِ قصر نہیں حضرت عبداللہ بن عُمَر کی قراء ت بھی دلیل ہے جس میں ” اَنْ یَّفْتِنَکُمْ ” بغیر ” اِنْ خِفْتُمْ ” کے ہے صحابہ کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے اور پوری چار پڑھنے میں اللہ تعالی کے صدقہ کا رَد کرنا لازم آتا ہے لہذاقصر ضروری ہے۔ مدت سفر

مسئلہ :جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی ادنٰی مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں جو مسافت متوسط رفتار سے چلنے والے تین روز میں طے کرتے ہوں اور اس کے سفر میں قصر ہوگا

مسئلہ: مسافر کی جلدی اور دیر کا اعتبار نہیں خواہ وہ تین روز کی مسافت تین گھنٹہ میں طے کرے جب بھی قصر ہوگا اور اگر ایک روز کی مسافت تین روز سے زیادہ میں طے کرے تو قصر نہ ہوگا غرض اعتبار مسافت کا ہے۔

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ- فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآىٕكُمْ ۪- وَ لْتَاْتِ طَآىٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْۚ-وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْۚ-وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۱۰۲)

اور اے محبوب جب تم اُن میں تشریف فرما ہو (ف۲۷۵) پھر نماز میں ان کی امامت کرو (ف۲۷۶) تو چاہیے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو(ف ۲۷۷) اور وہ اپنے ہتھیارلیے رہیں (ف۲۷۸) پھر جب وہ سجدے کرلیں (ف۲۷۹) تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں (ف ۲۸۰) اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی (ف۲۸۱) اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہیے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیےرہیں (ف ۲۸۲) کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اوراپنے اسباب سے غافل ہوجاؤتو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں (ف۲۸۳) اورتم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینہ(بارش) کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو (ف۲۸۴) بے شک اللہ نے کافروں کے لیے خواری(ذلت) کا عذاب تیار کررکھا ہے

(ف275)

یعنی اپنے اصحاب میں ۔

(ف276)

اس میں جماعتِ نمازِ خوف کا بیان ہے

شان نزول: جہاد میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر بجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھابعضوں نے ان میں سے کہا اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو اس وقت حضرت جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ یہ نماز خوف ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ” وَاِذَاکُنْتَ فِیْھِمْ اَلْاٰیَہْ ”

(ف277)

یعنی حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کردیا جائے ایک ان میں سے آپ کے ساتھ رہے آپ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں قائم رہے۔

(ف278)

یعنی جو لوگ دشمن کے مقابل ہوں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر جماعت کے نمازی مراد ہوں تو وہ لوگ ایسے ہتھیار لگائے رہیں جن سے نماز میں کوئی خلل نہ ہو جیسے تلوار خنجر وغیرہ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھنے کا حکم دونوں فریقوں کے لئے ہے اور یہ احتیاط کے قریب ہے۔

(ف279)

یعنی دونوں سجدے کرکے رکعت پوری کرلیں۔

(ف280)

تاکہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوسکیں۔

(ف281)

اور اب تک دشمن کے مقابل تھی۔

(ف282)

پناہ سے زِرہ وغیرہ ایسی چیزیں مراد ہیں جن سے دشمن کے حملے سے بچا جاسکے ان کا ساتھ رکھنا بہرحال واجب ہے جیسا کہ قریب ہی ارشاد ہوگا ” وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ ” اور ہتھیار ساتھ رکھنا مستحب ہے نمازِ خوف کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ پہلی جماعت امام کے ساتھ ایک رکعت پوری کرکے دشمن کے مقابل جائے اور دوسری جماعت جو دشمن کے مقابل کھڑی تھی وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت پڑھے پھر فقط امام سلام پھیرے اور پہلی جماعت آکر دوسری رکعت بغیر قراء ت کے پڑھے اور سلام پھیر دے اور دشمن کے مقابل چلی جائے پھر دوسری جماعت اپنی جگہ آکر ایک رکعت جوباقی رہی تھی اس کو قراء ت کےساتھ پورا کرکے سلام پھیر ے کیونکہ یہ لوگ مسبوق ہیں اور پہلی لاحق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی طرح نماز خوف ادا فرمانا مروی ہے ۔ حضور کے بعد بھی نماز خوف صحابہ پڑھتے رہے ہیں حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کس قدر ضروری ہے

مسائل: حالت سفر میں اگرصورتِ خوف پیش آئے تو اس کا یہ بیان ہوا لیکن اگر مقیم کو ایسی حالت پیش آئے تو وہ چار رکعت والی نمازوں میں ہر ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائے اور تین رکعت والی نماز میں پہلی جماعت کو دو رکعت اور دوسری کو ایک ۔

(ف283)

شان نزول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرِقاع سے جب فارغ ہوئے اور دشمن کے بہت آدمیوں کو گرفتار کیا اور اموال غنیمت ہاتھ آئے اور کوئی دشمن مقابل باقی نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں تنہا تشریف لے گئے تو دشمن کی جماعت میں سے حُوَیرَثۡ بن حارث مُحاربی یہ خبر پا کر تلوار لئے ہوئے چُھپا چُھپا پہاڑ سے اترا اور اچانک حضرت کے پاس پہنچا اور تلوار کھینچ کر کہنے لگا یامحمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا حضور نے فرمایا اللہ تعالی اور دعا فرمائی جب ہی اس نے حضور پر تلوار چلانے کا ارادہ کیا اوندھے منھ گر پڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی حضور نے وہ تلوار لے کر فرمایا کہ تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا کہنے لگا میرا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ فرمایا ” اَشْھَدُاَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اَللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ” پڑھ تو تیری تلوار تجھے دے دوں گا اس نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میں کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور زندگی بھر آپ کے کسی دشمن کی مدد نہ کروں گا آپ نے اس کی تلوار اس کو دے دی کہنے لگا یا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھ سے بہت بہتر ہیں فرمایا ہاں ہمارے لئے یہی سزاوار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہتھیار اور بچاؤ ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(احمدی)

(ف284)

کہ اس کا ساتھ رکھنا ہمیشہ ضروری ہے

شان نزول: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے اور اس وقت ہتھیار رکھنا ان کے لئے بہت تکلیف اور بار تھا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حالت عذر میں ہتھیار کھول رکھنے کی اجازت دی گئی۔

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْۚ-فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَۚ-اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)

پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے (ف۲۸۵) پھر جب مطمئن ہوجاؤ تو حسبِ دستور نماز قائم کرو بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے (ف۲۸۶)

(ف285)

یعنی ذکر الہٰی کی ہر حال میں مداومت کرو اور کسی حال میں اللہ کے ذکر سے غافل نہ رہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالی نے ہر فرض کی ایک حد مُعَیّن فرمائی سوائے ذِکر کے اس کی کوئی حد نہ رکھی فرمایا ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے رات میں ہو یا دن میں خشکی میں ہو یا تری میں سفر میں اور حضر میں غناء میں اور فقر میں تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر

مسئلہ: اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے

مسئلہ: ذکر میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، ثناء، دعا سب داخل ہیں ۔

(ف286)

تو لازم ہے کہ اس کے اوقات کی رعایت کی جائے۔

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِؕ-اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَۚ-وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠(۱۰۴)

اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(ف۲۸۷)

(ف287)

شان نزول احد کی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صحابۂ اُحد میں حاضر ہوئے تھے اُنہیں مشرکین کے تعاقب میں جانے کا حکم دیا اصحاب زخمی تھے انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔