نماز کاپہلا فرض :- تکبیر تحریمہ

حقیقتہً یہ شرائط نماز سے ہے مگر چونکہ افعال نماز سے اس کو بہت زیادہ اتصال ہے اس وجہ سے اس کاشمار نماز کے فرائص میںبھی ہوا ہے ۔

تکبیرتحریمہ یعنی ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہہ کر نماز شروع کرنا ۔ حالانکہ نماز کے دیگر ارکان کی ادائیگی اور انتقا ل کے وقت بھی’’ اللہ اکبر ‘‘ کہا جاتاہے لیکن صرف نماز شروع کرنے کے وقت جو ’’ اللہ اکبر‘‘ کہا جاتا ہے وہی تکبیر تحریمہ ہے اور وہ فرض ہے ۔ اس کو چھوڑنے سے نماز نہ ہوگی ۔

نماز کے دیگر ارکان کی ادائیگی کے وقت جو ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہا جاتا ہے اسے تکبیر انتقال کہتے ہیں۔

نماز کے تمام شرائط یعنی طہارت ، ستر عورت ، استقبال قبلہ ، وقت اور نیت کاتکبیر تحریمہ کہنے کے پہلے پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ’’اللہ اکبر ‘‘ کہہ چکا اور کوئی شرط مفقود ہے تو نماز قائم ہی نہ ہوگی ( در مختار ، رد المحتار)

تکبیر تحریمہ کے تعلق سے اہم مسائل :-

مسئلہ:جن نمازوں میں قیام فر ض ہے اس میں تکبیر تحریمہ کے لئے بھی قیام فرض ہے ۔اگر کسی نے بیٹھ کر ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہا پھر کھڑا ہوگیا تو اس کی نماز شروع ہی نہ ہوئی ( در مختار ، عالمگیری )

مسئلہ:امام کو رکوع میں پایا اور مقتدی تکبیر تحریمہ کہتاہوا رکوع میںگیا اور تکبیر تحریمہ اس وقت ختم کی کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائے تو اس کی نماز نہ ہوئی۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ:بعض لوگ امام کو رکوع میں پالینے کی غرض سے جلدی جلدی میں رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہتے ہیں اور جھکنے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔ ان کی نماز نہیں ہوتی ۔ ان کواپنی نماز پھر دوبارہ پڑھنی چاہئے ۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۳)

مسئلہ:مقتدی نے لفظ ’’ اللہ ‘‘ اما م کے ساتھ کہا مگر لفظ ’’ اکبر ‘‘ کو امام سے پہلے ختم کرچکا تو اس مقتدی کی نماز نہ ہوئی ۔( درمختار)

مسئلہ:نفل نماز کے لئے تکبیر تحریمہ رکوع میںکہی تو نماز نہ ہوئی اور اگر بیٹھ کر کہی تو ہوگئی ۔ (ردالمحتار )

مسئلہ:جو شخص تکبیر کے تلفظ پر قادر نہ ہو مثلاً گونگا ہو یا اور کسی وجہ سے زبان بند ہوگئی اس پر تلفظ واجب نہیں ۔ دل میں ارادہ کافی ہے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:پہلی رکعت کا رکوع مل گیا تو تکبیر اولیٰ یعنی تکبیر تحریمہ کی فضیلت مل گئی ( عالمگیری)

مسئلہ:تکبیر تحریمہ میں لفظ ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:تکبیر تحریمہ کے لئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا سنت ہے ۔( بہار شریعت )

مسئلہ:تکبیر تحریمہ میں ہاتھ اٹھاتے وقت انگلیوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے یعنی انگلیوں کو بالکل ملانا بھی نہ چاہئے اور بہ تکلف کشادہ بھی نہ رکھنا چاہئے اور یہ سنت طریقہ ہے ۔ (بہار شریعت )

مسئلہ:تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہتھیلیوں اور انگلیوں کے پیٹ قبلہ رو ہونا سنت ہے (بہارشریعت)

مسئلہ:دونوں ہاتھوں کو تکبیر سے پہلے اٹھاناسنت ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:تکبیر تحریمہ کے وقت سر نہ جھکانا بلکہ سیدھارکھنا سنّت ہے ۔

مسئلہ:عورت کے لئے سنت ہے کہ تکبیر تحریمہ میں ہاتھ صرف مونڈھوںتک اٹھائے ۔ (ردالمحتار)

مسئلہ:تکبیر تحریمہ کے بعد فوراً ہاتھ باندھ لیناسنت ہے ۔ ہاتھ کولٹکانا نہیں چاہئے بلکہ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد فوراً دونوں ہاتھوںکو کان سے ہٹاکرناف کے نیچے باندھ لینا چاہئے۔ (بہار شریعت )

نوٹ :- بعض لوگ تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکاتے ہیں پھر ہاتھ باندھتے ہیں ۔ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔

مسئلہ:امام کاتکبیر تحریمہ اور تکبیر انتقال بلند آواز سے کہناسنت ہے ( ردالمحتار)

مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے صرف ایک ہاتھ ہی کان تک اٹھاسکتاہے تو ایک ہاتھ ہی کان تک اٹھائے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:مقتدی اور اکیلے پڑھنے والے کو تکبیر تحریمہ جہر ( بلند آواز)سے کہنے کی ضرورت نہیں صرف اتنی آواز ضروری ہے کہ خود سنیں ( در مختار، بحر)

مسئلہ: تکیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھاناسنت موکدہ ہے ۔ہاتھ اٹھانا ترک کرنے کی عادت سے گنہگار ہوگا ۔تکبیر تحریمہ میں ہاتھ نہ اٹھانے سے نماز مکروہ ہوگی۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ۱ ، ص ۱۷۶)

مسئلہ:اگر امام تکبیر انتقال یعنی ’’ اللہ اکبر ‘‘ بلند آواز سے کہنا بھول گیا اور آہستہ کہا تو سنت کاترک ہوا ۔کیوںکہ اللہ اکبر پورا بآواز کہناسنت ہے ۔نماز میں کراہت تنزیہی آئی مگر نماز ہوگئی ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۴۷)