مہمانِ مد ینہ

مجھ کو طیبہ بلا ہی لیتے ہیں

اپنا منگتا بنا ہی لیتے ہیں

میرے حالات ان پہ ہیں روشن

تب تو بگڑی بنا ہی دیتے ہیں

کوئی حسنِ عمل نہیں پھر بھی

میرے آقا نبھا ہی لیتے ہیں

جب تڑپتا ہے دید کو کوئی

اپنا جلوہ دکھا ہی دیتے ہیں

اپنے شاکرؔ کی لاج رکھتے ہیں

اپنا مہماں بنا ہی لیتے ہیں