سلطانِ دو جہاں

آیا ہوں بن کے سائل سلطانِ دو جہاں

رحمت ہو پھر سے مائل سلطانِ دو جہاں

عز و وقار دے دو اسلام و مسلمیں کو

مٹ جائیں سارے باطل سلطانِ دو جہاں

بے کس ہوں نا توں ہوں، در پر میں آگیا ہوں

مومن بنا دو کامل سلطانِ دو جہاں

موجوں میں رنج و غم کے کشتی میری پھنسی ہے

مجھ کو عطا ہو ساحل سلطانِ دو جہاں

اپنی وِلا میں مجھ کو ایسا گُما دو آقا

خود سے رہوں میں غافل سلطانِ دو جہاں

دنیا کے شر سے مجھ کو بہرِ خدا بچالو

دامن میں کر لو داخل سلطانِ دو جہاں

بن کے گدا ہوں حاضر نظرِ کرم ہو ناظر

دیدار اب ہو حاصل سلطانِ دو جہاں

جملہ مبلغیں کو خیراتِ علم دے دو

سنت کے سب ہوں عامل سلطانِ دو جہاں

تحریک سُنی دعوتْ اسلامی کو ہمیشہ

نظروں میں کر لو شامل سلطانِ دو جہاں

شیخین کا تصدق علمِ لدُنی دے دو

خشیت ہو رب کی حاصل سلطانِ دو جہاں

در پہ بلاتے رہنا، بگڑی بناتے رہنا

عزت رہے یہ حاصل سلطانِ دوجہاں

گِریاں ہے قلبِ شاکرؔ کر دو کرم بھی وافر

اپنوں میں کر لو شامل سلطانِ دو جہاں