قومِ یہود(اسرائیلیوں) کے حالات:

حضرت یعقوب علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کے صاحبزادے یہودا کی اولاد ہی در اصل یہودہے، لیکن اب جو یہود بولا جاتا ہے تو اس سے مراد بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دورِ نبوت ہی میں یہودی بت پرستی اور بے دینی میں ملوث ہو گئے تھے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط فرمایا، اس نے ان کو ختم کرنا اور طرح طرح کی ایذائیں دینا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سے یہ مسلسل قید و بند، جلا وطنی، غلامی اور مظلومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ جب قسطنطین اول نے عیسائی مذہب کو اختیار کیااس کے بعد سے ان کی حالت بد سے بد تر ہوگئی۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں نام کو بھی ان کی سلطنت باقی نہ رہ گئی تھی اور انہیں بحیثیت قوم کہیں تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، کسی بھی ملک میں انہیں آزاد شہریوں کی طرح زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں تھا ’’مَلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ‘‘ کے مطابق دنیا میں ہر جگہ وہ ذلت و رسوائی کی زندگی گزار رہے تھے، دینی ابتری کا یہ عالم تھا کہ کئی فرقوں میں بٹ چکے تھے۔

حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کے عہد پاک سے لے کر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے دورِ نبوت تک جتنے انبیائے کرام اور رسولانِ عظام تشریف لائے یہ ان سب کی تکذیب اور ان کی ایذا رسانی میں ہمیشہ مصروف رہے۔ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ کتابوں کا نہ صرف انکار کیا بلکہ ان میں تبدیلی و تحریف کے جرم عظیم کے مرتکب ہوئے۔ ان کے درمیان رہنمائی کے لئے حقیقتاً اللہ کی کوئی کتاب تو نہ رہ گئی تھی اس لئے وہ اپنے احبار (پیشوائوں) کی من گھڑت خبروں اور ان کے خود ساختہ فتووں ہی پر اعتبار کرتے تھے۔ وہ جو حرام کہتے اسے حرام سمجھتے اور جسے حلال بتاتے اسے حلال سمجھتے۔مُردار خوری، سودی لین دین اور دیگر محرماتِ الٰہیہ کا اعلانیہ ارتکاب کرتے۔ اسے قرآنِ مقدس نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔

وَ اَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُہُوْا عَنْہُ وَ اَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِط وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًاo اور (ان پر لعنت کی) اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کئے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (سورۂ نسا، آیت:۱۶۱)

ان کے انہیں تمام اعمالِ قبیحہ اور گناہائے کبیرہ کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلت و خواری کے دردناک عذاب میں مبتلا فرمادیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لئے پے در پے انبیا و رسل بھیجے لیکن ان اسرائیلیوں نے نہ کبھی ان کی تعظیم کی نہ ہی ان کی امداد و تعاون کیا بلکہ کئی انبیائے کرام مثلاً حضرت زکریا، حضرت یحییٰ و حضرت شعیا وغیرہم علیہم السلام کو نا حق قتل بھی کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی اس بد ترین تاریخ کو یوں بیان فرماتا ہے: وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الْمَسْکَنَۃُ وَبَآئُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْرِ الْحَقِّط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَo اور ان پر مقرر کر دی گئی خواری اور ناداری اور خدا کے غضب میں لوٹے۔ یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیا کو ناحق شہید کرتے۔ یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔ (سورۂ بقرہ،آیت:۶۱)

حضور رحمتِ عالم ﷺ کی بعثت تک وہ انہیں تمام بداعمالیوں اور گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ پھر حضور محسنِ انسانیت ﷺ نے اس گمراہ اور بداعمال قوم کی اصلاح کا ارادہ فرمایا اور یہ چاہا کہ یہ قوم بھی دیگر اقوام کی طرح باعزت ہو جائے۔ اسی خیال سے حضور رحمتِ عالم ا نے مدینہ پہنچتے ہی ان سے معاہدہ فرماکر مساویانہ معاشرتی حقوق سے انہیں سرفراز فرمایا اور شریعتِ مطہرہ کے احکام کو پیش کرکے ان کے عقیدوں کی اصلاح فرمائی اور افراطِ دینی کا بوجھ ان کے کاندھوں سے دور فرمایا۔