خدائے جل وعلا نے انسان کی آفرینش سے قبل ہی کائنات کی تمام اشیاء کو وجود بخشا، زمین وآسمان بنائے، چاند سورج ،لیل ونہار کی تخلیق کی ،شجروحجر بحر وبر، انسان کی پیدائش سے پہلے بنائے گئے گویا اس دنیا میں انسان کی آمد سے قبل ساری چیزوں کا انتظام وانصرام کیا جاچکا تھا اور ساری چیزوں کو انسان کے لئے مسخر کردیا گیا مگر انسان کو کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ؟رب قدیر نے خود اس کی وضا حت فرمادی ہے : ’’وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون ‘‘یعنی میں نے انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کے پیدا کیا ہے ۔

آیت مذکورہ سے اتنی بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد ومنشاء عبادت خدا وندی ہے ظاہر سی بات ہے کہ اگر کوئی کم فہم عبادت سے صرف نماز مراد لے تو انسان کے لئے بڑی دشواریاں اور تکلیف مالا یطاق لازم آئے گی کیوں کہ کسی انسان کا ہمہ وقت مصروف نماز رہنا خارج از امکان بات ہے لہٰذا اس کی نفیس تشریح علماء ومفسرین نے یوں بیان فرمائی ہے کہ اگر انسان حدود شرع میں رہ کر اپنی بیوی بچوں کے حقوق ادا کررہا ہو ،تجارت میں مشغول ہو یا بستر استراحت پہ آرام کررہا ہو تو بھی وہ عبادت میں شمار کیا جائے گا ۔ اور اس طور پر مفہوم آیت پر مکمل عمل پیراہوسکتا ہے ۔

لیکن حدیث رسولﷺ کے مطابق تمام عبادتوں میں اہم اور افضل نماز ہے ،نماز تمام عبادتوں کا سر چشمہ ہے ،قرب خدا وندی کا ایک زینہ ہے ،حق وباطل اسلام اور کفر کے درمیان خط امتیاز ہے۔آقائے کونینﷺ نے اسی عبادت کو بندئہ مومن کی معراج قرار دیا ہے یوں تو نماز کی افضیلت واہمیت اور افادیت کے تعلق سے اس قدرتفصیل موجود ہے کہ اس کے بیان کے لئے دفاتر ناکافی ہوجائیں ہم سب سے پہلے نماز کے لغوی اور اصطلاحی تعریف پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس سے نماز کی حقیقت اجاگر ہوجائے ۔

نماز کو عربی میں صلوٰۃ کہا جاتا ہے جس کا مادہ ص،ل،و ہے اور صلو کا معنیٰ ’’پیچھے چلنا ،مکمل اتباع کرنا‘‘ہے عرب میں ’’صلی الفرس تصلیۃ‘‘ اس وقت کہا جاتا ہے جب گھوڑ دوڑ میں ایک گھوڑا ایسے دوڑ رہا ہو کہ اس کے کان اگلے گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں سے مل رہے ہو ں، آگے جانے والے گھوڑے کو سابق کہتے ہیں اور پیچھے دوڑنے والے کو مصلی کہا جاتا ہے گویا صلوٰۃ کا معنی پیچھے پیچھے چلنا ہے اسی طرح اس کے لغوی معنی کی وضاحت کرتے ہوئے تاج العروس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے :’’سبق رسول اللہا وصلی ابو بکر رضی اللہ عنہ ‘‘ یعنی رسول اللہ ا پہلے تشریف لے گئے اور آپ کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی چلے گئے مختصر یہ کہ صلوٰۃ کا مکمل مفہوم اطاعت وفرمابرداری اور اتباع ہی ہے ۔

مگر شریعت کی اصطلاح میں نماز اس خاص عبادت کو کہا جاتا ہے جو سرکارﷺ کو معراج کی شب میں عطا کی گئی جس کا ادا کرنا ہر عاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے یہ ایک ایسا عظیم فرض ہے کہ سوائے چند مخصوص حالتوں کے کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے اگر کوئی قصدا فرض نماز کو چھوڑے تو وہ گنہگار اور فاسق ہے اور اگر اس کا انکار کردے تو کافر ہی ہوجائے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث کریمہ میں اس قدر نماز کی اہمیت بیان کی گئی ہے جوکہ محتاج بیان نہیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا نماز کی سخت تاکید فرمائی ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس حکم سے لگا جاسکتا ہے کہ اگر جنگ کا میدان ہو اور گھمسان کی جنگ ہورہی ہو تو بھی نماز ترک کرنے کی اجازت نہیں یہاں تک کہ سارے لشکر کو اگر کچھ بھی فرصت نہ مل رہی ہو تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایاہے ’’واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیأخذ وااسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورائکم ولتاتِ طائفۃ اخریٰ لم یصلوا فلیصلوا معک ولیأخذوا حذرھم واسلحتھم ‘‘

ترجمہ:اور اے محبوب جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہییٔ کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار ساتھ لئے رہیں پھر جب وہ سجدہ کریں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہییٔ کہ وہ بھی اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار ساتھ لئے رہیں ۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ نماز ایسا فریضہ ہے جو تلواروں کی چھائوں اور رزم وپیکار کے ہنگاموں میں بھی معاف نہیں ہوتا۔

نمازکے فضائل بے شمار ہیں خود آقائے کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔غور کریں کہ آقا نے کسی دوسری عبادت کے لئے اس طرح ارشاد نہیں فرمایا کسی حدیث میں قرۃ عینی فی الحج یا فی الصوم یا فی الزکوٰۃ نہیں فرمایا اس کی وجہ محدثین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ حج سال میں ایک مرتبہ کیا جاتا ہے اور روزے سال میں ایک مرتبہ رکھے جاتے ہیں ،زکوٰۃ بھی سال میں ایک مرتبہ فرض ہے مگر نماز ہر وقت ہر لمحہ ساری دنیا میں کہیں نہ کہیں پڑھی جاتی رہے گی ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :’’واقم الصلوٰۃ ان الصلوٰۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر‘‘نماز قائم کرو بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے منع کرتی ہے ۔اس لئے کہ اگر یہ خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کی جائے تو اس کے ذریعہ دل میںخوف خدا کا جذبۂ بیکراں پیدا ہو جاتاہے جو کہ برائیوں سے بچنے کا بہترین ہتھیار ہے۔

اللہ رب العزت نے نمازی کو بہت بڑے اجر کا مژدہ سنایا ہے چنانچہ ارشاد ہے ’’ان الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات واقاموا الصلوٰۃ واتواالزکوٰۃ لھم اجر ھم عند ربھم و لا ھم یحزنون‘‘ بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور نماز قائم کئے اور زکوٰۃ اد اکئے تو ان کے لئے ان کااجر پروردگار عالم کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ خوف اور نہ کچھ غم ۔

مذکورہ آیت کریمہ میںان ایمان والوں کو بڑی خوش خبری دی جارہی ہے جو نماز اور زکوٰۃ کے پابند ہیں اس لئے کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو کہ دل سے ہر طرح کے خوف وہراس کو ختم کردیتی ہیں اور خوف یا تو دردناک موت کا ہوگا یا عذاب ِ قبرو حشر کا یا جہنم کا خوف ہوگا اس لئے کہ اکثر جہنمی بے نماز ہی ہوگے ۔جیسا کہ قرآن مقدس میں ارشاد خداوندی ہے’’ ماسلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین‘‘ جب ان سے پوچھا جائے گا تم کوکس چیز نے جہنم میں ڈال دیاوہ بولیںگے ہم بے نمازی تھے مگر وہ جو نماز کا پابند ہوگا ہر قسم کے خوف اور ڈر سے محفوظ رہے گا ۔

ایک اور مقام پر پروردگار عالم کا ارشاد ہے ۔

’’اقم الصلوٰۃ طرفی النہار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیات ذلک ذکری للذاکرین ‘‘

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کنارو ں اور رات کے کچھ حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے ۔اس سے مرا د پنج وقتہ نمازیں ہیں جن کو پڑھنے سے یقینا ایک مسلمان گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔

یہ وہ آیات قرآنیہ واحادیث کریمہ تھیں جس سے نماز کی عظمت واہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ کچھ اور احادیث رسول ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں تاکہ آپ کوتحفۂ معراج ’’ نماز ‘‘ کی عظمت و اہمیت باحسن طریق معلوم ہوسکے۔ مدنی تاجدار ارشاد فرماتے ہیں ’’لکل شئی علم وعلم الایمان الصلوٰۃ‘‘ ہر چیز کی کوئی علامت ہوتی ہے ایمان کی علامت نماز ہے اس لئے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو ایک مسلمان کو کافر سے ممتاز کردیتی ہے ۔

دوسری حدیث پاک میں ہے نماز کفر اور اسلام کے درمیان ایک پیوند ہے ۔ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :الصلوٰۃ عماد الدین من اقامھا فقد اقام الدین ومن ترکھا فقد ھدم الدین یعنی نماز دین کا ستون ہے جس نے اس کو قائم کیا اس نے دین کو باقی رکھا اور جو اس کو ترک کیا تو اس نے دین کو منہدم کردیا ۔

اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسالتمآب ا سے پوچھا ’’ای الاعمال احب الی اللہ تعالیٰ‘‘اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے ؟تو سرکار ا نے ارشاد فرمایا’’ الصلوٰۃ علیٰ وقتھا ‘‘نماز کو وقت نماز پر ادا کرنا یہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے کہ ایک بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے مولیٰ سے جتنا قریب ہوتا ہے کسی اور حالت میں نہیں ہوتا ،اور جیسے ہی ایک بندئہ مومن نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے پروردگار عالم اس کے گناہوں کی مغفرت شروع فرمادیتا ہے خود سرور کونین ا نے ارشاد فرمایا ’’واذا کبر العبد للصلوٰۃ یقول اللہ تعالیٰ للملائکۃ ارفعوا ذنوب عبدی عن رقبتہ حتی یعبدنی طاھرا فتاخذ الملائکۃ الذنوب کلھا فاذا فرغ العبد عن الصلوٰۃ تقول الملائکۃیاربنا انعیدھا علیہ فیقول اللہ تعالیٰ یا ملائکتی لایلیق بکرمی الاالعفو وقد غفرت خطایاہ ‘‘

جب بندئہ مومن نماز کے لئے تکبیر کہتا ہے تو اللہ عزوجل ملائکہ سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کے تمام گناہوں کو اس کی گردن سے اوپر اٹھا لو تاکہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر میری عبادت کرے تو ملائکہ اس کے تمام گناہوں کو اٹھالیتے ہیں پھر جب بندئہ مومن نماز سے فارغ ہوجاتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں کیا ہم اس کے گناہ اس پر ڈال دیں ؟ تورب ذو الجلال فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میری شان کرم نوازی تو یہ ہے کہ میں گناہوں کو معاف کردوں، بے شک میں نے اس کے تمام گناہ بخش دیئے ۔

سبحان اللہ! کس قدر مہربان ہے پروردگار عالم کہ اگر کوئی پانچ وقت پابندی سے نماز ادا کرے یقینا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وعقبیٰ میں کامیاب وکامران رکھے گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ کوئی بھی مصیبت یا تکلیف درپیش ہو تو اس کا سب سے بہترین علاج نماز ہے ،جیسا کہ سرکارﷺ کی عادت کریمہ تھی حدیث مبارک میں ہے ’’اذا حزبہ امر فزع الی الصلاۃ ‘‘ جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آقائے کریم ا نماز کی طرف رجوع فرماتے۔

آج جب انسان پریشان ہوتا ہے تو سکون دل کے لئے سنیما ہال ، غلط کاری ،شراب خانے،اور عیاشی کے اڈوں پر جاتا ہے اسے یہ معلوم نہیں کہ یہ سب دل کو سکون نہیں بلکہ بیقراری اور بے چینی دیتے ہیں۔ سکون واطمینان تو خدا کی عبادت میں ہے الا بذکر االلہ تطمئن القلوب بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے اور نماز پروردگار عالم کا سب سے بہترین ذکر ہے ۔

جہاں نماز کے اخروی فوائد بہت ہیں وہیں دنیوی فوائد بھی بے شمار ہیں ،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نماز میں رکوع سجدہ اور قعدہ کی جو کیفیت ہے یہ ایسی ورزش ہے کہ اگر روزانہ کوئی پابندی سے اسی طرح کرتا رہے تو کبھی وہ دل کا مریض نہیں ہوگا ۔

بے شمار اخروی ودنیوی فوائد کے ہوتے ہوئے بھی آج کا مسلمان نماز سے کتنا غافل ہے ،ایک جائزہ کے مطابق دنیا میں پچیس فیصد مسلمان نماز پڑھتے ہیں بقیہ پچہتر فیصد نماز سے غافل ہیں ان پچیس فیصد میں بھی اکثر کا عالم یہ ہے کہ نماز میں اللہ اکبر کہنے سے سلام پھیرنے تک اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں ۔یہ ہے ہماری نمازوں کا حال ایسے ہی موقع کے لئے اللہ کے رسول تاجدار مدینہ ﷺ کافرمان ذیشان ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ نماز پڑھنے کے باوجود بھی نمازی نہ رہیں گے ۔

دوسری روایت میں ہے کہ جو نماز خشوع وخضوع کے ساتھ ادا نہیں کی جاتی وہ نماز اس کے منھ پر پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر ماردی جاتی ہے ۔

قارئین کرام! یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم نماز پڑھیں پھر وہ نماز ہمارے منھ پر ماردی جائے ،آج ہم نماز کے فیضان سے محروم ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نماز کو کماحقہ ادا نہیں کرتے اوراس کے آداب ظاہری وباطنی کا خیال نہیں رکھتے ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ ہم نماز کی برکتوں اور سعادتوں سے محروم رہتے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقہ میں صحیح نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اللھم اعنا علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک