نـمـاز کا تیسرا فــرض :- قرأت

نـمـاز کاتـیـسـرا فــرض :- قرأت

 یعنی قرآن مجید کا اس طرح پڑھنا کہ تمام حروف اپنے مخرج سے صحیح طور سے ادا کئے جائیںکہ ہر حرف اپنے غیر سے صحیح طور سے ممتاز ہوجائے ۔مثلاً حرف ، ج ، ذ ، ز ، ض ، اور ظ اپنے اپنے مخرج سے اس طرح صحیح ادا ہوں کہ سننے والا امتیاز کرسکے کہ کون سا حرف پڑھاگیا ہے ۔ ( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۰۴ و ۱۱۱ )

آہستہ پڑھنے میں ضروری ہے کہ اتنی آواز سے پڑھے کہ خود کو سننے میں آئے ۔ اگر کوئی مانع یعنی قریب میں کسی قسم کا کوئی شور وغل نہیں یا اسے ثقل سماعت (بہراپن) نہیں اور اتنی دھیمی آواز سے قرأت کی کہ خود کوبھی سننے میںنہ آیا تو اس کی نماز نہ ہوگی ( عالمگیری)

 قرأت فرض ہونے سے مراد مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتو ںمیں اور وتر ، سنت و نوافل کی ہر رکعت میں امام و منفرد پر فر ض ہے ۔ (عامۂ کتب ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص۱۲۲-۱۳۲)

 ایک چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زائد کلمات ہوں پڑھ لینے سے فر ض ادا ہوجائے گا اور اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے ص ؔ ، نؔ، ق ؔ تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا اگرچہ اس کو بار بار پڑھے ۔ ( عالمگیری ، رد المحتار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۱۳۱)

 قرآن شریف پڑھنے میں تجوید ضروری ہے اور اتنی تجوید کم از کم کہ حروف صحیح ادا ہوں اور غلط پڑھنے سے بچے فرض عین ہے ۔ (بزازیہ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۰)

 صحت نماز کے لئے فن تجوید جاننا ضروری نہیں البتہ حروف صحیح ادا ہونا ضروری ہے ۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سن سن کر صحیح پڑھتے ہیں ۔ اگرا ن سے حروف کے مخارج کے متعلق پوچھا جائے تو مخارج نہیں بتاسکتے حالانکہ وہ صحیح طور پر قرآن پڑھتے ہیں۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۸)

فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور وتر ، سنت و نفل کی ہر رکعت میں مطلقاً ایک آیت کا پڑھنا امام اور منفرد پر فرض ہے ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۷۱)

فرض کی کسی رکعت میں قرأت نہ کی یا صرف ایک ہی رکعت میں قرأت کی تو نماز فاسد ہوگئی ۔ ( عالمگیری، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۷۰)

قرأت کے متلعق اہم مسائل :-

مسئلہ:سورہ ٔ فاتحہ پوری پڑھنا یعنی اس کے ساتوں آیتیں مستقل پڑھنا واجب ہے ۔ سورہ ٔ فاتحہ میں سے ایک آیت بلکہ ایک لفظ کا ترک کرنا ترکِ واجب ہے ۔ (بہارشریعت)

مسئلہ:سورہ ٔ فاتحہ پڑھنے میں اگر ایک لفظ بھی بھولے سے رہ جائے تو سجدہ ٔ سہو کرے۔(درمختار)

مسئلہ:الحمدللہ ( سورہ ٔ فاتحہ ) کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے ۔ یعنی ایک چھوٹی سورت یا تین چھوٹی آیت یا ایک بڑی آیت تین چھوٹی آیت کے برابر ( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۳-۱۳۴)

مسئلہ:الحمدللہ شریف تمام وکمال پڑھنا واجب ہے اور اس کے ساتھ کسی دوسری سورت سے ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا بھی واجب ہے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۳)

مسئلہ:فرض نماز کی پہلی دو رکعتو ںمیں ’’ الحمد‘‘ کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے ۔ (بہارشریعت )

مسئلہ:وتر ، سنت اور نفل نماز کی ہر رکعت میں ’’ الحمد‘‘ کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے ۔ (بہارشریعت )

مسئلہ:اگر کوئی شخص سورہ ٔ فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول گیا یا سورہ ٔ فاتحہ پڑھنا بھول گیا اور بغیر سورہ ٔ فاتحہ سورت پڑھی تو سجدہ ٔ سہو کرنے سے نماز ہوجائے گی ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۱۲۵)

مسئلہ:الحمدللہ ( سورہ ٔ فاتحہ ) کو سورت سے پہلے پڑھنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:الحمد شریف صرف ایک ہی مرتبہ پڑھنا واجب ہے ۔ زیادہ مرتبہ پڑھنا ترکِ واجب ہے ( بہار شریعت )

مسئلہ:الحمداور سورت کے درمیان فصل ( وقفہ ) نہ ہو یعنی الحمد کے بعد فوراً سورت کا پڑھنا اور دونوں کے درمیانی کسی اجنبی کا فاصل نہ ہونا واجب ہے ۔ ’’ آمین ‘‘ سورہ ٔ فاتحہ کے تابع ہے اور ’’ بسم اللہ ‘‘ سورت کے تابع ہونے کی وجہ سے فاصل نہیں ۔ (بہار شریعت )

مسئلہ:سورت پہلے پڑھی اور الحمدللہ بعد میں پڑھی یا الحمد شریف اور سورت کے درمیان دیر کی یعنی تین مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہنے کی قدر چپ رہا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ (درمختار)

مسئلہ:سورتوں کے شروع میں ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ ایک پوری آیت ہے مگر صرف اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا ۔ ( درمختار)

مسئلہ:جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے نمازی یعنی مقتدی کو نماز میں قرأت پڑھنا جائز نہیں ۔ نہ سورہ ٔ فاتحہ پڑھے نہ ہی کوئی دوسری آیت پڑھے ۔ یہاں تک کہ ظہر و عصر میں اور مغرب و عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں کہ جب امام آہستہ قرأت پڑھتا ہے ان تمام رکعتوں میں اور جہر یعنی بلند آواز سے پڑھی جانے والی رکعتوں میں بھی مقتدی کو قرأت پڑھنا جائز نہیں ۔ امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۲ و ۸۸ )

مسئلہ:نماز میں تعوذ و تسمیہ قرأت کے تابع ہیں اور مقتدی پر قرأت نہیں لہٰذا تعوذ و تسمیہ بھی مقتدی کے لئے مسنون نہیں ۔ لیکن جس مقتدی کی کوئی رکعت جاتی رہی ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب وہ اپنی باقی رکعت پڑھے اس وقت ان دونوں کو پڑھے۔ ( درمختار)

مسئلہ:امام نے جہری نماز میں قرأت شروع کردی ہو تو مقتدی ثنا نہ پڑھے بلکہ خاموش رہ کر قرأت سنے کیوں کہ قرأت کا سننا فر ض ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۱ )

مسئلہ:امام کے پیچھے مقتدی کو قرأت پڑھنا سخت منع ہے ۔ احادیث کریمہ میں اس کے تعلق سے سخت ممانعت اور وعید وارد ہیں ۔ چند احادیث ذیل میں مرقوم ہیں:-

حدیث:: ترمذی ، حاکم و مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ جو شخص امام کے پیچھے ہو ، تو امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔‘‘

حدیث::– حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ جو امام کے پیچھے قرأت کرے اس کے منہ میں انگارا ہو۔

حدیث::– امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے قرأت کرتا ہے ، کاش اس کے منہ میں پتھر ہو ۔

حدیث::- حضرت عبداللہ بن زید بن ثابت اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال ہوا ۔ انہو ںنے فرمایاکہ امام کے پیچھے کسی نماز میں قرأت نہ کرے ۔

حدیث::– امیر المؤمنین سیدنا مولیٰ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ فرمایا جس نے امام کے پیچھے قرأت کی اس نے فطرت سے خطا کی ۔

مسئلہ:قرأت خواہ سری ہو خواہ جہری ہو ، بسم اللہ ہر حال میں آہستہ پڑھی جائے گی ۔( در مختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۶۱ -۵۶۵ )

مسئلہ:اگر سورہ ٔ فاتحہ کے بعد کسی سورت کو اوّل سے شروع کرے تو سورہ ٔ فاتحہ کے بعد بھی سورت پڑھتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحسن ہے ۔( درمختار )

مسئلہ:تعوذ پہلی رکعت میں ہے اور تسمیہ ہر رکعت کے شروع میں مسنون ہے( ردالمحتار)

مسئلہ:مغرب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں یں اور فجر ، جمعہ ، عیدین ، تراویح اور رمضان کی وتر کی سب رکعتو ںمیں امام پر جہر یعنی بلند آواز سے قرأت پڑھنا واجب ہے ۔ (درمختار)

مسئلہ:مغرب کی تیسری رکعت ، عشاء کی آخری دو رکعت اور ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں امام کو آہستہ قرأت پڑھنا واجب ہے ۔ ( در مختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۹۳ )

مسئلہ:جہر کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی کم از کم وہ لوگ جو پہلی صف میں ہیں وہ سن سکیں یہ ادنیٰ درجہ قرأت کرنے کا ہے ۔ اور اعلیٰ درجہ کے لئے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ قرأت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خود سن سکے ۔ ( عامہ کتب )

مسئلہ:اس طرح پڑھنا کہ فقط ایک دو آدمی جو امام کے قریب ہیں وہی سن سکیں تو اس طرح پڑھنا جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے ۔ ( درمختار)

مسئلہ:ضرور ت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسروں کے لئے باعث تکلیف ہو مکروہ ہے ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ:نماز میں’’آمین ‘‘ بلند آواز سے کہنا مکروہ اور خلافِ سنت ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۳)

مسئلہ:رات میں جماعت سے نفل پڑھنے میں امام پر جہر سے قرأت پڑھنا واجب ہے۔(درمختار)

مسئلہ:دن میں نوافل پڑھنے میں آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل اگر تنہا پڑھتا ہے تو اختیار ہے ۔ چاہے آہستہ پڑھے یا بلند آواز سے ( جہر) پڑھے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:منفرد یعنی اکیلے نماز پڑھنے والے کو جہری نماز ( فجر ، مغرب ، عشاء ) میں اختیار ہے ۔ چاہے تو آہستہ قرأت پڑھے اور چاہے تو بلند آواز سے پڑھے لیکن افضل یہ ہے کہ بلند آواز( جہر) سے پڑھے جبکہ ادا پڑھتاہو اور اگر قضا پڑھتا ہوتوآہستہ قرأت پڑھنا واجب ہے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت کی قرأت دوسری رکعت کی قرأت سے قدرے زیادہ ہو ۔ یہی حکم جمعہ و عیدین کی نماز میں بھی ہے ۔ ( عالمگیری )

مسئلہ:دوسری رکعت کی قرأت پہلی رکعت کی قرأت سے طویل کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ جب کہ فرق صاف طور پر ظاہر اور معلوم ہو ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۰۰)

مسئلہ:امام کے لئے ضروری ہے کہ بیمار ، ضعیف بوڑھے اور کام پر جانے والے ضرورت مند مقتدیوں کالحاظ کرتے ہوئے طویل قرأت نہ کرے کہ ان کو تکلیف پہنچے بلکہ قرأت میں اختصار کرے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۰)

مسئلہ:بہتر یہ ہے کہ سنن اور نوافل کی دونوں رکعتوں میں برابر کی سورتیں پڑھے ۔ (منیۃالمصلی)

مسئلہ:فرض نماز میں ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنا چاہئے اور تراویح میں متوسط ( درمیانی) انداز میں اور نوافل میں جلد پڑھنے کی اجاز ت ہے مگر جلدی میں بھی اس طرح پڑھنا چاہئے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم از کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اسکو ادا کرے ورنہ حرام ہے کیونکہ قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھنے کا حکم ہے ۔ ( درمختار ، رد المحتار)

مسئلہ:آج کل رمضان میں اکثر حفاظ تراویح میں قرآن مجید اس طرح جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ مد کاادا ہونا تو بڑی بات ہے ۔ ’’ یعلمون ، تعلمون ‘‘ کے سوا کسی لفظ کی شناخت نہیں ہوتی ۔ حروف کی تصحیح نہیں ہوتی بلکہ جلدی جلدی میں لفظ کالفظ کھا جاتے ہیں (غائب کردیتے ہیں) اور اس طرح غلط پڑھنے پر فخر کیاجاتا ہے کہ فلاں حافظ اس قدر جلد پڑھتا ہے ۔ حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام اور سخت حرام ہے۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:قرآن مجید الٹا پڑھنا یعنی پہلی رکعت میں بعد والی سورت پڑھنا اور دوسری رکعت میں اس کے اوپر والی سورت پڑھنا سخت گناہ ہے ۔ مثلاً پہلی رکعت یں سورہ الکافرون ( قل یاایہا الکافرون ) اور دوسری میں سورۂ فیل ( الم تر کیف ) پڑھنا ۔ ( درمختار)

مسئلہ:الٹا قرآن شریف پڑھنے کے لئے سخت وعید آئی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ جو قرآن الٹ کر پڑھتاہے وہ کیا خوف نہیں کرتا کہ اللہ اس کادل الٹ دے ‘‘ ۔( بہار شریعت )

مسئلہ:اگر بھول کر خلاف ترتیب ( الٹا) پڑھا تو نہ گناہ ہے اورنہ سجدہ ٔ سہو ہے ۔ (بہارشریعت)

مسئلہ:اگر امام نے بھول کر پہلی رکعت میں سورۃ الناس اور دوسری میں سورۃالفلق پڑھی تو بھول کر ایسا کرنے سے نماز میں حرج نہیں اور سجدہ ٔ سہوکی بھی ضرورت نہیں اور اگر قصداً ایسا کیاتو گنہگار ہوگالیکن نماز ہوجائے گی ۔سجدہ ٔ سہو اب بھی نہیں چاہیئے ۔ توبہ کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے اجتناب کرے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲)

مسئلہ:پہلی رکعت میں بڑی سورت پڑھنا اور دوسری رکعت میں پہلی رکعت والی سورت کے بعد والی چھوٹی سورت کو چھوڑکر، اس چھوٹی سورت کے بعد والی بڑی سورت پڑھنا مکروہ ہے ۔ مثلاً پہلی رکعت میں ’’ قل یا ایہا الکافرون ‘‘ پڑھنا اور دوسری رکعت میں تبت یدا ابی لہب ‘‘ پڑھنا اور ’’ اذا جاء نصر اللہ ‘‘ کو چھوڑنا ( در مختار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۱۳۶)

مسئلہ:دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کی تکرار کرنا مکروہ تنزیہی ہے جبکہ کوئی مجبوری نہ ہو اور اگر مجبوری ہوتو بالکل کراہت نہیں ۔مثلاً پہلی رکعت میں پوری سورہ الناس (قل اعوذ برب الناس) پڑھی تو اب دوسری میں بھی یہی پڑھے یا دوسری رکعت میں بھی بلا قصد پہلی رکعت والی سورت پڑھنا شروع کردی یا اس کو صرف ایک ہی سورت یاد ہے ، تو ان تمام سورتوں میں ایک ہی سورت کی دونوں رکعتوں میں تکرار جائز ہے ۔ (ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۹۹ )

مسئلہ:نوافل کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کو مکرر پڑھنا یا ایک رکعت میں اسی سورت کو بار بار پڑھنا بلاکراہت جائز ہے ۔( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص۹۸۔۹۹)

مسئلہ:قرأت میں آیت سجدہ پڑھے تو چاہے تراویح کی نمازہو ، چاہے فرض یا اور کوئی نماز ہو۔ اکیلا پڑھتا ہو یاجماعت سے پڑھتا ہو ،اگر نماز میں آیت سجدہ پڑھے تو فوراً سجدہ کرے ۔ تین آیت پڑھنے کی مقدار کے وقت سے زیادہ دیر لگانا گناہ ہے ۔( فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۵۵)

مسئلہ:سورہ ٔ فاتحہ کے بعد سورت سوچنے میں اتنی دیر لگائی کہ تین مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہہ لیا جائے تو قرأت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ترکِ واجب ہوالہٰذا سجدہ سہو کرنا واجب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۷۹ و ۶۳۰ )

مسئلہ:نماز میں قرآن شریف سے دیکھ کر قرأت پڑھنے سے نماز فاسد ہوجائیگی۔ یونہی اگر محراب وغیرہ میں لکھا ہوا ہے ، تو اسے دیکھ کر پڑھنے سے بھی نماز فاسد یعنی ٹوٹ جائے گی ۔ ( درمختار ، رد المحتار)

مسئلہ:اگر ثنا ، تعوذ اور تسمیہ پڑھنا بھول گیا اور قرأت شروع کردی تو اعادہ نہ کرے کہ ان کا محل ہی فوت ہوگیا یونہی اگر ثنا پڑھنا بھول گیا اور تعوذ شروع کردیا تو ثنا کا اعادہ نہ کرے۔(ردالمحتار)

مسئلہ:امام نے جہر (بلند آواز) سے قرأت شروع کردی تو مقتدی ثنا نہ پڑھے اگرچہ دور والی صف میں ہونے یابہرہ ہونے کی وجہ سے امام کی آواز نہ سنتا ہو ، جیسے جمعہ و عیدین میں پچھلی صف کے مقتدی کہ بوجہ دور ہونے کے قرأت نہیں سن پاتے اور اگر امام قرأت بالسر یعنی آہستہ پڑھتا ہو مثلاً ظہر یا عصر میں تو مقتدی ثنا پڑھ سکتا ہے ۔ (عالمگیری ، رد المحتار )

مسئلہ:قرآت ختم ہوتے ہی متصلاً رکوع کرنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:رکوع کے لئے تکبیر کہی مگر ابھی رکوع میں نہ گیا تھا یعنی گھٹنوں تک ہاتھ پہنچنے کے قابل نہیں جھکا تھا کہ اور زیادہ پڑھنے کا ارادہ ہوا تو پڑھ سکتا ہے ، کچھ حرج نہیں۔(عالمگیری)

مسئلہ:نماز میں الحمد شریف کے بعد سہواً سورت ملانا بھول گیا تو اگر رکوع میں یادآجائے تو فوراً کھڑاہوکر سورت پڑھے پھر دوبارہ رکوع کرے ، پھر نماز تمام کرکے آخر میں سجدہ ٔ سہو کرے اور اگر سجدہ میں یاد آئے تو صرف اخیر میں سجدہ ٔ سہو کرلے ۔ نماز ہوجائے گی اور نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۹)

مسئلہ:نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ میں سہواً تین آیت پڑھنے کے وقت جتنی یا زیادہ کی دیر ہوگئی تو سجدہ ٔ سہو کرے ۔( غنیہ)

مسئلہ:اگر سرّی نماز میں امام نے بھول کر ایک آیت بلند آواز سے پڑھ دی تو سجدہ ٔ سہو واجب ہوگا اور اگر سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً بلند آواز سے پڑھا ، تو نماز کا اعادہ (پھیرنا )واجب ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۹۳)

مسئلہ:قرآن کی ہر آیت پروقف مطلقاً بلا کراہت جائز بلکہ سنت سے مروی ہے ۔ بلکہ جس آیت پر ’’ لا ‘‘ کی علامت ہو اور اس پر وقف کرکے رکوع کردیا تو بھی نماز ہوجائے گی ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲ ، جلد ۱۲ ص ۱۱۳ اور احکام شریعت حصہ ۲ ص ۳۲)

مسئلہ:سورہ ٔ فاتحہ کی ابتدا میں تسمیہ پڑھناسنت ہے اور سورہ ٔ فاتحہ کے بعد اگر کوئی سورت یا کسی سورت کی شروع کی آیتیں پڑھے تو ان سے پہلے تسمیہ پڑھنا مستحب ہے پڑھے تو اچھا ، نہ پڑھے تو حرج نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷)

مسئلہ:نماز کی ہر رکعت میں امام و منفرد (اکیلا نماز پڑھنے والا ) کو سورہ ٔ فاتحہ میں ’’ولاالضالین ‘‘ کے بعد آمین کہنا سنت ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۲)

مسئلہ:امام کی آواز کسی مقتدی تک نہ پہنچی مگر اس کے برابر والے مقتدی نے ’’آمین ‘‘کہی اور اس نے آمین کی آواز سن لی ، اگرچہ اس مقتدی نے آہستہ کہی ہے ، تو یہ بھی امین کہے۔ غرض یہ کہ ا مام کا ’’ ولا الضالین ‘‘ کہنا معلو م ہوا تو آمین کہنا سنت ہوجائے گا ۔ پھر چاہے امام کی آواز سننے سے معلوم ہو یا کسی مقتدی کے آمین کہنے سے معلوم ہو۔ (در مختار)

مسئلہ: سرّی نماز میں امام نے آمین کہی اور مقتدی اس کے قریب تھا اور مقتدی نے امام کی آمین کہنے کی آواز سن لی تو مقتدی بھی آمین کہے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:اگر کسی نے فرض نماز کی پچھلی دو رکعت میں سہواً ( بھول کر) یا قصداً ( جان بوجھ کر) الحمد شریف کے بعد کوئی ایک سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں ۔اس کی نماز میں کچھ خلل نہ آیا اوراس کو سجدہ ٔ سہو کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۷ ، احکام شریعت حصہ اوّل ، ص ۱۰ از اعلیٰحضرت )

مسئلہ:تعوذ صرف پہلی رکعت میں ہے ۔ہر رکعت کے شروع میں ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھنا مسنون ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ:قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود میں کسی جگہ ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ قرآن کی آیت ہے اور نماز میں قیام کے سوا اورجگہ قرآن کی کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۴ ، الملفوظ حصہ۳، ص ۴۳)

مسئلہ:زبان سے جس سورت کا ایک لفظ نکل جائے اسی کا پڑھنا لازم ہے خواہ وہ قبل کی ہو یا بعد کی خواہ مکرّر پڑھ رہا ہو ۔ ہر حال میں اسی سورت کو پڑھنا لازم ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۵۔۱۳۶)

مسئلہ:نماز میں بسم اللہ شریف بلند آواز سے پڑھنا منع ہے ۔ صرف تراویح میں جب کلام مجید ختم کیا جائے تو سورہ ٔ بقرہ سے سورہ ٔ ناس تک کسی ایک سورۃ پر آواز سے پڑھ لی جائے کہ ختم پورا ہو ۔ اور ہر سورہ پر آواز سے پڑھنا ممنوع اور مذہب حنفی کے خلاف ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۸۴)

مسئلہ:مستحب طریقہ یہ ہے کہ سور ت کے آخر میں اگر نام الٰہی ہے مثلاً سورہ ٔ نصر یعنی ’’ اذا جاء نصر اللہ ‘‘ کے آخر میں ’’ انہ کان توابا‘‘ پر نہ ٹھہرے بلکہ رکوع کی تکبیر ’’ اللہ اکبر ‘‘ سے وصل کرے یعنی ’’ توابا ن اللہ اکبر‘‘ پڑھے ۔ اسی طرح سورہ والتین میں’’ احکم الحاکمین ‘‘ کے ’’ ن‘‘ کو زبر دے کر ’’ اللہ اکبر ‘‘ کے ’’ لام‘‘ میں ملادے ۔ اور جس سورۃ کے آخر میں نام الٰہی نہ ہو اور کوئی لفظ نامِ الٰہی کے مناسب نہ ہو وہاں اختیار یہ ہے کہ وصل کرے یعنی ملائے یا وقف کرے یعنی نہ ملائے ۔ مثلاً سورہ ٔ ’’ الم نشرح‘‘ میں فارغب ‘‘ پر ٹھہر بھی سکتا ہے اور ’’ فارغب‘‘ کو ’’ اللہ اکبر‘‘ سے ملا بھی سکتاہے ۔ اور جس سورۃ میں کوئی لفظ ’’ اسم الٰہی ‘‘ کے نامناسب ہو وہاں ہرگز وصل نہ کرے بلکہ فصل کرے مثلاً سورہ الکوثر میں ’’ہو الابتر‘‘ میں فصل کرے ، وصل نہ کرے یعنی ٹھہرے اور نہ ملائے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۶)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.