أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ وَّلٰـكِنۡ ذِكۡرٰى لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور پرہیزگاروں سے ان (ظالموں) کے اعمال پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی ‘ البتہ ان کو نصیحت کرتے رہیں۔ تاکہ وہ (ظالم) اللہ سے ڈریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور پرہیزگاروں سے ان (ظالموں) کے اعمال پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی ‘ البتہ ان کو نصیحت کرتے رہیں۔ تاکہ وہ (ظالم) اللہ سے ڈریں۔ (الانعام : ٦٩) 

اجتجاجا واک آوٹ کرنے کی اصل : 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کے شان نزول کے متعلق تین اقوال ہیں : 

(١) مسلمانوں نے کہا اگر ایسا ہو کہ جب بھی مشرکین قرآن مجید کا مذاق اڑائیں اور اس پر اعتراضات کریں تو ہم انکو منع کریں ‘ پھر ہمارے لیے مسجد حرام میں بیٹھنا اور کعبہ کا طواف کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور پرہیزگاروں سے ان کے اعمال پر کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ 

(٢) مسلمان نے کہا اگر ہم ان کو قرآن مجید پر اعتراض کرنے سے منع نہ کرتی تو ہم کو یہ خوف ہے کہ ہم گنہگار ہوں گے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ دونوں روایتیں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہیں اور مذکور ذیل تیسری روایت مقاتل سے مروی ہے : 

(٣) اگر ان کے اعتراضات کے وقت ہم ان کے پاس سے اٹھ جائیں تو ہمیں یہ خوف ہے کہ ہم انکے اعتراضات کے وقت ان کے پاس بیٹھیں گے تو گنہ گار ہوں گے۔ (زادالمیسر ج ٣ ص ‘ ٦٢ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

خلاصہ یہ ہے اگر مسلمانوں نے قرآن مجید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین اسلام پر اعتراض کرنے والوں کے پاس بیٹھنے سے احتراز کیا ‘ تو ان کے اعتراضات اور نکتہ چینیوں پر مسلمانوں سے باز پرس نہیں ہوگی اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں ‘ ہوسکتا ہے یہ لوگ اپنی اسلام دشمنی سے باز آجائیں۔ 

بعض مفسرین نے کہا جب یہ لوگ اسلام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف طعن وتشنیع کی باتیں کریں اور اس وقت مسلمان ان کی مجلس سے اٹھ جائیں تو ان کا مجلس سے اٹھنا اس پر دلالت کرے گا کہ مسلمانوں کو مشرکین کی یہ باتیں ناگوار گزریں ہیں۔ ہوسکتا ہے مسلمانوں کے اس واک آوٹ سے ان مشرکوں کو حیا آئے اور ان کا ضمیر انہیں ان باتوں پر ملامت کرے اور آئندہ کے لیے وہ مسلمانوں کے سامنے ان دل آزار باتوں سے احتراز کریں۔ 

ثانی الذکر تفسیر واک آوٹ کی اصل ہے۔ :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 69