اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)

اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو (ف۲۸۸) جس طرح تمہیں اللہ دکھائے (ف۲۸۹) اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو

(ف288)

شان نزول: انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعۡمَہ بن اُبِیۡرِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زِرہ چُرا کر آٹے کی بوری میں زید بن سمین یہودی کے یہاں چھپائی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طمعہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کرگیا اور قسم کھا گیا بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہود کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عزم کرلیا کہ یہودی کو چور بتائیں گے اور اس پر قسم کھالیں گے تاکہ قوم رسوانہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طعمہ کو بری کردیں اور یہودی کو سزا دیں اسی لئے انہوں نے حضور کے سامنے طعمہ کے موافق اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی اور اس گواہی پر کوئی جَرح وقدح نہ ہوئی( اس واقعہ کے متعلق یہ نازل ہوئی اس واقعہ کے متعلق متعدد روایات آئی ہیں اور ان میں باہم اختلافات بھی ہیں)

(ف289)

اور علم عطا فرمائے علمِ یقینی کو قوتِ ظہور کی وجہ سے رویت سے تعبیر فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گز کوئی نہ کہے کہ جو اللہ نے مجھے دکھایا اس پر میں نے فیصلہ کیا کیونکہ اللہ تعالی نے یہ منصب خاص اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا آپ کی رائے ہمیشہ صَواب ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے حقائق و حوادث آپ کے پیش نظر کردیئے ہیں اور دوسرے لوگوں کی رائے ظن کا مرتبہ رکھتی ہے

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ(۱۰۶)

اور اللہ سے معافی چاہو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں(ف۲۹۰) بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو

(ف290)

معصیت کا ارتکاب کرکے۔

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا(۱۰۸)

آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے (ف۲۹۱) اور اللہ ان کے پاس ہے (ف۶۹۲) جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے (ف۲۹۳)اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے

(ف291)

حیا نہیں کرتے۔

(ف292)

ان کا حال جانتا ہے اس پر ان کا کوئی راز چھپ نہیں سکتا۔

(ف293)

جیسے طُعْمَہ کی طرف داری میں جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا-فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا(۱۰۹)

سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۲۹۴) دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا

(ف294)

اے قوم طعمہ۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۱۰)

اور جو کوئی بُرائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۱۱۱)

اور جو گناہ کمائے تو اس کی کمائی اسی کی جان پر پڑے اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۲۹۵)

(ف295)

کسی کو دوسرے کے گناہ پر عذاب نہیں فرماتا۔

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓــٴَـةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓــٴًـا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۱۱۲)

اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے (ف۲۹۶) پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا

(ف296)

صغیرہ یا کبیرہ ۔