جناب اشرفعلی تھانوی صاحب نے یہ جو کچھ لکھا ہے کہ

بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان ہوں اور روٹیوں کو محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے

یہ حق،سچ،ایمان ہے یا کفر،شرک،بدعت ہے

اور سوال یہ ہے کہ قبر والے سے یہ کہنا کہ

بہت پریشان ہوں اور روٹیوں کو محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے

یہ ما تحت الاسباب ہے یا مافوق الاسباب اگر ما تحت الاسباب ہے تو کوئی اور بھی مانگ سکتا ہے یا صرف دیوبندیوں کو اس کی اجازت ہے اور اگر مافوق الاسباب ہے تو شرک ہوا یا نہیں