امام ابن ماجہ

نام ونسب :۔محمد ۔کنیت ،ابو عبداللہ ۔عرف ،ابن ماجہ ۔اور والد کا نام یزید ہے ،سلسلہ نسب یوں بیان کیاجاتاہے ۔ ابو عبداللہ محمدبن یزید بن عبداللہ الربعی القزوینی ۔

ماجہ کے بارے میں اختلاف ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ یہ آپکی والدہ ماجدہ کانام تھا ،

علامہ زبیدی نے تاج العروس میں اسکو بعض علماء کا قول بتایا ہے ۔

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ماجہ آپکے والد یزید کا لقب ہے اور یہ ہی اکثر علماء اور قزوین کے مؤرخین کا مختار ہے ۔غالباً یہ ماہیچہ کا معرب ہے ۔

ولادت وتعلیم ۔قزوین عراق عجم کا مشہور شہر ہے ، یہ ہی آپ کا مولد ومسکن ہے ،آپ کی ولادت ۲۰۹ھ میں ہوئی ۔ بچپن کا زمانہ علوم وفنون کے لئے باغ وبہار کا زمانہ تھا ،اس وقت بنو عباس کا آفتاب اقبال نصف النھار پر تھا ۔مامون رشید اس دور میں سر یر آرائے سلطنت تھا ۔ عام دستور کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی ،اسکے بعد محدثین کی درسگاہوں کی طرف رخ کیا تاکہ علم حدیث حاصل کریں ۔قزوین میں اس وقت جلیل القدرمحدثین موجود تھے ۔مثلا

ابوالحسن علی بن محمدطنافسی متوفی ۲۳۳

ابومجر عمروبن رافع بجلی متوفی ۲۳۷

ابو سلیمان اسمعیل بن توبہ قزوینی متوفی ۲۴۷

ابوموسی ہارون بن موسی بن حبان تمیمی متوفی ۲۴۸

ابوبکر محمد بن ابی خالد یزید قزوینی طبری وغیرھم

آپ نے پہلے ان حضرات سے حدیث کا بڑا ذخیرہ حاصل کیا اور پھر تکمیل فن کیلئے خراسان ،عراق ،حجاز ،مصراورشام کے متعددشہروں کا سفر کیا ۔بالخصوص مکہ مکرمہ ،مدینہ طیبہ ،بصرہ اور بغداد کے محدثین وفقہاء سے اکتساب علم کیا ۔ انکے علاوہ طہران ،اصفہان ،رہواز ،رملہ ،بلخ ، بیت المقدس ،حران ،دمشق فلسطین ،عسقلان ،مرو اور نیشاپورکا نام بھی خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے ۔

اساتذہ ۔آپکے اساتذہ کی فہرست نہایت طویل ہے ،مندرجہ بالا کے علاوہ چند اسماء یہ ہیں ۔

محمد بن عبداللہ بن نمیر ،ابراہیم بن المنذرالخرامی ، عبداللہ بن معاویہ ھشام بن عمار ، ابوبکر بن ابی شیبہ ،محمد بن یحیی نیشاپوری ،احمد بن ثابت الجحدری ،ابوبکر بن خلادباہلی ،محمد بن بشار ،علی بن منذر ۔وغیرہم

تلامذہ: ۔آپکے تلامذہ میں بعض کے اسماء اس طرح ہیں :۔

علی بن سعید عسکری ،احمد بن ابراہیم قزوینی ، ابوالطیب احمد بن روح شعرانی ،اسحاق بن محمد قزوینی ،ابراہیم بن دینار الجرشی الصمدانی ،حسین بن علی بن برانیاد ،سلیمان بن یزید قزوینی ،حکیم مدنی اصبہانی ،وغیرہم

علم وفضل ۔امام ابن ماجہ کی امامت فن ،فضل وکمال ،جلالت شان ،وسعت نظر اور حفظ حدیث وثقاہت کے تمام علماء معترف ہیں ۔

ابو یعلی خلیلی لکھتے ہیں :۔

ابن ماجہ بڑے ثقہ ،متفق علیہ ، قابل احتجاج ہیں ، آپکو حدیث اور حفظ حدیث میں پوری معرفت حاصل ہے ۔

علامہ ابن جوزی کہتے ہیں ۔

آپ نے بہت سے شیوخ سے سماع حدیث کیا ،اور سنن ،تاریخ اور تفسیرکے آپ عارف تھے ۔

علامہ ذھبی فرماتے ہیں:۔

بیشک آپ حافظ حدیث ،صدوق اوروافرالعلم تھے ۔

مورخ ابن خلکان نے لکھا :۔

آپ حدیث کے امام اور حدیث کے جمیع متعلقات سے واقف تھے ۔

وصال :۔۲۲؍رمضان المبارک ۲۷۳ھ بروز پیر آپ کا وصال ہوا ، چونسٹھ سال کی عمر پائی ۔ آپکے بھائی ابوبکر نے نماز جنازہ پڑھائی ،دسرے دن تدفین عمل میں آئی ۔

آپ نے تین تصانیف اپنی یادگار چھوڑی تھیں جن میں دوناپید ہیں ، تفصیل اس طرح ہے ۔

۱۔ التفسیر ، حافظ بن کثیر نے اسکو تفسیر حافل کہاہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ضخیم تالیف تھی ۔اس میں آپ نے تفسیر کیلئے جس قدر احادیث اور صحابہ وتابعین کے اقوال مل سکتے تھے سب کو یکجا کردیا ہے ۔امام سیوطی نے طبقہ ثالثہ کی تفسیروں میں شمارکیا ہے ۔

۲۔ التاریخ :۔ابن خلکان نے اسکو تاریخ ملیح ،اور ابن کثیر نے تاریخ کامل کا عنوان دیا ہے ۔ یہ صحابہ سے لیکر مصنف کے عہد تک کی تاریخ ہے جس میں بلاد اسلامیہ اور رویان حدیثکے حالات ہیں ۔ سنن ابن ماجہ امام ابن ماجہ کی یہ مایۂ ناز اور شہرئہ آفاق تصنیف ہے، حافظ ذہبی نے اس کتاب کی بابت خود آپ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ـ:۔

میں نے جب کتاب لکھ کر امام حافظ ابوزرعہ کی خدمت میں پیش کی تو وہ اسکو دیکھکر بے ساختہ پکار اٹھے ۔

یہ کتاب اگر لوگوں کے ہاتھوں میں پہونچ گئی تو اس دور کی اکثر جوامع ومصنفات بیکار اور معطل ہوکر رہ جا ئیںگی ۔

چنانچہ حافظ ابو زرعہ کا یہ قول حرف بحرف پوراپورا اور سنن ابن ماجہ کے فروغ کے سامنے متعدد جوامع اور مصنفات کے چراغ ماند پڑ گئے ۔

سنن ابن ماجہ کو جس چیز نے عوام وخواص میں پذیرائی اور قبولیت عطاکی وہ اس کا شاندار اسلوب اور روایت کا حسن انتخاب ہے ۔ابواب کی فقہی رعایت سے ترتیب اور مسائل کے واضح استنباط اور تراجم ابواب کی احادیث سے بغیر کسی پیچیدگی اور الجھن کے مطابقت نے اسکے حسن کو نکھاراہے ۔چند خصوصیات یہ ہیں ۔

۱۔ اس کتاب کی اکثر روایات وہ ہیں جو کتب خمسہ میں نہیں ۔

۲۔ کوئی حدیث مکرر نہیں لائی گئی ہے ۔

۳۔ اختصار وجامعیت میں اپنی مثال آپ ہے ۔

۴۔ مسائل واحکام سے متعلق احادیث ہی زیادہ تر لائی گئی ہیں ۔

پانچویں صدی کے آخر تک صحاح کی بنیادی کتب میں صرف پانچ کتابوں کا شمار ہوتاتھا

بعد میں حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر مقدسی متوفی ۵۰۷ھ نے اپنی کتاب شروط الائمۃ الستۃ ،میں ابن ماجہ کی شروط سے بھی بحث کی اور اسکو بھی بنیاد ی کتابوں کے ساتھ لاحق کرکے صحاح کی اصل چھ کتابوں کو قرار دیا ۔

اسی دور میں محدث زرین بن معاویہ مالکی متوفی ۵۵۲ھ نے اپنی کتاب التجرید للصحاح والسنن ،میں کتب خمسہ کے ساتھ سنن ابن ماجہ کی جگہ مؤطا امام مالک کو لاحق کردیا ۔اسکے بعد سے یہ اختلاف رہا کہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب مؤطا ہے یاابن ماجہ ۔عام مغاربہ مؤطا کو ترجیح دیتے تھے اور مشارقہ سنن ابن ماجہ کو ۔ لیکن متاخر ین نے ابن ماجہ کے حق میں اتفاق کرلیا اور اب غالب اکثریت اسی طرف ہے کہ صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ ہے ۔

علامہ ابو الحسن سندھی مقدمہ شرح ابن ماجہ میں لکھتے ہیں ۔ وغالب المتاخرین علی انہ سادس الستۃ ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)