کُشتۂ عشق الٰہی،قرب الٰہی کی شیفتہ، عارفہ، ولیہ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیھا کی ذات محتاج تعارف نہیں ۔آپ زہدو ورع اورتوکل کے منزل رفیع پر فائز تھیں ، اولیاء کاملین میں آپ کا شمار ہوتا ہے یہاں باختصار آپ کی حیات مقدسہ کے چند ایسے واقعات وحقائق نظر قارئین ہیں جو ہم سب کے لئے شمع ہدایت اور مشعل راہ ہیں،اگر ہم آپ کی مقدس وپاکیزہ زندگی کا بغرض حصول عبرت ونصیحت مطالعہ کریں تو ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور ہم بھی قرب خداوندی کی بے بہا دولت سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں ۔

بشارت رسول

حضرت رابعہ بصریہ کے والد نہایت متقی وپرہیز گار تھے ،غربت وافلاس میں زندگی بسر ہوئی آپ کی غربت کا عالم یہ تھا کہ جس دن حضرت رابعہ بصریہ کی ولادت ہوئی تو آپ کے یہاں نہ تو اتنا تیل تھا جس سے ناف کی مالش کی جاتی اور نہ اتنا کپڑا تھا جس میں آپ کو لپیٹا جاتا حتی کہ بد حالی کا عالم یہ تھا کہ گھر میں چراغ تک نہ تھا چونکہ آپ اپنی تین بہنوں کے بعد پیدا ہوئیں اسی مناسبت سے آپ کا نام رابعہ رکھا گیا ۔

جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھر والوں نے آپ کے والد سے کہا جائو ہم سایہ کے یہاں سے روشنی کے لئے اور حضرت رابعہ کی ناف پر لگانے کے لئے تیل لے آئو پیسہ پاس تھا نہیں کہ بازار سے لے آتے۔ ہمسایہ کے مکان کے دروازے پر جاکر کھڑے ہوگئے اور دروازہ کے کواڑوں پر ہاتھ لگا کر واپس آگئے ۔آپ کے والد نے قسم کھارکھی تھی کہ خواہ کتنی ہی حاجت کیوںنہ ہو کسی سے سوال نہ کروںگا ۔گھر والوں سے کہہ دیا کہ ہمسایہ تو دروازہ نہیں کھولتا ۔

اس رات آپ کے والد کو ناداری کا سخت احساس ہوا ، رنج وغم کی حالت میں سوگئے،خواب میں زیارت رسولﷺ سے شاد کام ہوئے ، آقاانے فرمایا غمگین کیوں ہو تمہاری لڑکی بڑی نیک بخت لڑکی ہے اس کی شفاعت سے میری امت کے اکہتر ہزار افراد بخش دیئے جائیں گے ۔اس کے بعد رحمت عالمﷺ نے ارشاد فرمایا والیٔ بصرہ کے پاس ایک کاغذ پر تحریر کرکے لے جائو کہ توہر یوم مجھ پر ایک سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اور شب جمعہ میں چار سو مرتبہ لیکن آج جمعہ کی جو رات گزری ہے اس میں تو درود بھیجنا بھول گیا ہے لہٰذا بطور کفارہ حامل مکتوب ھذا کو چارسو دینار دے دے ۔

حضرت رابعہ بصریہ کے والد خواب سے بیدار ہوکر خوب روئے اور خط لکھ کر دربان کے ذریعہ والیٔ بصرہ کے پاس بھیج دیا ،اس نے مکتوب پڑھتے ہی حکم دیا کہ حضورﷺ کی یاد کے شکرانے میں دس ہزار درہم تو فقراء میں تقسیم کردو اور چار سو دینار اس شخص کو دیدو۔اس کے بعد والیٔ بصرہ تعظیما خود آپ سے ملاقات کرنے پہونچا اور عرض کیا کہ جب بھی آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو اکرے مجھے مطلع فرمادیا کریں،چنانچہ انہوں نے چارسو دینار دے کر ضرورت کا تمام سامان خریدلیا ۔ (مخلصا از محفل اولیاء)

عبادت وریاضت

حضرت رابعہ بصریہ شب زندہ دار تھیں ،شب وروز میں ہزار رکعت پڑھا کرتی تھیں۔ایک عقیدت مند نے وجہ دریافت کی تو فرمایا :میرا منشا ومقصود ثواب حاصل کرنا نہیں ہے میں تو ہادیٔ برحق ا کو خوش کرنے کے لئے ایسا کرتی ہوں تاکہ آپ دوسرے انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام سے فرماسکیں کہ میری امت کی اس عورت کی طرف دیکھو اس کا عمل کیا ہے ؟

جب آپ نماز عشاء سے فارغ ہوتیں تو مکان کی چھت پر تشریف لے جاتیں اور ہاتھ پھیلا کر کہتی تھیں۔اے پروردگار! مہ ونجوم روشن ہوگئے ، تیری مخلوق بستروں پر دراز ہے،امراء اور بادشاہوں نے اپنے دروازے مقفل کرلئے ہیں ۔ہر دوست اپنے دوست سے محو خلوت ہے اور میں یہاں تیرے سامنے کھڑی ہو ںاور پھر ساری رات عبادت میں بسر کردیتی تھیں ،بوقت فجر قرآن پاک کی تلاوت کرتیں اور دن چڑھے تک مناجات میں مصروف رہتی تھیں۔پھر بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کرتیں۔

اے میرے اللہ!رات بیت گئی کاش مجھے معلوم ہوتا ہے تونے میری صلوٰۃ قبول فرمالی ہے ۔تیری عزت کی قسم !میرا یہی طریقہ رہے گا جب تک مجھے جواب نہ دے گا اگر تو مجھے اپنے در سے دھتکار بھی دے گا میں نہ ہٹوںگی کیوں کہ میرا دل تیری محبت میں گھر گیا ہے۔ (عشق رسول کریم)

خوف وخشیت الٰہی

آپ ہمہ وقت گریہ وزاری کرتی رہتی تھیں خوف خدا میں لرزاں وترساں رہتیں اور جب لوگوں نے سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں اس فراق سے خوفزدہ ہوں جس کو محفوظ تصور کرتی ہوں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ دم نزع یہ ندا آجائے کہ تو لائق بارگاہ نہیں ہے ۔

محبوب حقیقی کے شوق میں اشکوں کی برسات لگی رہتی تھی ،عبادت وریاضت وذکرمیں مشغول ہوتیں تو روتی تھیں ،اگر کسی سے گفتگو کرتیں تو غمناک آنکھوں سے لیکن اس کے ہم آہنگ شوق ومحبت میں روز افزوں طغیانی آتی گئی ۔تیس سالہ اشک ریزی کے بعد آپ کے نطق پر رب کریم بولتا تھا۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اطاعت واتباع رسول کریم ا کا غماز تھا ۔اور ہر تنفس میں ذات باری تعالیٰ بسی ہوئی تھی ۔ (ایضاملخصا )

سفر حج اور آپ کی کرامت

حضرت ابراہیم بن ادہم جب سفر حج پر روانہ ہوئے تو ہر قدم پر دورکعت نماز ادا کرتے ہوئے چلے اور مکمل چودہ سال میں مکہ معظمہ پہونچے اور دوران سفر یہ کہتے جاتے کہ دوسرے لوگ تو قدموں سے چل کر پہونچتے ہیں لیکن میں سر اور آنکھوں کے بل پہونچوں گا ، جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو وہاں خانۂ کعبہ غائب تھا چنانچہ آپ اس تصور سے آب دیدہ ہوگئے کہ شاید میری بصارت ضائع ہوچکی ہے لیکن غیب سے ندا آئی کہ بصارت زائل نہیں ہوئی بلکہ کعبہ ایک ضعیفہ کے استقبال کے لئے گیا ہے ۔ یہ سن کر آپ کو احساس ندامت ہوا اور گریہ کناں عرض کیا یا اللہ! وہ کون ہستی ہے؟ چنانچہ آپ کی نظر اٹھی تو دیکھا کہ سامنے سے حضرت رابعہ بصریہ لاٹھی کے سہارے چلی آرہی ہے اور کعبہ اپنی جگہ پہونچ چکا ہے ؎

چلا آتاہے بیت اللہ خود ان کی زیارت کو

صمیم قلب سے جو مصطفیٰ کو یاد کرتے ہیں

ترک دنیا

ایک دفعہ حضرت رابعہ بصریہ نے سات دن تک روزہ افطار نہ کیا آٹھویں روز بھوک کی شدت سے نفس نے فریاد کی مجھے بھوکا مرتے سات دن تو ہوگئے کب تک مجھے بھوکا ماروگی ؟ تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازے پر دستک دی اور کھانے کا ایک پیالہ حضرت رابعہ بصریہ کی خدمت میں پیش کیا گھر میں اندھیرا تھا حضرت رابعہ پیالہ رکھ کر چراغ جلانے اٹھیں، ابھی چراغ جلا نہ سکی تھیں کہ بلی نے کھانے کا پیالہ گرا دیا ،رابعہ بصریہ یہ دیکھ کر کہنے لگیں اچھا ایک کٹورہ پانی ہی کا لے آئوں ۔پانی لینے گئیں تو چراغ گل ہوگیاابھی آپ نے پانی سے روزہ افطار نہیں کیا تھا کہ پانی کا پیالہ ہاتھ سے گرکر ٹوٹ گیا ، حضرت رابعہ نے ایک آہ جگر سوز نکالی اور کہنے لگیں الٰہی یہ کیا ماجرا ہے ؟ ندا آئی تم دنیا چاہتی ہو یا آخرت ؟جس کی تمہاری خواہش ہو پوری کردی جائے، ایک دل میں دنیا اور خدا کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ آپ فرماتی ہیں کہ میں اسی روز سے دنیا سے دلبرداشتہ ہوگئی ،پھر کبھی دنیا کی طرف رخ نہیں کیا میری ہر وقت یہی دعا تھی یا الٰہی مجھے ہمیشہ اپنی حضوری میں مشغول رکھ ایسا نہ ہو کہ دنیا تیری حضوری سے محروم کرے ۔ (محفل اولیاء ؍ص۳۳؍۳۴)

محبت الٰہی

جب آپ نے راہ محبت الٰہی پر قدم رکھا آنسوں اور آہیں اب بھی ہمرکاب تھے ،اجنبی اور کٹھن راہ در پیش تھی،بجز جذبۂ شوق کو ئی اور راہبر اور ہادی نہ تھا کہ اس کی پُر پیچ وادیوں اور دشوار گزار راستوں سے آگاہ کرتا ، محبوب کہیں دکھائی نہ دیتا تھا ، مگر اس کے انوار وتجلیات قدم قدم پر بکھرے ہوئے تھے ،یکہ و تنہا ، ڈرے ڈرے ،سہمے سہمے ، گام لیتی اُس پر آشوب و پر خار وادی پر چل رہی تھیں ۔خوفزدہ رہتی تھیں کہ مبادا عشق و محبت کی نا اہل قرار نہ دے دی جائوں ۔ اس لئے ہر وقت آنکھوں سے آنسوئوں کا قافلہ رواں رہتا تھا ، یہ آنسو صرف خالصتاً اللہ کی راہ میں بہہ رہے تھے ، آپ کے دل میں محبت الٰہی کا دریا کس حد تک موجزن تھا ا س کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ اشعار نہیں کہتی تھیں لیکن ایک بار غلبۂ محبت میں چند اشعار کہے تھے ، ترجمہ ہدیۂ قارئین ہے ۔

٭ جب میں نگاہ اٹھاتی ہوں تو اسی کو دیکھتی ہوں اور جب میں ہوتی ہوں تو اسی کے ساتھ ہوتی ہوں ۔

٭ اے ناصح ! مجھے اس کے جمال سے محبت ہے واللہ ! میرے کان تیری نصیحت سے بھرے ہیں ۔

٭ میں نے کتنی راتیں اس کی محبت میں جلتے ہوئے گذار دی ہیں کہ میری آنکھیں آنسوئوں کے دریا بہا رہی تھیں ۔

٭ نہ میرے آنسو تھمے نہ وصل دائم رہا ،نہ میری زخمی آنکھ پل بھر کے لئے جھپکی ۔

٭ تو میری جان ہے ،تو میری امید ہے ، تو میرا مونس ہے ، اور تیری محبت میرا توشہ ہے ۔

٭ میں جب تک زندہ ہوں تجھے ایک پل بھی بھول نہیں سکتی تو میری سُویدائے قلب میں متمکن ہے ۔

٭ اب تو تیری ہی محبت میری راحت و آرزو ہے اور میرے پیاسے دل کی جلا ہے ۔

٭ اگر تو مجھ سے راضی ہے تو اے آرزوئے دل ! میں بڑی خوش نصیب ہوں ۔