کوئے نبی ﷺ

سرکارِ دو عالم کی نظر مجھ پہ پڑی ہے

پہنچا ہوں وہاں خلدِ بریں کی جو گلی ہے

آیا جو مدینے میں تو قسمت نے پکارا

بگڑی ہوئی تقدیر یہاں آکے بنی ہے

قدموں کو ذرا ہوش سے اس خاک پہ رکھنا

یہ کوئے نبی ہے ارے یہ کوئے نبی ہے

محشر کی کڑی دھوپ کا کھٹکا نہیں مجھ کو

چادر مِرے سرکار کے گیسو کی تنی ہے

لِلّٰہ مجھے اپنا رخِ زیبا دکھا دو

پلکوں میں مِری دید کی خاطر یہ نمی ہے

آقا کے درِ پاک کے منگتے ہیں ملائک

مایوس نہیں کوئی یہ دربارِ نبی ہے

دے ڈالئے مجھ کو بھی غلامی کی سند اب

بخشش کو مِرے شاہ یہ خیرات بڑی ہے

شب روتے ہوئے سجدہ میں سرکار گزاریں

امت کی ہو بخشش یہی ارمانِ نبی ہے

اللہ کو محبوب سے کتنی ہے محبت

ہاں طٰہٰ و یٰسٓ میں اسرارِ جلی ہے

بلواتے رہیں مجھ کو مدینے میں ہمیشہ

امید مِری آپ سے سرکار یہی ہے

عالم میں مسلمان پریشاں ہیں پریشاں

بے چین نظر آپ کے در پہ ہی جمی ہے

مانگے ہی چلے جائو یہاں ملتا ہے سب کچھ

کس چیز کی در پر میرے مولیٰ کے کمی ہے

شاکرؔ نہ ہو غمگیں تِری جھولی وہ بھریں گے

منہ مانگی ملے گی کہ یہ دربارِ نبی ہے