قطب الاقطاب، فرد الافراد، قطبِ ربانی، محبوبِ سبحانی، سرکارِ غوثِ پاک شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ گرامی فضائل و مناقب اور کمالات کی بنا پر جماعت اولیاء میں انفرادی حیثیت کی حامل ہے، سرکارِ غوثِ اعظم جملہ صحابۂ کرام اور بعض اکابرین تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ سیدنا امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ تک کے تمام اولیائِ کرام و مشائخ عظام سے افضل و اعلیٰ و اکمل ہیں۔

تمام اولیائے کرام خواہ آپ کے پہلے کے ہوں یا ہم عصر یا آپ کے عہدِ مبارک کے بعد ہوں گے سب آپ کے مداح اور آپ کی نظرِ کرم کے امید وار ہیں۔ سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت نغمہ سرا ہیں ؎

جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے

سب ادب رکھتے ہیں دل میں مِرے آقا تیرا

آپ نے جب بحکمِ خداوندی غوثیتِ کُبریٰ کا اظہار اس طریقہ سے فرمایا ’’قدمی ہٰذا علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ‘‘ یعنی میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔ تو اس وقت دربارِ خداوندی اور بارگاہِ رسالت سے جو فیضِ کرم اور رحمت و نور کی بارش کا جو عالم تھا اس کے متعلق اس عہد کے مشہور بزرگ امام ابو سعید قیلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’جب حضرت شیخ عبدالقادر نے فرمایا میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے تو اس وقت اللہ عزوجل نے ان کے قلبِ مبارک پر تجلی فرمائی اور حضور سیدِ عالم ا نے ملائکہ مقربین کے ایک گروہ کے ہاتھ ان کے لئے خلعت بھیجی اور تمام اولیاء اولین و آخرین کا مجمع ہوا جو زندہ تھے وہ بدن کے ساتھ حاضر ہوئے اور جو انتقال فرماگئے تھے ان کی ارواح طیبہ آئیں ان سب کے سامنے وہ خلعت حضرتِ غوثِ اعظم کو پہنائی گئی، ملائکہ اور رجال الغیب کا اس وقت اس قدر ہجوم تھا کہ فضا میں پرے باندھے کھڑے تھے، تمام افق ان سے بھر گیا تھا اور روئے زمین پر کوئی ایسا ولی نہ تھا جس نے گردن نہ جھکادی ہو۔‘‘ (بہجۃ الاسرار)

اس دور کے ولی ٔ کامل خلیفہ اکبر ملکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خواب میں سرکار ا کے دیدار سے مشرف ہوئے تو عرض کیا یا رسول اللہ ا شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ میرا قدم ہر ولی اللہ کے گردن پر ہے، تو رسول اللہ ا نے فرمایا شیخ عبدالقادر نے سچ کہا اور کیوں نہ ہو کہ وہ قطب ہیں اور میں ان کا نگہبان ہوں۔

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا

اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب اور کرامات و خوارق حد و شمار سے باہر ہیں جنہیں احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں، جو کچھ آج تک لکھا جا چکا ہے وہ اس بحرِ بیکراں کا ایک قطرہ ہے۔ امام اجل، شیخ الحرمین، حضرت عبداللہ یافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے اوصاف اتنے روشن اور درخشاں ہیں کہ اگر پھولوں کی پتیاں دفتر بن جائیں اور باغوں کی ٹہنیاں قلمیں بن جائیں تو آپ کے اوصاف کو نہیں لکھا جا سکتا۔ آپ کے کمالات کا احاطہ کرنے میں بڑے بڑے عارفین قاصر ہیں اور کوئی اسلوب تحریر ان کے کمالات کے مکمل بیان پر حاوی نہیں ہو سکتا، اگر ہم لکھنا شروع کریں تو دنیا بھر کے قلمیں ناکام ہو جائیں گے۔ (زبدۃ الآثار، صفحہ:۱۸)

شیخ الحرمین کی تحریر سے واضح ہوا کہ قطب الاقطاب کے اوصافِ حمیدہ کا مکمل بیان ممکن نہیں۔

حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاق نبیِ رحمت، نورِ مجسم ا کے کے حسنِ اخلاق کے مظہر ہیں، آپ کی ذاتِ گرامی میں خلقِ عظیم کے تمام محاسن موجود تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیاں عطا فرمائیں، آپ بڑے عالی مرتبت تھے، آپ کا جاہ و جلال قابلِ رشک تھا، عزت اور وسعتِ علم کے لحاظ سے آپ بڑے عالی شان کے مالک تھے، آپ کی عظمت و رفعت کے چار سو ڈنکے بجتے رہے، آپ کے پاس جو بھی آتا آپ کے اخلاقِ حمیدہ اور اوصافِ جمیلہ سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

حضرت شیخ معمر جرادہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی سے بڑھ کر عمدہ اخلاق والا، بڑے وسیع سینے والا، کریم النفس، مہربان دل، حافظ عہد و محبت نہیں دیکھا۔ آپ باوجود عالی مرتبہ، وسیع علم کے چھوٹوں کی تعظیم کرتے تھے، خود سلام پہلے کہتے، ضعیفوں کے ساتھ بیٹھتے، فقراء سے تواضع کے ساتھ پیش آتے، کسی بڑے دنیا دار آدمی کے لئے کھڑے نہ ہوتے اور کسی وزیر و سلطان کے دروازہ پر کبھی نہ جاتے۔ (بہجۃ الاسرار)

شیخ عبداللہ جیائی بیان کرتے ہیں کہ حضرت غوثِ پاک نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق افضل و اکمل ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹھہرتا، اگر صبح کو میرے پاس ہزار دینار آئیں تو شام تک ان میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، غریبوں، محتاجوں میں تقسیم کر دوں اور لوگوں کو کھانا کھلائوں۔ (قلائد الجوائر)

غوثِ پاک کی طبیعت میں عاجزی و انکساری کے اوصاف کمالِ حد تک موجود تھے، آپ بڑے منکسر المزاج بزرگ تھے، آپ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ ولایت و بزرگی کے بلند مرتبہ پرفائز ہونے کے باوجود اپنے چھوٹے بڑے کا کام خود انجام دیتے، خود بازار جا کر سودا خریدتے، گھر میں اگر آپ کی بیویوں میں سے کسی کی طبیعت خراب ہو جاتی تو گھر کے سارے کام خود اپنے دستِ مبارک سے انجام دیتے، عام معمولاتِ زندگی میں آپ کی عجز و انکساری کا یہ عالم تھا کہ کوئی بچہ بھی آپ سے مخاطب ہو کر بات کرتا تو آپ ہمہ تن گوش ہو جاتے۔

ایک دفعہ گلی میں چند بچے کھیل رہے تھے، آپ کا گزر ادھر سے ہوا، ایک بچے نے آپ کو روک لیا اور کہا میرے لئے ایک پیسہ کی مٹھائی بازار سے خرید کر لائیے، آپ کے جبینِ مبارک پر شکن تک نہ آئی اور فوراً بازار جا کر ایک پیسہ کی مٹھائی لا کر بچے کو دی۔ اسی طرح کئی بچوں نے آپ سے مٹھائی لانے کی گزارش کی ، آپ نے ہر ایک کی خواہش پوری کی۔ (سیرتِ غوثِ اعظم)

غوثِ پاک عفوو در گزر کے پیکرِ جمیل تھے، اگر کسی سے زیادتی ہوجاتی تو آپ درگزر فرماتے، جس زمانے میں آپ مدرسہ نظامیہ میں پڑھاتے تھے اس دور میں خصوصی طور پر آپ نے طلبہ کی غلطیوں کو در گزر فرمایا، کسی پر ظلم ہوتا دیکھتے تو آپ کو جلال آجاتا مگر اپنے معاملے میں کبھی غصہ نہ آتا، اگر بتقاضۂ بشری غصہ آجاتا تو ’’خدا تم پر رحم کرے‘‘ سے زیادہ کچھ نہ فرماتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے اگر برائی کا بدلہ برائی سے دیا جائے تو یہ دنیا خونخوار درندوں کا گھر بن جائے۔

ایک مرتبہ آپ دولت خانہ میں بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے، چھت پر سے مٹی گری، آپ نے تین دفعہ مٹی جھاڑ دیا، پھر چوتھی مرتبہ سر اٹھایا تو ایک چوہیا کو دیکھا جو وہاں پر پھر رہی تھی، تب آپ نے فرمایا ’’تیرا سر اُڑ جائے‘‘ اتنا کہنا تھا کہ اس کا جسم ایک طرف اور سر ایک طرف گر پڑا آپ نے لکھنا چھوڑ دیا اور رونے لگے، کسی نے عرض کیا اے شیخ آپ کیوں روتے ہو؟ فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ کسی مسلمان سے میرا دل رنجیدہ ہو تو اس کو بھی یہی موقعہ ہو جو اس چوہیا کو ہوا ہے۔ (بہجۃ الاسرار)

دریا دلی:غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں بڑے دریا دل تھے، اگر کسی ضرورت مند کو دیکھتے تو جو کچھ میسر آتا اسے عنایت کر دیتے۔

ایک مرتبہ غوثِ اعظم کی نظر ایک پریشان حال، کبیدہ خاطر فقیر کے اوپر پڑی، ایک انسان کو اس عالم میں دیکھ کر آپ کا دل تڑپ اٹھا اور بلا تاخیر دریافت کی تمہارا کیا حال ہے؟ اظہارِ مجبوری کے ساتھ فقیر نے جواب دیا مجھے دریا کے اس پار جانے کی حاجت ہے لیکن پیسہ نہ ہونے کے سبب بسیار عاجزی کے باوجود ملاح نے اپنی کشتی میں بٹھانے سے انکار کر دیا جس سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اگر میرے پاس ہوتا تو آج یہ محرومی مجھے کیوں کر ہوتی حسنِ اتفاق سے غوثِ پاک کے پاس بھی کچھ نہ تھا مگر اس کی پریشانی آپ کو برداشت نہ ہو سکی اور خدائے قادر کی بارگاہ میں دست بدعا ہوئے، معاً ایک شخص اشرفیوں کی ایک تھیلی آپ کی خدمت میں پیش کی، آپ بہت خوش ہوئے اور فوراً فقیر کو بلا کر فرمایا لو یہ تھیلی لے جائو، ملاح کو دے دو اور کہہ دینا کہ اب کبھی بھی کسی فقیر اور نادار کو کشتی میں بٹھانے سے انکار نہ کرنا۔ (ایضاً ۱۱۲)

غوثِ پاک کے پاس جس وقت کوئی شخص سونا لاتا تو آپ اسے ہاتھ نہ لگاتے اور لانے والے سے فرماتے کہ اسے مصلے کے نیچے رکھ دو۔ جب خادم آتا اسے حکم دیتے کہ مصلے کے نیچے جو کچھ پڑا ہے اسے اٹھا لو اور طباخ و سبزی فروش کو دے دو۔ (ایضا ۱۱۲)

غریب پروری:غریبوں، مسکینوں کے لئے آپ سراپا رحمت تھے، ان لوگوں سے آپ بے حد محبت فرماتے، انہیں اپنے ساتھ بٹھاتے، کھانا کھلاتے اور ان کی جو بھی خدمت بن آتی کرتے، فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مال و دولت کو پیار نہیں کرتا بلکہ اسے تقویٰ اور اعمالِ صالحہ محبوب ہیں۔ غوثِ پاک ایک مرتبہ حج سے واپسی کے وقت مقام حلہؔ پہنچے تو آپ نے فرمایا اس جگہ کا سب سے غریب اور مسکین گھرانہ تلاش کرو، ایک ویران گھر دیکھا گیا جو بالوں کے خیمے پر مشتمل تھا، اس میں ایک ضعیف العمر شخص اور اس کی بوڑھی بیوی اور ایک لڑکی قیام پذیر تھے، آپ نے اسی گھر میں اترنے کی اجازت طلب کی، اس نے بخوشی اجازت دے دی، شہرِ حلہ کے مشائخ، رؤسا اور اکابرین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اصرار کیا جگہ تبدیل کریں۔ آپ نے انکار فرمایا، لوگوں نے گائے، بکریاں، مختلف کھانے، سونے، چاندی کے انبار آپ کے سامنے لگادئے اور جب وہاں سے عزمِ سفر کیا تو فرمانے لگے جو مال و اسباب یہاں موجود ہیں اس میں سے اپنا حصہ میں نے اس گھرانے کے لئے وقف کر دیا، رفقاء نے عرض کیا ہم نے بھی اپنے حصے راہِ خدا میں ان لوگوں (گھرانے) کو دے دئے، چنانچہ تمام مال و اسباب آپ نے اس ضعیف العمر اور اس کی بچی کے حوالے کر دیا، راوی کا بیان ہے کہ کئی برس بعد حلہؔ سے گزر ہوا تو وہی ضعیف العمر شخص بستی میں سب سے زیادہ مالدار تھا، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ سب کچھ شیخ کی عطا کردہ مال و دولت کی برکت ہے۔

مخلوقِ خدا کی بھلائی:آپ نے ہمیشہ مخلوقِ خدا کی بھلائی کی، اپنے پاس آنے والوں کی راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائی، بے شمار مخلوقِ خدا کو دعائوں کے ذریعہ نجات کے راستے پر گامزن کیا، اگر کوئی پریشان حال آیا تو اس کی بات سُن کر ہر ممکن مدد کی، مخلوقِ خدا آپ کو غمخوار جانتے ہوئے جوق در جوق آتی تھی اور آپ کی صحبت سے سکون حاصل کر کے جاتی۔

ایک دفعہ آپ نے فرمایامیری تمنا ہے کہ ابتدائے حال کی طرح جنگلوں اور ویرانوں میں رہوں جہاں نہ میں کسی کو دیکھوں اور نہ ہی مجھے کوئی دیکھے، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ مخلوق کی منفعت کا ارادہ فرمایا، چنانچہ یہود و نصاریٰ میں سے ۵۰۰۰ سے زیادہ آدمی میرے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد ڈاکو اور ٹھگ میرے ہاتھ پر تائب ہوئے اور ایک عظیم فائدہ ہے۔ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنے تمام اعمال کی چھان بین کی اور جستجوکی تو مجھے معلوم ہوا کہ سب سے بہتر عمل کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق سے پیش آنا ہے اگر میرے ہاتھ میں پوری دنیا کی دولت بھی دے دی جائے تو میں اسے بھوکوں کو کھانا کھلانے میں صرف کر دوں کیوں کہ میرے ہاتھ میں سوراخ ہے جن میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اگر میرے پاس ہزاروں دینار آجائیں تو میں رات گزرنے سے قبل ہی خرچ کر ڈالوں۔

ہمدردی اور شفقت:غوثِ پاک کا رویہ بڑا ہمدردانہ اور مشفقانہ تھا، مجلس میں آنے والوں کے لئے ہر وقت ہمدردی کا اظہار فرماتے، اگر کوئی ملنے والا چند روز نہ آئے تو دوسرے سے اس کی خیر و عافیت دریافت فرماتے اور بعض اوقات یوں بھی کرتے کہ خادم سے کہتے کہ جا کر معلوم کرو کہ فلاں شخص کہیں کوئی پریشانی میں تو مبتلا نہیں ہو گیا؟ طبیعت تو نہیں خراب ہو گئی ہے؟ جب تک اس کی خیریت نہ معلوم کر لیتے مطمئن نہ ہوتے، اگر وہ شخص بیمار ہوتا اور اس کی علالت کی خبر آپ کو ملتی تو اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے اور اس کے بہت قریب جا کر بیٹھتے دیر تک اطمینان و تسلی بخش باتیں کرتے اور ہمدردی کا اظہار فرماتے تھے، احباب میں سے ایک شخص بغداد مقدس سے کافی فاصلے پر ایک گائوں میں رہتے تھے، ایک مرتبہ بیمار پڑ گئے، آپ کو ان کی علالت کی خبر ملی تو آپ سفر کی تمام دشواریاں برداشت کر کے اس گائوں میں ان کی عیادت فرمانے تشریف لے گئے۔ (ایضاً صفحہ:۱۲۶)

الغرض! حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس زندگی خلقِ خدا کی مدد، پریشان و مجبور لوگوں کے تعاون اور ان کی فریاد رسی کے سلسلے میں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی عقیدت و محبت کا دم بھرنے والے آپ کے فرمودات پر عمل کریں، ان کی تعلیمات کو عام کرنے کے جو بھی طریقے ممکن ہوں اس پر عمل پیرا ہوں اور محض زبانی دعووں سے فلاحِ دارین کا خواب نہ دیکھیں۔

رب قدیر ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین