حدیث نمبر :554

اوربخاری کی ایک روایت میں حضرت ابوسعید سے ہے کہ ظہرٹھنڈی کرو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی بھڑک سے ہے۲؎ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی تھی کہا تھا اے رب میرے بعض نے بعض کو کھا ڈالا رب نے اسے دوسانسوں کی اجازت دی ایک سانس سردی میں اور ایک گرمی میں یہ وہی تیز گرمی اور ٹھنڈک ہے جسے تم محسوس کرتے ہو۳؎(مسلم،بخاری)اوربخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جو تیزگرمی تم پاتے ہو یہ دوزخ کی گرم سانس سے ہے اورجوتیز ٹھنڈک تم پاتے ہو یہ اس کی ٹھنڈی سانس سے ہے۔

شرح

۱؎ یہ حدیث ان تمام احادیث کی شرح ہے جن میں فرمایا گیا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم دوپہری میں ظہر پڑھتے تھے،اس نے بتایاکہ وہاں جاڑوں کی ظہرمرادہے،گرمیوں میں ظہر ٹھنڈی کرنے کا تاکیدی حکم ہے۔اس سےحنفیوں کے دومسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ گرمی کی ظہر ٹھنڈی کرکے پڑھنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ ظہر کا وقت دومثل سایہ تک رہتا ہے کیونکہ ایک مثل تک ہرجگہ خصوصًاعرب میں بہت تپش رہتی ہے۔نیز بخاری،ابوداؤد و بیہقی،طحاوی،ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوذرغفاری سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفرمیں ظہرجب پڑھی جب کہ ٹیلوں کا سایہ پڑگیا اورٹیلہ کاسایہ ایک مثل کے بعدہی پڑتاہے،نیز بخاری شریف نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہود ان مزدوروں کی طرح ہیں جوصبح سے ظہرتک ایک قیراط پر کام کریں،عیسائی وہ مزدور ہیں جوظہر سے عصر تک ایک قیراط پر محنت کریں،اورتم وہ مزدورہوجوعصرسے مغرب تک دوقیراط کے بدلے کام کریں تمہارا کام کم اورمزدوری زیادہ۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ وقت عصروقت ظہرسے کم ہے ورنہ یہ مثال درست نہ ہوتی اگرایک مثل پرعصرشروع ہوجایاکرے تو اس کا وقت ظہرکی برابر بلکہ گرمیوں میں اس سے کہیں زیادہ ہوجائیگا۔اس مسئلہ پرامام صاحب کے اوربہت دلائل ہیں اگرشوق ہوتوہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم کایہ باب دیکھو۔

۲؎ خیال رہے کہ فلاسفہ کے نزدیک گرمی آفتاب کے قرب سے آتی ہے مگر آفتاب میں گرمی دوزخ سے آئی۔ہوسکتا ہے کہ گرمی آفتاب سے بھی ہو اور دوزخ کی بھڑک کی توجہ سے،اگرچہ گرمیوں کے موسم میں بعض پہاڑوں اوربعض مقامات پرٹھنڈک رہتی ہے لیکن یہ اس کے خلاف نہیں جیسے سورج کی گرمی ایک ہے لیکن اس کے اثر کا ظہور زمین پرمختلف،کہیں سردی،کہیں گرمی،ایسے ہی ادھربھی ہے کہ بھڑک کی توجہ جہاں زیادہ ہے وہاں گرمی،جہاں کم ہے وہاں سردی،لہذا اس حدیث پر نہ تو آریوں اورعیسائیوں کاکوئی اعتراض ہوسکتا ہے نہ چکڑالویوں کا۔

۳؎ یعنی دوزخ جب اوپرکو سانس لیتا ہے تو دنیا میں عمومًا سردی کا زورہوتاہے اورجب نیچے کوسانس چھوڑتاہے تو عمومًا گرمی کی شدت۔خیال رہے کہ یہ حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی تاویل یاتوجیہ کی ضرورت نہیں ہرچیزمیں قدرت نے زندگی اورشعوربخشے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:”فَمَا بَکَتْ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ”کفار کے مرنے پر آسمان و زمین نہیں روتے یعنی مسلمان کے مرنے پر روتے ہیں،اورفرماتاہے:”وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ”بعض پتھر اﷲ کے خوف کی وجہ سے گرجاتے ہیں۔چکڑالویوں کو ان احادیث پراعتراض کرنے سے پہلے یہ آیات دیکھنی چاہئیں۔