نماز کا چوتھا فرض :- رکوع

 یعنی اتنا جھکناکہ ہاتھ بڑھائے تو ہاتھ گھٹنے کو پہنچ جائیں ۔ یہ رکوع کا ادنیٰ درجہ ہے۔(درمختار)

رکوع کاکامل درجہ یہ ہے کہ پیٹھ سیدھی بچھادے ( بہار شریعت )

 رکوع ہمارے نبی ﷺ اور آپ کی امت مرحومہ کے خصائص سے ہے ۔ کہ بعد اسراء (معراج) عطا ہوا بلکہ معراج کی صبح کو جو پہلی نماز ظہر پڑھی گئی تب تک رکوع نہ تھا۔ اسکے بعد عصر کی نماز میں اس کا حکم آیا اور حضور و صحابہ نے ادا فرمایا ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۱۸۲)

 اگلی شریعتوں میں بھی رکوع نہ تھا ۔ ( حوالہ :- ایضاً )

رکوع کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:ہر رکعت میں صرف ایک ہی رکوع کرے اگر بھول کر دو رکوع کئے تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( در مختار )

مسئلہ:رکوع میں کم از کم ایک مرتبہ ’’ سبحان اللّٰہ‘‘ کہنے کے وقت کی مقدار تک ٹھہرنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:رکوع میں تین مرتبہ ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘ کہنا سنت ہے ۔ تین مرتبہ سے کم کہنے میں سنت ادا نہ ہوگی اور پانچ مرتبہ کہنا مستحب ہے ۔ ( فتح القدیر)

مسئلہ:رکوع میں ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘کہتے وقت ’’عظیم ‘‘ کی ’’ ظ ‘‘ کو خوب احتیاط سے ادا کریں ۔ کچھ لوگ ’’ ظ ‘‘ کے بجائے ’’ج ‘‘ ادا کرتے ہیں یعنی ’’ عظیم ‘‘ کے بجائے ’’ عجیم ‘‘ پڑھتے ہیں اور یہ سخت گناہ ہے ۔ کیونکہ عظیم اور عجیم کے معنوں میں زمین اور آسمان جتنا فرق ہے ۔ اس فرق کو سمجھیں :-

…… سبحان ربی العظیم = پاک ہے میرا رب جو بزرگ(عظمت والا) ہے۔

عظیم کے معنی بڑا ، بزرگ ، کلاں، عظمت والا وغیرہ ہوتے ہیں۔

عجیم کے معنی گونگا کے ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ’’ عجیم ‘‘ کی نسبت کرنا سخت منع ہے ۔

مسئلہ:اگرکوئی شخص حرف ’’ ظ‘‘ ادا نہ کرسکے وہ ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘ کی جگہ پر ’’سبحان ربی الکریم ‘‘ کہے ۔ (ردالمحتار)

مسئلہ:رکوع میںجانے کے لئے ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہنا سنت ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:مردوں کے لئے سنت ہے کہ رکو ع میںگھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑیں اور ہاتھ کی انگلیاں خوب کھلی رکھیں ( بہار شریعت)

مسئلہ:عورتوں کے لئے سنت یہ ہے کہ رکوع میں گھٹنوں کو ہاتھ سے نہ پکڑیں بلکہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھیں اور ہاتھ کی انگلیاں کشادہ نہ کریں ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:مردوں کے لئے سنت ہے کہ حالت رکوع میں ٹانگیں سیدھی رکھیں۔ اکثر لوگ رکوع میں ٹانگیں کمان کی طرح ٹیڑھی کردیتے ہیں ، یہ مکروہ ہے (بہار شریعت )

مسئلہ:مردوں کے لئے سنت ہے کہ رکوع میں پیٹھ خوب بچھی ہوئی رکھیں یہاںتک کہ اگر پانی کا پیالہ پیٹھ پر رکھ دیا جائے تو ٹھہر جائے ۔ ( فتح القدیر)

حدیث::– ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ ’’ اس شخص کی نماز ناکافی ہے ( یعنی کامل نہیں) جو رکوع و سجود میں پیٹھ سیدھی نہ کرے ۔

مسئلہ:مردوں کے لئے سنت ہے کہ رکوع میں سر نہ جھکائے اور نہ اونچا رکھے بلکہ پیٹھ کے برابر ہو ۔ ( ہدایہ )

مسئلہ:عورت کے لئے سنت ہے کہ رکوع میں تھوڑاجھکے یعنی صرف اتنا جھکے کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور پیٹھ بھی سیدھی نہ کرے اور گھٹنوں پر زور نہ دے بلکہ محض ہاتھ رکھ دے اور ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے ۔ پاؤں بھی جھکے ہوئے رکھے ۔ مردوں کی طرح ٹانگیں خوب سیدھی نہ کرے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ نہ باندھنا بلکہ لٹکے ہوئے چھوڑ دینا سنت ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ:رکوع سے اٹھتے وقت امام کا ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہنا اور مقتدی کا ’’ اللہم ربنا ولک الحمد‘‘ کہنا اور منفرد ( اکیلا پڑھنے والے) کے لئے دونوں کہنا سنت ہے۔(در مختار)

مسئلہ:منفرد ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتاہوا رکوع سے اٹھے اور سیدھاکھڑا ہوکر ’’ اللہم ربنا و لک الحمد ‘‘کہے ۔(درمختار)

مسئلہ:’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘ ‘ کی ’’ ہ ‘‘ کو ساکن پڑھے ۔اس پر حرکت ظاہر نہ کرے اور ’’دال‘‘ کو بھی کھینچ کر نہ بڑھائے ۔ اس طرح پڑھنا سنت ہے ۔ (عالمگیری)

مسئلہ:صرف ’’ ربنا لک الحمد ‘‘ کہنے سے بھی سنت ادا ہوجائیگی مگر ’’ واو‘‘ ملانا بہتر ہے ۔ یعنی ’’ ربنا ولک الحمد ‘‘ اور شروع میں’’ اللہم ‘‘ کہنا زیادہ بہتر ہے ۔( درمختار)

حدیث: بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ جب امام ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘کہے تو ’’ اللہم ربنا ولک الحمد ‘‘ کہو کہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوا اس کے اگلے گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی ۔ ‘‘

مسئلہ:حالت رکوع میں پشتِ قدم کی طرف نظر کرنا مستحب ہے ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۷۲)

مسئلہ:امام نے رکوع سے کھڑے ہوتے وقت بھول کر ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کی جگہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہا تو نماز ہوجائے گی ۔ سجدۂ سہو کی اصلاً حاجت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص۶۴۷)

مسئلہ:سنت یہ ہے کہ ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کی ’’ سین ‘‘ کو رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ کہے اور ’’ حمدہ‘‘ کی ’’ ہ ‘‘ سیدھاکھڑا ہونے کے ساتھ ختم کرے ۔ (فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳، ص ۶۵ )

مسئلہ:رکوع سے جب اٹھے تو ہاتھ لٹکے ہوئے چھوڑ دینا سنت ہے ۔ ہاتھ باندھنانہ چاہئے ۔ (عالمگیری )

مسئلہ:رکوع سے فارغ ہوکر سجدہ میں جانے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے وقت کی مقدار کھڑارہنا یعنی قومہ میں کھڑا رہنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:اگر کسی نے سہواً رکوع میں ’’ سبحان ربی الاعلیٰ ‘‘ یا سجدہ میں ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘ پڑھا ۔ سجدہ ٔ سہو کی ضرورت نہیں ۔ نماز ہوجائے گی ۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۶۴۷)