نیکی کی کڑواہٹ اور گناہ کی لذت

نیکی کی کڑواہٹ اور گناہ کی لذت

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ

بلاشبہ جن لوگوں نے یوں کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر مستقیم رہے ان پر فرشتے نازل ہوں گے کہ تم خوف نہ کرو اور رنج نہ کرو اور خوش ہوجاؤ جنت کی خبر سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا….

گناہ میں لذت

گناہ میں مزہ آنے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے خارش میں مزہ آتا ہے، خارش والا کہتا ہے کہ کھجلانے میں اتنا مزہ ہے، کہ شائد اس جیسی لذت کہیں اور میسر نہیں، لیکن کھجلانے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

جلن اور بڑھ جاتی ہے اور کھجلاتے کھجلاتے زخم بن جاتا ہے خون نکل آتا ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ میں نے اپنے ہی جسم پر زخم کر دیئے ،نجانے کتنے دن ان زخموں کو بھرنے میں لگ جائیں۔

یہی حال گناہ کا ہے، تھوڑی دیر کا مزہ ہے اور طویل ذلت و سزا ہے…………

گناہ بے چینی کا سبب ہے…..

گناہ کرنے والا انسان ہر وقت بے چین رہتا ہے۔ عقل سے سوچو کہ کوئی غلام اپنے مالک کو ناراض کرکے چین سے رہ سکتا ہے؟

تھوڑی دیر صبر کر کے کھجلانے سے رک جائے تو اپنے آپ کو زخمی کرنے سے بچ جائے …

اگر آدمی ہمت کرلے تو بُری سے بُری عادت چھوٹ جاتی ہے۔

گناہ کا علاج کبھی کڑوا بھی ہوتا ہے…..

دیکھیے! بچہ دو سال کا ہوجائے تو ماں کا دودھ پینا منع ہوجاتا ہے، لیکن اگر کوئی بچہ پھر بھی دودھ پینے کے لیے ماں سے لڑرہا ہو، ضد کر رہا ہو، چلّا رہا ہو تو ماں اس کا علاج کرتی ہے،

نیم کی پتی پیس کر، مصبر، یا رس چھاتی پر لگالیتی ہے، اورپھر بچہ کہتا ہے کہ اماں کا دودھ بہت کڑوا ہے، حالانکہ کڑوا نہیں ہے۔ اس نے علاج کیا ہے تاکہ اس نالائق کی بری عادت چھوٹے….

ایسے ہی اللہ والے گناہوں کی بری عادت چھڑوانے کے لئے اللہ کے خوف کی (بظاہر) کڑواہٹ سے گناہ چھڑوا دیتے ہیں….. ۔

گناہ چھوڑنے کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے…

مثلاً !

ایک شخص پچاس ہزار رشوت کے لے کر گھر کی طرف جارہا ہو اور اسے پتہ چلے انسدادرشوت ستانی کا محکمہ میرا پیچھا کر رہا ہے،تو اسے رشوت کے روپے کسی جگہ پھینکنا پڑیں ، حتیٰ کہ اگر گٹر میں بھی پھینکنا پڑیں تو اس رشوت کی رقم کو چھوڑ کر یا پھینک کر خوشی ہوگی یا ناگواری؟

یقینا! وہ تو خوش ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہاہو گا کہ جان بچی، کیوں کہ جانتا تھا کہ اگر میں ان نوٹوں سمیت پکڑا جاتا تو جیل کی ہوا کھانی پڑتی، بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا، ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا …..

دوسری مثال!

اسی طرح ہیروئن کا سمگلر پکڑے جانے کے ڈر سے لاکھوں کی ہیروئن گٹر میں بہا دیتا ہے….

میرے بھائی !

اگر آخرت کا یقین اور اللہ کی پکڑ کا اتنا ہی خوف ہمارے دل میں بیٹھ جائے، تو بندہ گناہ سے دور بھاگے،اور اس کو چھوڑ دے، اور گناہ چھوڑ کر خوشی ہو، اسی طرح جس طرح دنیا میں پولیس سے بچنے کے لئے تو نے رشوت کی رقم کو چھوڑ دیا۔۔

اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے نیکی کا کڑوا پھل بھی لذت سے کھایا جا سکتا ہے ہے…. مگر !

گناہ چھوڑنے کا رستہ کڑوا و مشکل ضرور ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو لذیذ بنانے کا نسخہ قرآنِ پاک میں نازل فرمادیا:

فرمایا ! کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ

سچوں کے ساتھ ہو جاؤ…

اللہ والوں یعنی اللہ سے ڈرنے والوں کےساتھ ہو جاؤ، تو ان کی برکت سے نیکی کا رستہ نہ صرف آسان ہوگا بلکہ مزیدار بھی ہوجائے گا۔۔۔

مثال !

اگر کوئی کڑوی مرچیں آپ کی ہتھیلی پر رکھے اور کہے کہ یہ کھا جاؤ، تو آپ کہیں گے کیا کہتے ہو تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا، میں اپنا منہ کیوں جلاؤں …..

لیکن اگر وہی مرچیں کسی ھنڈیا میں ڈال کر دی جائیں تو تم لذت سے کھا جاؤ…….

اسی طرح اللہ والے خوف الہی کی مرچیں، محبت کی ہنڈیا میں ڈال کر اس انداز سے کھلاتے ہیں کہ اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے، اور نیکی کی لذت پیدا ہو جاتی ہے ……..

ایک اور مثال

آپ نے دیکھا نہیں! دیسی آم کے ساتھ لنگڑے آم کی شاخ کاٹ کر پٹی باندھ دی جائے تو ،اس کی صحبت کے اثر سے دیسی آم بھی لنگڑا آم بن جاتا ہے ۔۔۔

اسی طرح

تِل کا تیل جب خوشبو کے ساتھ مِلا تو بھاری قیمت پا گیا، امیر و کبیر بھی اس کم قیمت تیل کو لگا خوشی محسوس کرتا ہے ۔۔۔

ہم نیکی کرتے ہوئے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ میں اکیلا، دنیا کدھر جارہی ہے، در اصل ہم اقلیت ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں

حالانکہ آپ روزانہ دیکھتے ہیں

سورج کبھی نہیں ڈرتا کہ میں اکیلا ہوں، لہٰذا ٹوٹ کر ستاروں کی اکثریت میں تبدیل ہوجاؤں، بلکہ سورج جگمگاتا ہوا،اپنا تابناک چہرہ لیے ہوئے اکیلا نکلتا ہے،تو ستاروں کو چھپا دیتا ہے کہ جاؤ، بھاگ جاؤ یہاں سے، اب تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ سارے ستارے روپوش ہوجاتے ہیں، ستاروں میں دم نہیں ہے کہ سورج کے مقابلے میں آسکیں۔

دوسرا پہلو

نیکو کار کے لئےجزا

(1)پہلی بات !

خوف الٰہی رکھنے والا فرمانبردار مومن کامیاب ہے

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ (النور:۵۲)

ترجمہ:۔ اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کرے اور اللّٰہ سے ڈرے اور تقویٰ اختیار کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔

(2)دوسری بات!

اور نافرمان اپنے ہی کئے میں گرفتار ہے

جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :

وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک (النساء :79)

اور تمہیں جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

(3)تیسری بات!

اللہ کی نظر میں نیک و بد برابر نہیں

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ(۱۹)

ترجمہ: ۔اور اندھا اور دیکھنے والابرابر نہیں ۔ (یعنی جاہل وعالم )

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ(۲۰)

ترجمہ: ۔اور نہ اندھیرا اور اجالا۔( یعنی بدی ونیکی)

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ(۲۱)

ترجمہ: ۔اور نہ سایہ اور تیز دھوپ۔(یعنی رحمت و شفقت اور ظلم)

(4)چوتھی بات!

نیکی کا صلہ صرف تجھے ہی نہیں ملتا بلکہ تیری اولاد کو بھی ملتا ہے۔

قرآن پڑھ کے دیکھ:

نیک باپ کی وجہ سے اللہ اولاد کے مال کی بھی حفاظت کرتا ہے…..

وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَةِ وَكَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ ۔

ترجمہ:۔اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکال لیں۔

بلکہ! علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح المعانی میں،، کَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا،، کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں،

ان دو یتیم بندوں کا باپ صالح تھا، اس کی صالحیت ووفاداری پر اللہ کا کرم ہوا، تو صرف اسی پر نہیں ہوا اور اس کی صرف ایک ہی پشت پر نہیں ہوا، بلکہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ،، کَانَ الْاَبَ السَّابِعَ،، یہ ساتواں باپ تھا، سات باپ گزر چکے مگر ساتویں پشت پر بھی فضل ہورہا ہے۔ واللہ اعلم ورسولہ

(5)پانچویں بات!

اور نیک ماں باپ کا اجر اولاد کو صرف دنیا میں ہی نہیں ملتا،بلکہ بغیر کٹوتی کے آخرت میں بھی ملتا ہے۔

دیکھئے! سورۃ طور کی ان آیات کو

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ

اور ایمان والوں کو، اور ان کی اس اولاد کو جس نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی(اگرچہ عمل میں کچھ کمی بھی ہو) ہم ان کی اس اولاد کو بھی، ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ اور ہم ایمان والوں کے عمل سے کوئی کمی نہیں کریں گے، ہر شخص اپنے اعمال کے عوض گروی ہے ۔ (سورۃ طور)

بلکہ ! بعض علماء یہ فرماتے ہیں، ذُریت سے مراد اولاد کے ساتھ ساتھ توابع بھی ہو سکتے ہیں،کیونکہ یہ روحانی اولاد ہیں۔

لہٰذا اللہ کے کرم سے امید ہے ان شاء اللہ شاگرد، مریدین غیرہ بھی شامل ہوجائیں گے۔

(6)چھٹی بات !

اور یہ اجر صرف اولاد کو ہی نہیں ملتا بلکہ ماں باپ کو بھی ملتا ہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا : جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو وہ اس مسلمان کو جنت میں داخل کردیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی ان بچوں پر رحمت اور اس کا فضل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٤٨‘)

ایک روایت میں دو ،اور ایک روایت میں ہے، کہ ایک بچہ بھی ماں باپ کو جنت میں لے جائے گا۔۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے (١) صدقہ جاریہ (٢) وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) اس کی نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣١)

بشرطیکہ بالغ اولاد بے ایمان نہ ہو

جس طرح اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا

قال ینوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح (ھود : ٤٦) فرمایا : اے نوح ! وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے ‘ اس کے اعمال نیک نہیں ہیں۔

اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے……. آمین

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.