پورے قرآن اور مکمل ذخیرہ حدیث میں یہ کہیں بھی نہیں آیا کہ “کافرصرف وہ ہے جو حق کے واضح ہونے کے بعداس کا انکار کرے اور جو انجانے میں انکار کرے وہ کافر نہیں صرف غیرمسلم ہے”۔ اس کے برعکس پورے اسلامی ڈسکورس میں یہ ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص “کافر” کہلاے گا جو چاہے جان بوجھ کر حق کا انکار یا چاہے انجانے میں۔

چودہ سو سال بعد آج غامدی صاحب پیدا ہوے اور واحد انہیں محسوس ہوا کہ امت کا اجماعی شعور تو غلط ہے ،صحیح فہم دین صرف ان کا ہے۔ فرماتے ہیں کہ کافر اور غیرمسلم میں فرق ہے۔ ان کے ہاں “کافر” وہ ہے جو جان بوجھ کر کفر کرے اور “غیرمسلم” وہ ہے جو انجانے میں کفر کرے۔ ان سے پوچھئیے کہ آپ نے جو یہ تقسیم کی یہ آپ کی اپنی تراشی ہوئی ہے یا اس پر کوئی نقلی دلیل بھی موجود ہے؟

اگر غامدی صاحب کی من گھڑت تقسیم کو مان لیا جاے تو پھر دنیا میں کوئی “کافر” بچتا ہی نہیں۔ جب کوئی کافر نہ بچا تو پھر گویا وہ تمام احکام شرعی بھی معطل ہو کر رہ گئے جن کا تعلق کفار سے ہے۔ یوں قرآنی احکام صرف دور نبوی تک نافذ العمل قرار پاتے ہیں۔ غرض اس طرح اپنی اس تقسیم سے غامدی صاحب دین کو اجتماعی سے انفرادی زندگی تک محدود کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب کے مذہب میں دین کی اجتماعی انسانی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں۔

ف ر ش