بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

الصلوٰۃوالسلام علیک یارسول اﷲ وعلیٰ الک واصحابک یاحبیب اﷲ

کشفِ راز نجدیت

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

خاک منھ میں ترے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر

مِٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری

تیرے نزدیک ہوا کذبِ الٰہی ممکن

تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری

بلکہ کذاب کیا تو نے تو اقراروقوع

اُف رے ناپاک یہاں تک ہے خباثت تیری

علم شیطاں کا ہوا علمِ نبی ﷺسے زائد

پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری

بزمِ میلاد کانا کے جنم سے بدتر

ارے اندھے ارے مردود یہ جرأت تیری

علمِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول

کفر آمیز جنوں زا ہے جَہالت تیری

یادِ خُر سے ہو نمازوں میں خیال اُنکا بُرا

اُف جہنم کے گدھے اُف یہ خرافت تیری

اُن کی تعظیم کرے گا نہ اگر وقتِ نماز

ماری جائے گی تیرے منھ پہ عبادت تیری

ہے کبھی بوم کی حِلّت تو کبھی زاغ حلال

جیفہ خوری کی کہیں جاتی ہے عادت تیری

ہنس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی

اجتہادوں ہی سے ظاہر ہے حماقت تیری

کھلے لفظوں میں کہے قاضی شوکاں المدد

یا علی سُن کے بگڑ جاتی ہے طبیعت تیری

تیری اٹکے تو وکیلوں سے کرے استمداد

اور طبیبوں سے مدد خواہ ہو علّت تیری

ہم جو اللہ کے پیاروں سے اعانت چاہیں

شرک کا چِرک اُگلنے لگی ملت تیری

عبدِ وہاب کا بیٹا ہوا شیخِ نجدی

اس کی تقلید سے ثابت ہے ضلالت تیری

اُسی مشرک کی ہے تصنیف کتابُ التوحید

جس کے ہر فقرہ پہ ہے مُہرِ صداقت تیری

ترجمہ اس کاہوا دھکۃ الایمان( تقویۃ الایمان )نام

جس سے بے نور ہوئی چشمِ بصیرت تیری

واقفِ غیب ﷺ کا ارشاد سنائوں جس نے

کھولدی تجھ سے بہت پہلے حقیقت تیری

زلزلے نجد میں پیدا ہوں،فتن برپا ہوں

یعنی ظاہر ہو زمانے میں شرارت تیری

ہو اِسی خاک سے شیطان کی سنگت پیدا

دیکھ لے آج ہے موجود جماعت تیری

سر مُنڈے ہوں گے تو پاجامے گھٹنے ہونگے

سر سے پا تک یہی پوری ہے شباہت تیری

اِدّعا ہوگا حدیثوں پر عمل کرنے کا

نام رکھتی ہے یہی اپنا جماعت تیری

اُن کے اعمال پہ رشک آئے مسلمانوں کو

اِس سے تو شاد ہوئی ہوگی طبیعت تیری

لیکن اُترے گا نہ قرآن گلوں سے نیچے

ابھی گھبرا نہیں باقی ہے حکایت تیری

نکلیں گے دین سے یوں جیسے نشانہ سے تیر

آج اس تیر کی نخچر پہ ہے سنگت تیری

اپنی حالت کو حدیثوں کے مطابق کرلے

آپ کھل جائیگی پھر تجھ پہ خباثت تیری

چھوڑ کر ذِکر ترا اَب ہے خطاب اپنوں سے

کہ ہے مبغوض مجھے دل سے حکایت تیری

مِرے پیارے مِرے اپنے مِرے سُنّی بھائی!

آج کرنی ہے مجھے تجھ سے شکایت تیری

تجھ سے جو کہتا ہوں تو دِل سے سُن انصاف بھی کر

کرے اللہ کی توفیق حمایت تیری

گر تِرے باپ کو گالی دے کوئی بے تہذیب

غصّہ آئے ابھی کچھ اور ہو حالت تیری

گالیاں دیں اُنہیں شیطانِ لعین کے پَیرو

جِن کے صدقے میں ہے ہر دَولت و نعمت تیری

جو تجھے پیار کریں جو تجھے اپنا فرمائیں

جن کے دِل کو کرے بے چین اذیت تیری

جو تِرے واسطے تکلیفیں اٹھائیں کیا کیا

اپنے آرام سے پیاری جنہیں صورت تیری

جاگ کر راتیں عبادت میں جنہوں نے کاٹیں

کس لئے؟ اِس لئے کٹ جائے مصیبت تیری

حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی

اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری

اُن کے دشمن سے تجھے رَبط رہے میل رہے

شرم اللہ سے کر کیا ہوئی غیرت تیری

تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے

جوش میں آئی جو اِس درجہ حرارت تیری

اُن کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دُشمن

وہ قیامت میں کریں گے نہ رفاقت تیری

اُن کے دُشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتاہوں

دعویٰ بے اصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری

بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی

اُن سے عشق اُن کے عدو سے ہو عداوت تیری

اَہلِ سُنّت کا عمل تیری غزل پر ہو حسنؔ

جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری

مولانا حسن رضا خان