وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَؕ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍؕ-وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)

اور اے محبوب اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا (ف۲۹۷) توان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں (ف۲۹۸) اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۲۹۹) اور اللہ نے تم پر کتاب (ف۳۰۰) اور حکمت اُتاری اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے (ف۳۰۱) اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (ف۳۰۲)

(ف297)

تمہیں نبی و معصوم کرکے اور رازوں پر مُطلع فرما کے۔

(ف298)

کیوں کہ اس کا وبال انہیں پر ہے۔

(ف299)

کیونکہ اللہ نے آپ کو ہمیشہ کے لئے معصوم کیا ہے۔

(ف300)

یعنی قرآن کریم ۔

(ف301)

امورِ دین و احکامِ شرع و علومِ غیب

مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا یہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔

(ف302)

کہ تمہیں ان نعمتوں کے ساتھ ممتاز کیا۔

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(۱۱۴)

ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں (۳۰۳) مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اُسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے

(ف303)

یہ سب لوگوں کے حق میں عام ہے۔

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠(۱۱۵)

اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بُری جگہ پلٹنے کی (آیت ۱۱۵)(ف۳۰۴)

(ف304)

یہ آیت دلیل ہے اس کی کہ اِجماع حُجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں جیسے کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں ( مدارک) اور اس سے ثابت ہوا کہ طریقِ مسلمین ہی صراطِ مستقیم ہے

حدیث شریف میں وارد ہوا کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کا اتباع کرو جو جماعتِ مسلمین سے جدا ہوا وہ دوزخی ہے اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہل سنت و جماعت ہے ۔