امام طحاوی

نام ونسب: ۔نام ،احمد ۔کنیت ،ابو جعفر ۔والد کا نام ،محمد ہے ۔سلسلہ نسب یوں ہے ۔ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ بن عبد الملک بن سلمہ بن سلیم بن سلیمان بن جواب ازدی حجری طحاوی مصری حنفی ۔

ازد یمن کا ایک طویل الذیل قبیلہ ہے اور حجر اسکی ایک شاخ ہے ۔حجر نام کے تین قبائل تھے ۔ حجر بن وحید ۔حجر ذی اعین ۔حجر ازد ۔اور ازد نام کے بھی دو قبیلے تھے ، ازدحجر ۔ازد شنوء ہ ۔ لہذا امتیاز کیلئے آپکے نام کے ساتھ دونوں ذکر کرکے ازدی حجری کہاجاتا ہے ۔آپکے آباء واجدادفتح اسلام کے بعد مصر میں فروکش ہوگئے تھے لہذا آپ مصر ی کہلائے ۔

ولادت وتعلیم ۔ طحانام کی بستی مصر میں وادی نیل کے کنارے آباد تھی ،آپکی ولادت ۲۲۹ھمیں اسی بستی میں ہوئی ۔ اس لئے آپکو طحاوی کہاجاتا ہے ۔

آپ طلب علم کیلئے مصر آئے اور یہاں اپنے ماموں ابو ابراہیم اسمعیل بن یحیی مزنی سے تعلیم حاصل کر نے میں مشغول ہوئے ،مزنی امام شافعی کے اجل تلامذہ اور اصحاب میں تھے ابتداء میں آپ امام شافعی کے مسلک پر رہے پھر فقہ حنفی کے متبع ہوگئے تھے ۔اسکی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے پڑھ رہے تھے کہ آپکے سبق میں یہ مسئلہ آیا کہ اگر کوئی حاملہ عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو برخلاف مذھب امام ابو حنیفہ کے امام شافعی کے نزدیک عورت کا پیٹ چیر کربچہ نکالنا جائز نہیں ۔آپ اس مسئلہ کے پڑھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس شخص کی ہر گز پیروی نہیں کرتا جو مجھ جیسے آدمی کی ہلاکت کی کچھ پرواہ نہ کرے ۔کیو نکہ آپ اپنی والدہ کے پیٹ ہی میںتھے کہ آپ کی والدہ فوت ہوگئی تھیں اور آپ پیٹ چیر کر نکالے گئے تھے ۔یہ حال دیکھ کر آپ کے ماموں نے آپ سے کہا خدا کی قسم تو ہرگز فقیہ نہیں ہوگا۔ پس جب آپ خدا کے فضل سے فقہ وحدیث میں امام بے عدیل اور فاضل بے مثل ہوئے تو اکثر کہاکرتے تھے کہ میرے ماموں پر خدا کی رحمت نازل ہو اگر وہ زندہ ہوتے تو اپنے مذہب شافعی کے بموجب ضرور اپنی قسم کا کفارہ اداکرتے ۔

امام طحاوی نے اپنے ماموں مزنی کی درسگاہ کے بعد مصر کے شہرئہ آفاق استاذ ابو جعفر احمد بن ابی عمران موسی بن عیسی سے فقہ حنفی کی تحصیل شروع کی ،فقہ حنفی پر انکو کامل دستگاہ حاصل تھی اور صرف دو واسطوں سے ان کا سلسلہ امام اعظم سے مل جاتاہے ۔اس طرح امام طحاوی کی سند

فقہ اس طرح ہے:۔

عن احمد بن ابی عمران عن محمد بن سماعۃ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ ۔

اساتذہ ۔ مصر کے بعد آپ نے ملک شام ، بیت المقدس ،غزہ اور عسقلان کے مشائخ سے سماعت کی ،دمشق میں ابو حازم عبدالحمیدقاضی دمشق سے ملاقات کی اور ان سے فقہ حاصل کی ۔ اسکے بعد مصر واپس تشریف لائے اور جس قدر مشائخ حدیث آپکی حیات میں مصر آئے ان سب سے امام طحاوی نے علم حدیث میں استفادہ کیا ۔چند اساتذہ کے نام یہ ہیں۔

سلیمان بن شعیب کیسانی ، ابوموسی یونس بن عبدالاعلی ،ہارون بن سعید رملی ،ابراہیم بن ابی دائود برلسی ،احمد بن قاسم کوفی ،احمد بن دائود سدوسی ،احمد بن سہل رازی ،جعفر ابن سلمی ،حسن بن عبدالاعلی صنعانی ،صالح بن شعیب بصری ،محمد بن جعفر فریابی ، ہارون بن محمد عسقلانی ، یحیی بن عثمان سہمی ۔

تلامذہ :۔آپکی علمی شہرت دور دراز علاقوں میں پھیل گئی تھی ،حدیث وفقہ کی جامعیت نے آپکو طلبہ کامرجع بنادیا تھا ،لہذا دوردراز سے تشنگان علم آتے اور سیراب ہوکر جاتے ۔بے شمار لوگوں نے پڑھا اور صاحب کمال ہوگئے چند نام یہ ہیں ۔

ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی صاحب معاجیم ثلاثہ ۔ابو عثمان احمد بن ابراہیم ،احمد بن عبدالوارث زجاج ،احمد بن محمد دامغانی ،ابو محمد حسن بن قاسم ،عبدالرحمن بن اسحق جوہری۔

علمی مقام ۔ آپ حفظ حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ و اجتہاد میں بہت بلند مقام پر فائز تھے ،آپ کا شمار اعاظم مجتہدین میں ہوتاہے ، چنانچہ ملاعلی قاری نے آپ کو طبقہ ثالثہ کے محدثین میں شمارکیا ہے فرماتے ہیں :۔

اس سے مراد وہ مجتہدین ہیں جو ان مسائل میں اجتہاد کرتے ہیں جن میں صاحب مذہب سے کوئی روایت منقول نہ ہو ۔جیسے ابوبکر خصاف ،ابوجعفر طحاوی ،ابو الحسن کرخی ، شمس الائمہ سرخسی ،فخرالاسلام بزدوی ،فخرالدین قاضی خاں وغیرہم ۔

یہ لوگ امام اعظم سے اصول وفروع میں مخالفت نہیں کرتے البتہ حسب اصول وقواعد ان مسائل کا استنباط کرتے ہیں جن میں صاحب مذہب سے کوئی نص نہ ہو ۔

حق گوئی ۔امام طحاوی حق گو ، نڈر اور بے باک شخصیت کے مالک تھے ، بغیر کسی لاگ لپیٹ کے اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر کلمۂ حق کہتے اور اس پر قائم رہتے ،آپ قاضی ابو عبید کے نائب تھے لیکن انکو ہمیشہ صحیح روش کی تلقین کرتے رہتے تھے ، ایک مرتبہ قاضی صاحب سے فرمایا : وہ اپنے کارندوں کا محاسبہ کیا کریں ۔قاضی صاحب نے جواب دیا : اسمعیل بن اسحاق اپنے کارندوں کا حساب نہیں لیتے تھے ، امام طحاوی نے فرفایا : قاضی بکار اپنے کارندوں کا محاسبہ کیا کرتے تھے ۔قاضی صاحب نے پھر اسمعیل کی مثال دی ،امام طحاوی نے فرمایا : حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے کارندوں کا محاسبہ کیا کرتے تھے اور اس سلسلسہ میں البتیتہ کا قصہ سنایا۔

جب کارندوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ غضبناک ہوگئے اور انہوں نے قاضی کو امام طحاوی کے خلاف بھڑ کانا شروع کیا یہاں تک کہ قاضی امام طحاوی کے مخالف ہوگئے ۔اسی اثناء میں قاضی معزول کردیئے گئے ۔جب امام طحاوی نے معزولی کا پروانہ پڑھا تو کچھ لوگ کہنے لگے ، آپ کو مبارک ہو ،آپ یہ سنکر سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے ،قاضی صاحب بہر حال ایک صاحب علم آدمی تھے ،اب میں کس کے ساتھ علمی گفتگو کیا کرونگا ۔

فضل وکمال ۔امام طحاوی کے فضل وکمال ،ثقاہت ودیانت کا اعتراف ہردور کے محدثین مؤرخین نے کیا ہے ۔

علامہ عینی فرماتے ہیں: ۔

امام طحاوی کی ثقاہت ،دیانت علم حدیث میں یدطولی اور حدیث کے ناسخ ومنسوخ کی مہارت پر اجماع ہوچکا ہے ۔

ابو سعید بن یونس تاریخ علماء مصر میں لکھتے ہیں :۔

آپ صاحب ثقاہت اور صاحب فقہ تھے ، آ پکے بعد کوئی آپ جیسا نہیں ہوا ۔

حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ۔

طحاوی حنفی المذہب ہونے کے باوجود تمام فقہی مذاہب پر نظر رکھتے تھے ۔

ابن جوزی فرماتے ہیں:۔

آپ ثقہ ،ثبت اور فہیم تھے ۔

امام ذھبی نے فرمایا: ۔

آپ فقیہ ،محدث ، حافظ ، زبردست امام اور ثقہ تھے ۔

امام سیوطی فرماتے ہیں: ۔

آپ امام ،علامہ ، حافظ ،صاحب تصانیف ،ثقہ ثبت ،فقیہ ہیں ،آپ کے بعد آپ جیسا کوئی دوسرا نہ ہوا ۔

جب عبدالرحمن بن اسحاق معمر جوہری مصر کے عہدئہ قضا پر متمکن ہوئے تو وہ آپ کے ادب واحترام کا پوراپورا خیال رکھتے تھے ، سواری پر ہمیشہ انکے بعد سوارہوتے ۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو کہنے لگے ۔امام طحاوی مجھ سے گیارہ برس بڑے ہیں ،اور وہ مجھ سے اگر گیارہ گھنٹے بھی بڑے ہوتے تو پھر بھی ان کا احترام لازم تھا ۔ کیونکہ عہدئہ قضا کوئی ایسی بڑی چیز نہیں جسکی وجہ سے میں امام طحاوی جیسی شخصیت کے مقابلہ میں فخر کرسکوں ۔

وصال ۔ بانوے سال کی عظیم عمر اور پر شکوہ زندگی گذار نے کے بعد آپ نے یکم ذی قعدہ ۳۲۱ھ میں وصال فرمایا ، قبر شریف قرافہ میں ہے جو مصر کے اماکن متبرکہ میں سے ہے ۔شارع شافعیہ سے دائیں جانب شارع طحاویہ کے سامنے ایک گنبد کے نیچے یہ آفتاب علم محو خواب ہے ۔ مزار پر تاریخ وصال کندہ ہے اور ایک خاص عظمت برستی ہے ۔

تصانیف ۔ آپکی تصانیف کثیر تعداد میں ہیں ، بعض کتابوں میں تقریباً تیس کی فہرست ملتی ہے ،

ان میں مشکل الآثار اور شرح معانی الآثار نہایت مشہور کتابیں ہیں ۔

شرح معانی الآثار کے بارے میں علامہ اتقانی نے فخر سے کہا تھا ،جو شخص طحاوی کی علمی مہارت کا اندازہ کرنا چاہتاہو اسے چاہیئے کہ وہ شرح معانی الآثار کا مطالعہ کرے ،مسلک حنفی تو الگ رہا کسی مذہب سے بھی اس کتاب کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ۔

اس کتاب سے امام طحاوی کا مقصد صرف احادیث کو جمع کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے سامنے اصل مقصد احناف کی تائید اور یہ ثابت کرنا تھا کہ امام اعظم کا موقف کسی جگہ بھی احادیث کے خلاف نہیں ۔اور جو روایات بظاہر امام اعظم کے مسلک کے خلاف ہیں وہ یا مؤول ہیں یا منسوخ ۔

اس تصنیف میں امام طحاوی متعدد جگہ پر احادیث پر فنی حیثیت سے کلام کرتے ہیں اور مخالفین کی پیش کردہ روایات پر فن رجال کے لحاظ سے جرح کرتے ہیں اس کے علاوہ عقلی لحاظ سے بھی مخالفین کے نقطۂ نظر کی تضعیف کرتے ہیں ۔اسی وجہ سے کہاجاتا ہے کہ یہ کتاب روایت اور درایت کی جامع ہے اور جن خوبیوں اور محاسن پر یہ کتاب مشتمل ہے صحاح ستہ کی تمام کتب ان سے خالی ہیں ۔

سبب تالیف ۔امام ابو جعفر طحاوی اس کتاب کی تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں، مجھ سے بعض اہل علم حضرات نے فرمائش کی کہ میں ایسی کتاب تصنیف کروں جس میں احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان احادیث کو جمع کروں جو بظاہر متعارض ہیں اور چونکہ ملحدین اور مخالفین اسلام اس ظاہری تعارض کی وجہ سے اسلام پر طعن کرتے ہیں اس لئے ان متعارض روایات میں تطبیق دینے کیلئے علماء اسلام کی ان تاویلات کا ذکربھی کروں جو کتاب وسنت ،اجماع اور اقاویل صحابہ سے موید ہیں اور جو روایات منسوخ ہوچکی ہیں ان کے نسخ پر دلائل پیش کروں تاکہ احادیث نبویہ کے درمیان تعارض نہ رہے اور طعن مخالفین سے یہ روایات بے غبارہوجائیں ۔

اسلوب ۔تمام امہات کتب حدیث میں امام طحاوی کا طرز سب سے منفرد اور دلچسپ ہے وہ ایک باب کے تحت پہلے اپنی سند کے ساتھ ایک حدیث وارد کرتے ہیں پھر ذکر کرتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیاہے۔ اس کے بعد ذکر کرتے ہیں کہ احناف کثرہم اللہ تعالیٰ اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں اور ان کی دلیل ایک اور حدیث ہے جو اس حدیث کے مخالف ہے پھر اس حدیث کے متعدد طرق ذکرکرتے ہیں اخیر میں مذہب احناف کو تقویت دیتے ہیں۔ دونوں حدیثو ں کا الگ الگ محل بیان کرکے تعارض دور کرتے ہیں اور کبھی پہلی حدیث کی سند کا ضعف ثابت کرکے دوسری حدیث کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض اوقات پہلی حدیث کا منسوخ ہونا واضح کردیتے ہیں ۔نیز انہوں نے ہر باب میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ احناف کی تائید کرنے کیلئے آخر میں ایک عقلی دلیل پیش کی جائے ۔اور اگر مسلک احناف پر کوئی اشکال وارد ہوتاہو تو اس کو بھی دور کرتے ہیں ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)