قوم مجوس کے حالات :

یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں ایک شخص پیدا ہوا جس کے کان پیدائشی طور پر بہت چھوٹے اور بال بہت لمبے تھے ، اس وجہ سے اس کا نام میخ گوش رکھا گیا جو عربی میں لفظ مجوس سے متعارف ہوا، اس مذہب کا اصل بانی یہی ہے ۔اس نے اپنے آپ کو اوتار (آسمانی پیغمبر) کہنا شروع کیا اور لوگوں کو بتایا کہ آگ مظہرِ الٰہی ہے ۔ لوگوں سے آگ منگوایا کرتا جس سے وہ لوگوں میں آگ والا نبی مشہور ہوا ۔اس نے لوگوں کو بتایا کہ آگ ہی روشنی کی خالق ہے اور اندھیرا ظلمت کا خالق ہے، اس طرح آگ اور اندھیرا یہ دونوں اس دین کے خالق کی حیثیت قرار پائے ۔آگ کو لوگ طاقت اور نیکی کا سرچشمہ اور ظلمت کو بدی کا خالق سمجھنے لگے ۔آگ کے جب شعلے بلند ہوتے تو لوگ یہ اعتقاد کرتے کہ خالق جاگ رہا ہے اور انگاروں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے کہ خالق سورہا ہے، رات و دن آتش کدہ میں لکڑیاں جلائی جاتیں، دن میں خوشبودار لکڑیاں اور رات میں صندل سے ابتدا کرتے اور پھر عام لکڑیاں جلاتے۔ مجوس بابل کا رہنے والا تھا پھر یہ مذہب ایران میں آیا ، پہلے تو اسے عوامی مذہب کی حیثیت حاصل رہی پھر بعد میں ایرانی بادشاہ گستاشپ نے اسے قانونی حیثیت دے کر حکومت کا مذہب بنا دیا۔ اس بادشاہ کا ایک بڑا وزیر زرتشت تھا، اس نے اس مذہب کے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا اور ایک بہت بڑا آتش کدہ بنوایا اور سارے لوگوں سے اس کی پوجا کرواتا تھا۔ عبادت کے لئے بدھ کا دن مقرر تھا۔ یہ لوگوں سے صفیں بنواکر آگ کی عبادت کرواتا اور خود امام بنا رہتا۔ لوگ اس کے حکم سے اس آتش کدہ کے آگے سجدے کرتے، اس کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ باندھے دعائیں کرتے۔

اس نے ایک مذہبی کتاب بھی بنائی جس کا نام آرتھا رکھا۔ پہلے سے جو مجوسی مذہب چلا آرہا تھااس میں کچھ اضافے کئے اور کچھ پابندیاں بڑھائی، اسی وجہ سے اسے مجوسی مذہب کے بانی دوم کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ سو سال تک زندہ رہا۔اس کے بعد اس مذہب کو خوب تقویت اور شہرت ملتی رہی، یہ مذہب روما اور امریکہ تک جا پہونچا۔اس کا تیسرا بانی ہیراک لیٹس ہے۔

اس مذہب کے پیروکار داڑھی منڈانا مذہب کی پیروی سمجھتے، مونچھیں بڑی رکھتے، سر کے بال کانوں تک لمبے کرتے اور ننگے سر رہتے۔ لمبا ،گون اور کمر پر زُنّار لٹکاتے۔

بعثتِ نبوی ﷺ تک اس قوم کی یہی حالت رہی پھر جب سرورِ کائنات ﷺ کی تعلیمات سے یہ قوم روشناس ہوئی تب اس کے سامنے دینِ حق کا حقیقی چہرہ نمایاں ہوا اور حضور رحمتِ عالم ﷺ کی تعلیماتِ رحمت نے دوسری اقوام کی طرح اس قوم کو بھی جبر و استبداد اور دینی بے راہ روی اور مذہبی آوارگی سے نجات عطا فرمائی۔