ساری عبادتوں میں نماز کا درجہ سب سے افضل ہے

 نماز فجر آدم علیہ السلام نے پڑھی جب ان کی توبہ قبول ہوئی، نماز ظہر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پڑھی حضرت اسمٰعیل کا فدیہ دنبہ آنے کی صورت میں ، نماز عصر حضرت عزیر علیہ السلام نے پڑھی جب سو برس کے بعد آپ زندہ ہوئے ،نماز مغرب حضرت داؤد علیہ السلام نے پڑھی اپنی توبہ قبول ہونے پر مگر چار رکعت کی نیت باندھی تھی تین رکعت پر سلام پھیر دیا کیونکہ تھک گئے تھے لہذا مغرب میں تین ہی رکعتیں رہ گئیں ، نماز عشاء ہمارے حضورﷺ نے پڑھی بعض نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پڑھی جب طور پر آگ لینے گئے وہاں نبوت مل گئی ، واپسی میں بیوی کو بخیریت پایا کہ بچہ پیدا ہو گیا تھا ۔

یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا ۔

بعض مفسرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے الگ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ ہوگیا اور جب تک حدث واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض اور نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہے ۔

شروع اسلام میں معراج سے پہلے تیرہ برس تک کوئی عبادت نہ تھی صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننا عبادت تھا ۔اس وقت فوت ہونے والے مومن سب جنتی تھے ۔

علماء فرماتے ہیں دوسری مسجدوں میں صف کا دایا ں حصہ بائیں سے افضل ہوتا ہے مگر مسجد نبوی میں بایا ں حصہ دائیں سے افضل ہے کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے ۔

 فقہاء کا قول ہے کہ سورج چمکنے سے بیس منٹ تک سجدہ حرام ہے ۔

 اگر پوری قوم کی نماز رہ جائے تو قضاء با جماعت ادا کی جائے گی اور اس کے لئے اذان و اقامت بھی ہوگی ۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں ہے ۔

نماز میں ساری مخلوقات کی عبادت جمع ہے وہ اس طرح کہ درخت ہر وقت قیام میں ہیں ،چوپائے رکوع میں ،سانپ بچھو وغیرہ ہر وقت سجدے میں اور مینڈک وغیرہ ہر وقت قعدے میں ۔

وضو کی ہمیشگی کرنے والاآدمی دماغی بیماریوں میں کم مبتلا ہوتا ہے اور نماز کا پابند شخص اکثر تلی کی بیماریوں اور جنون وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے ۔

حدیث میں ہے کہ ہر شے کی ایک علامت ہوتی ہے ایمان کی علامت نماز ہے ۔

ارشاد نبوی ہے جو بندہ نماز پڑھ کر اس جگہ جب تک بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اس وقت تک کہ وہ شخص بے وضو ہوجائے یا اُٹھ کھڑا ہو ۔

ارشاد نبوی ہے کہ جس نے چالیس دن نماز فجر و عشاء باجماعت پڑھی اللہ تعالیٰ اس کو دوا برأ تیں عطا فرمائے گا ایک جہنم سے دوسرے نفاق سے ۔

جو شخص سال بھر اذان کہے اور اس پر اُجرت نہ طلب کرے تو وہ قیامت کے دن بلایا جائے گا اور جنت کے درو ازے پر کھڑا کیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا جس کے لئے تو چاہے شفاعت کر ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز با جماعت تنہا پڑھنے سے ۲۷؍ درجہ افضل ہے ۔

صبح کی سنت اور فرض کے درمیا ن بسم اللہ الرحمن الرحیم کی میم کے ساتھ الحمد للہ کا لام ملا کر چالیس روز تک پڑھنا حصول مطالب دارین کے لئے بہترین نسخہ ہے ۔

اذان کے لئے سب سے پہلے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مینار تعمیر فرمایا تھا ۔

حدیث پاک میں ہے چڑھے دن تک فجر کے بعد سوئے رہنا رزق کے لئے مانع ہوتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص کو جو صبح کے بعد بستر پر خراٹے لیتا ہو اس کے لیئے روزی تنگ ہو جاتی ہے ۔ ٭٭٭