نماز کا پانچواں فرض :- سجدہ

نماز کا پانچواں فرض :- سجدہ

یعنی (۱) پیشانی (۲) ناک (۳/۴) دونوں ہاتھ کی ہتھیلیاں (۵/۶) دونوں گھٹنے اور (۷/۸) پاؤں کی انگلیاں زمین پر لگنا۔

پیشانی کا زمین پرجمنا سجدہ کی حقیقت ہے ۔

حدیث: امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضورِ اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیںکہ ’’بندہ کو خداسے سب سے زیادہ قرب حالتِ سجدہ میں حاصل ہوتا ہے۔‘‘

خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی سجدہ کرنا جائز نہیں ۔ غیر خدا کو عبادت کا سجدہ کرنا شرک ہے اور تعظیم کاسجدہ کرنا حرام ۔ ( الزبدۃالزکیہ لتحریم سجود التحیۃ : از اعلٰحضرت امام احمد رضا محدث بریلوی )

سجدہ کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:پاؤں کی ایک انگلی کاپیٹ زمین سے لگنا شرط ( فرض) ہے ۔اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیاکہ دونو ں پاؤں زمین سے اٹھے رہے تونمازنہ ہوگی بلکہ اگر صرف انگلیوں کی نوک زمین سے لگی تو بھی نماز نہ ہوئی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ص ۵۵۶)

مسئلہ:سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوںکے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤںکی تین تین انگلیاں زمین پر لگنا واجب ہے ۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ص ۵۵۶)

مسئلہ:سجدہ میں دسوں انگلیوں کاقبلہ رو ہونا بھی سنت ہے ۔( بہار شریعت )

مسئلہ:ہر رکعت میں دو مرتبہ سجدہ کرنا فرض ہے ۔ ( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۵۷)

مسئلہ:ایک سجدہ کے بعد فوراً دوسرا سجدہ واجب ہے یعنی دونوں سجدوں کے درمیان کوئی رکن فاصل نہ ہو ۔ (بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹)

مسئلہ:ایک رکعت میں دو ہی سجدہ کرنا اور دو سے زیادہ سجدے نہ کرنا واجب ہے (بہارشریعت)

مسئلہ:سجدہ میں کم از کم ایک مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘کہنے کے وقت کی مقدار تک ٹھہرنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:سجدہ میں تین مرتبہ ’’ سبحان ربی الاعلیٰ ‘‘ کہنا سنت ہے ۔ تین مرتبہ سے کم کہنے میںسنت ادا نہ ہوگی اور پانچ مرتبہ کہنا مستحب ہے ۔ ( فتح القدیر)

مسئلہ:دونوں سجدوں کے درمیان یعنی جلسہ میں ’’اللہم اغفرلی ‘‘ کہنا امام اور مقتدی دونوں کے لئے مستحب ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ،ص ۶۲)

مسئلہ:جلسہ میں کم از کم ایک مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہنے کی قدر ٹھہرنا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت)

مسئلہ: سجدہ میں جانے کے لئے اور سجدہ سے اٹھنے کے لئے ’’ اللہ اکبر‘‘ کہناسنت ہے ۔ (بہارشریعت )

مسئلہ:دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ کرنا یعنی سیدھابیٹھناواجب ہے ۔ (بہار شریعت)

مسئلہ:مرد کے لئے جلسہ کاسنت طریقہ یہ ہے کہ بایاں قدم بچھاکر اس پر بیٹھے اور دایاں پاؤںکھڑا رکھے اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو ہوں اور دونوں ہتھیلیوں کو رانوں پر رکھے اورا نگلیوں کوا پنی حالت پر چھوڑ دے یعنی ہاتھ کی انگلیاں نہ کھلی ہوئی رکھے اورنہ ملی ہوئی رکھے۔ اور گھٹنوں کو انگلیوں سے نہ پکڑے ( بہار شریعت )

مسئلہ:سجدہ میں دونوںہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئیں اور قبلہ رو رکھنا سنت ہے ۔ (بہارشریعت)

مسئلہ:عورت کے لئے جلسہ کاسنت طریقہ یہ ہے کہ دونوں پاؤں دائیں طرف نکال دے اور بائیں سرین (چوتڑ) کے بل زمین پر بیٹھے ۔(بہار شریعت)

مسئلہ:سجدہ میں جاتے وقت زمین پر پہلے گھٹنے رکھنا ، پھر ہاتھ ، پھرناک اور پیشانی رکھنااور سجدہ سے اٹھتے وقت اس کے برعکس کرنا یعنی پہلے پیشانی اٹھانا ، پھرناک ، پھر ہاتھ اور آخر میںگھٹنے اٹھانا سنت طریقہ ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:مرد کے لئے سنت ہے کہ سجدہ میں بازو کو کروٹوں سے جدا رکھے اور پیٹ رانوں سے جدا رکھے علاوہ ازیں سجدہ میں کلائیاں اور کہنیاں زمین پر نہ بچھائے بلکہ ہتھیلی کوزمین پر رکھ کر کہنیاں اوپر اٹھائے رکھے ۔( درمختار ، عالمگیری )

مسئلہ:عورت کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کرے یعنی بازو کو کروٹ سے ، پیٹ کو ران سے ، ران کو پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے ملادے ۔ کہنیاںا ورکلائیاں زمین پر بچھا دے ۔( عالمگیری )

مسئلہ:دوسری رکعت کے لئے سجدہ سے اٹھ کر پنجوں کے بل گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا سنت ہے ۔ لیکن اگر کمزوری وغیرہ عذر کی وجہ سے زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھے تو حرج نہیں ۔ (درمختار، رد المحتار)

مسئلہ:سجدہ میں نظر ناک کی طرف کرنا مستحب ہے ۔ (بہار شریعت )

مسئلہ:اگر سجدہ میں پیشانی خوب نہ دبی تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی بلکہ ناک زمین پر صرف مس ہوئی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی ۔ (بہارشریعت)

مسئلہ:کسی نرم چیز مثلاً گھاس ، روئی ، قالین وغیرہ پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو جائز ہے ۔ ورنہ نہیں ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:کمانی دار (اسپرنگ والے ) گدّے پر پیشانی خوب نہیں دبتی لہٰذا اس پرنماز نہ ہوگی۔ (بہار شریعت)

مسئلہ:جوار ، باجرہ ، گیہوں ، چاول وغیرہ دانوں پر جن پر پیشانی نہ جمے سجدہ نہ ہوگا ۔ا لبتہ اگر بوری میں خوب کس کر بھر دیئے گئے کہ پیشانی اچھی طرح جم جائے تو نماز ہوجائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ:گلو بند ، پگڑی ، ٹوپی یا رومال سے پیشانی چھپی ہوئی ہے تو سجدہ درست ہے لیکن نماز مکروہ ہوگی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۹)

مسئلہ:اگرا یسی جگہ سجدہ کیاکہ سجدہ کی جگہ قدم کی جگہ کی بہ نسبت بارہ انگل سے زیادہ اونچی ہے تو سجدہ نہ ہوا ۔ ( در مختار )

مسئلہ:سجدہ زمین پر بلا حائل کرنا مستحب ہے یعنی مصلیٰ یا کپڑے پر نماز پڑھنے سے زمین پر نماز پڑھنامستحب و افضل ہے ۔ ( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۲۰۳)

مسئلہ:اگر کسی عذر کے سبب پیشانی زمین پر نہیں لگا سکتاتو صرف ناک پر سجدہ کرے لیکن اس صورت میں فقط ناک کی نوک زمین سے مس کرنا کافی نہیں بلکہ ناک کی ہڈی کا زمین پر لگنا ضروری ہے ۔ ( ردالمحتار ، عالمگیری )

مسئلہ:ازدحام کی وجہ سے دوسرے کی پیٹھ پر سجدہ کیا اور جس کی پیٹھ پر سجدہ کیا گیاہے وہ اس شخص کی نماز میں شریک ہے یعنی دونوں ایک ہی نماز پڑھتے ہیں تو سجدہ کرنا جائز ہے اور جس کی پیٹھ پر سجدہ کیاگیا ہے وہ نماز میں نہیں یا نماز میں تو ہے لیکن الگ نماز پڑھ رہا ہے اور سجدہ کرنے و الے کی نماز میں شریک نہیں یعنی دونوں الگ الگ اور اپنی اپنی نماز پڑھتے ہوں تو سجدہ نہ ہوا۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:کسی نے دو کے بجائے تین سجدے کئے اگر سلام پھیرنے سے پہلے یاد آجائے تو سجدہ ٔسہو کرے کیونکہ واجب ترک ہوا ۔ فر ض اداہوگیا ۔ سجدہ ٔ سہو لازم ہے ( فتاوٰی رضویہ ، جلد۳، ص ۶۴۶)

مسئلہ:اگر سلام پھیرنے کے بعد یاد آیاتو نماز ا عادہ کرے ۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۶۴۶)

مسئلہ:سجدہ میں جاتے وقت داہنی جانب زور دینا اور سجدہ سے اٹھتے وقت بائیں بازو پر زور دینا مستحب ہے ۔(بہار شریعت ، جلد ۳، ص ۱۷۳)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.