کرم ہی کرم ہے

کرم ہی کرم ہے کرم ہی کرم ہے

کرم ہی کے صدقے سے قائم بھرم ہے

میرے دل شکستہ کی آہیں سنو تم

تمہارے ہی رب کی تمہیں اب قسم ہے

برس جائیں چھینٹیں مٹیں دل کے دھبے

تمہارے تصرف میں ابر کرم ہے

کہوں کس سے جا کر میں غم کی کہانی

میرے روبرو آپ ہی کا حرم ہے

مجھے اپنے در پر بلاتے ہی رہنا

تمہاری ہی عادت تو جود و کرم ہے

گناہوں میں ڈوبا ہے شاکر بے چارہ

نبھاتے ہو پھر بھی یہ شانِ کرم ہے

شفاعت کا سائل ہے شاکرؔؔ تمہارا

سوا کون تیرے شفیع امم ہے