انوکھی سزا

حکایت نمبر230: انوکھی سزا

حضرتِ سیِّدُناجَعْفَرخُلْدِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ ”حضر تِ سیِّدُنا خَیْرُالنَّسّاج علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے پوچھا گیا: ”آپ خیرُالنساج کے نام سے کیوں مشہورہیں ؟کیا نساج (یعنی کپڑابننا)آپ کا پیشہ رہا ہے؟”انہوں نے نفی میں سرہلادیا۔میں نے پوچھا: ”پھر یہ نام کیسے پڑا؟” فرمایا: ”میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد کررکھا تھا کہ کبھی بھی نفس کی خواہش پرتازہ کھجور نہیں کھاؤں گا۔ کافی عرصہ میں اپنے عہد پر قائم رہا۔ ایک مرتبہ نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں نے کچھ کھجوریں خریدیں اورکھانے کے لئے بیٹھ گیا، ابھی ایک ہی کھجور کھائی تھی کہ ایک شخص میری طرف بڑی کڑی نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ پھر میرے پاس آیا اورکہا: اے خیر! تُو تو میرا بھاگا ہوا غلام ہے ۔” میں بہت حیران ہوا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے ۔پھر مجھے سمجھ آگیا کہ اس شخص کا ایک غلام تھا جوبھاگ گیا تھا اوراس کے شبہ میں یہ مجھے اپنا غلام خیال کر رہا ہے اورواقعتا میری رنگت اس غلام جیسی ہوگئی تھی ۔ وہ شخص زور زور سے کہہ رہا تھا کہ تُو تو میرا بھاگا ہوا غلام ہے ۔شور سن کر بہت سارے لوگ جمع ہوگئے ۔جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا تو بیک زبان بولے:” واللہ(اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم)!یہ تو تیرا غلام” خیر” ہے ۔” میں اچھی طرح سمجھ گیا کہ مجھے کس جرم کی سزامل رہی ہے ۔وہ شخص مجھے اپنا غلام سمجھ کر اپنی دکان پر لے گیا۔ وہاں اس کے اوربھی غلام موجود تھے جو کپڑے بنتے تھے ۔ مجھے دیکھ کر دوسرے غلام کہنے لگے :اے بُرے غلام! تو اپنے آقا سے بھاگتا ہے۔؟ چل، یہاں آ،اوراپنا وہ کام کر جو تو کیا کرتاتھا۔” پھر مالک نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور فلاں کپڑا بُنو۔جیسے ہی میں کپڑا بننے لگا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت ماہر کاری گرہوں اورکئی سالوں سے یہ کام کررہاہوں۔ چنانچہ میں دوسرے غلاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگا ۔ وہاں کام کرتے ہوئے جب کئی مہینے گزر گئے تو ایک رات میں نے خوب نوافل پڑھے اورساری رات عبادت میں گزاردی پھر سجدے میں جاکر یہ دعا کی:” اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ!مجھے معاف فرمادے اب کبھی بھی اپنے عہد سے نہ پھروں گا ۔ اسی طرح دعا کرتارہا، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ میں اپنی اصلی صورت میں آچکا تھا۔پھر مجھے چھوڑدیا گیا۔ بس اس طرح میرا نام” خیرُ النساج” پڑگیا۔”
(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ کیسے کیسے مجاہدات کیا کرتے تھے۔ وہ حرام غذا سے تو ہر دم بچتے ہی تھے۔ ساتھ ساتھ حلال چیزیں بھی رضائے الہٰی کے لئے ترک کردیا کرتے ، نفسانی خواہشات کی ہرگز اتباع نہ کرتے۔ ہر کام میں حکمِ خدا عَزَّوَجَلَّ کو پیشِ نظر رکھتے۔ پیٹ کا بلکہ، ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگاتے۔
الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کا مشکبا رمدنی ماحول ہمیں بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کی یاد دلاتا ہے ۔اس ماحول میں آ کر ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگانے کا ذہن بنتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کی اصطلاح میں ”اپنے پیٹ کو حرام غذا سے بچانا اور حلال خوراک بھی بھوک سے کم کھانا پیٹ کا ”قفلِ مدینہ” کہلاتا ہے۔)
؎ یا الٰہی پیٹ کا قفلِ مدینہ کر عطا از پئے غوث و رضا کر بھوک کا گوہر عطا

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.