أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَيَوۡمَ يَقُوۡلُ كُنۡ فَيَكُوۡنُؕ  قَوۡلُهُ الۡحَـقُّ‌ ؕ وَلَهُ الۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنۡفَخُ فِى الصُّوۡرِ‌ ؕ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَ الشَّهَادَةِ‌ ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اور وہی ہے جس آسمانوں اور زمینوں کو برحق پیدا کیا ‘ اور جس دن وہ (ہرفنا شدہ چیز سے) فرمائے گا ‘ ہوجا تو وہ ہوجائے گی، اس کا فرمانا حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی جس دن صور میں پھونکا جائے گا ‘ وہ ہر غیب اور ہر ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی نہایت حکمت والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہی ہے جس آسمانوں اور زمینوں کو برحق پیدا کیا ‘ اور جس دن وہ (ہرفنا شدہ چیز سے) فرمائے گا ‘ ہوجا تو وہ ہوجائے گی، اس کا فرمانا حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی جس دن صور میں پھونکا جائے گا ‘ وہ ہر غیب اور ہر ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی نہایت حکمت والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔ (الانعام : ٧٣) 

آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کرنے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش برحق اور صحیح ہے ‘ یعنی باطل اور خطا نہیں ہے ‘ جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے : 

(آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما باطلا “۔ (ص : ٢٧) 

ترجمہ : اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ‘ بےفائدہ نہیں بنایا۔ 

آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ انکے درمیان ہے ‘ انکے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے ‘ وہ علیم اور حکیم ہے ‘ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ 

اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے برحق کلام کے ساتھ پیدا کیا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” فقال لھا وللارض ائتیاطوعا او کرھا قالتا اتینا طآئعین “۔ (حم السجدہ : ١١) 

ترجمہ ؛ پس آسمان اور زمین دونوں سے فرمایا تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہوجاؤ‘ انہوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہوگئے۔ 

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو اپنے کلام سے پیدا فرمایا ہے اور جب یہ تمام چیزیں فنا ہوجائیں گی ‘ تو پھر ان کو دوبارہ اپنے کلام سے پیدا فرمائے گا ‘ وہ ان سے فرمائے گا ” ہوجاؤ“ پس وہ ہوجائیں گی۔ 

قرآن اور احادیث کی روشنی میں صور پھونکنے کا بیان : 

اس کے بعد فرمایا اور اسکی حکومت ہوگی جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔ مذکورہ ذیل میں بھی صور پھونکنے کا ذکر ہے : 

(آیت) ” ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون “۔ (الزمر : ٦٨) 

ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب بےہوش ہوجائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے پھر دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا ‘ تو وہ اچانک دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک سینگھ جس میں پھونکا جائے گا۔ 

(سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٣٨‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٤٢‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣١٢‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥١٧‘ سنن الدارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٩٨) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں کس طرح نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤں ‘ حالانکہ سینگھ والے نے اپنے منہ میں سینگھ ڈال رکھا ہے اور وہ غور سے سن رہا ہے کہ کب اسے اس میں پھونک مارنے کا حکم دیا جائے ‘ تو وہ اس میں پھونک مارے۔ یہ حدیث نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب پر دشوار گزری ‘ آپ نے ان سے فرمایا یوں کہو ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے اور ہم نے اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کیا ہے۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٤٣٩‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ١١٦٩٦) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے قیامت کے فتنوں کے متعلق ایک طویل حدیث روایت کی ہے۔ اس میں مذکور ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر صور پھونک دیا جائے گا ‘ جو شخص بھی اس کو سنے گا ‘ وہ ایک طرف گردن جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھالے گا۔ جو شخص سب سے پہلے اس کی آواز سنے گا ‘ وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا ‘ وہ بےہوش ہوجائے گا اور دوسرے لوگ بھی بےہوش ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی طرح ایک بارش نازل فرمائے گا ‘ جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا پھر لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا ‘ اے لوگو ! اپنے رب کے پاس آؤ اور (فرشتوں سے کہا جائے گا) انکو کھڑا کرو۔ ان سے سوال کیا جائے گا ‘ پھر کہا جائے گا ‘ دوزخ کے لیے ایک گروہ نکالو ‘ کہا جائے گا ‘ کتنے لوگوں کا ‘ کہا جائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ آپ نے فرمایا ییہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن ساق (پنڈلی) کھولی جائے گی۔ (صحیح مسلم ‘ فتن ‘ ١١٦‘ (٢٩٤٠) ٧٩٤٧‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ١١٦٢٩) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا۔ لوگوں نے کہا اے ابوہریرہ ! چالیس دن ؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔ لوگوں نے کہا چالیس ماہ ؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔ لوگوں نے کہا چالیس سال ؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا۔ جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا ایک ہڈی کے سوا انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی اور وہ دم کی ہڈی کا سرا ہے ‘ اور قیامت کے دن اسی سے انسان کو دوبارہ بنایا جائے گا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ فتن ١٤١ ‘(٢٩٥٥) ٧٢٨٠‘ السنن الکبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٥٩) 

صحیحین کے علاوہ دوسری کتابوں میں ہے کہ یہ مدت چالیس سال ہے۔ امام ابن مردویہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ دو مرتبہ صور پھونکنے کی مدت چالیس سال ہے ‘ اور ایک سند ضعیف سے حضرت ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے کہ دو بار صور پھونکنے کی مدت چالیس سال ہے۔ امام حاکم اور امام یعلی نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا ‘ یا رسول اللہ ! دم کی ہڈی کیسی ہے ! آپ نے فرمایا وہ رائی کے دانے کی طرح ہے۔ وہ پشت کی جڑ میں ایک باریک ہڈی ہے اور وہ دم کی ہڈی ہے ‘ جو چوپائے میں دم کے سر کی جگہ ہوتی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ ایک ہڈی کے سوا انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی۔ اس قاعدہ سے انبیاء (علیہم السلام) مستثنی ہیں۔ کیونکہ سنن ابو داؤد میں یہ حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے جسموں کو کھانا زمین پر حرام کردیا ہے اور اسی طرح شہداء بھی اس قاعدہ سے مستثنی ہیں ‘ کیونکہ قرآن مجید نے شہداء کی حیات کی تصریح کی ہے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٥٥٣۔ ٥٥٢‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں یہ دلیل ہے کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ اس میں حقیقتا پھونک ماری جائے گی۔ ایک قول یہ ہے کہ صور پھونکنے والا کہے گا ‘ اے بوسیدہ اجسام اور منتشر ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم فیصلہ کے لیے جمع ہوجاؤ۔ (اکمال اکمال المعلم ‘ ج ٩‘ ص ٤١٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام ابو محمد عبداللہ بن محمد المعروف بابی الشیخ الاصبہانی المتوفی ٣٩٦ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی جماعت میں تشریف فرما تھے ‘ آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے سے فارغ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے صور کو پیدا کیا اور وہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو عطا کیا ‘ انہوں نے اس صور کو اپنے منہ میں رکھا ہوا ہے اور وہ نظر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب حکم دیا جائے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک سینگھ ہے۔ انہوں نے پوچھا وہ کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ عظیم ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اس کی گولائی اتنی بڑی ہے جتنی آسمانوں کی چوڑائی ہے۔ ایک اور راوی نے کہا زمین میں تین مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ پھونکنے سے لوگ دہشت زدہ ہوجائیں گے ‘ دوسری بار پھونکنے سے سب مرجائیں گے اور تیسری بار پھونکنے سے سب رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ اللہ عزوجل پہلی مرتبہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو صور پھونکنے کا حکم دے گا تو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) سے فرمائے گا ‘ دہشت ڈالنے کے لیے صور میں پھونکو تو آسمان اور زمین میں سب دہشت زدہ ہوجائیں گے۔ سوا ان کے جنہیں اللہ چاہے ‘ اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ وہ مسلسل رکے بغیر صور میں پھونکتے رہیں ‘ اس کا ذکر اس آیت میں ہے : rnّ (آیت) ” وما ینظر ھؤلاء الا صیحۃ واحدۃ مالھا من فواق “۔ (ص : ١٥) 

ترجمہ : اور وہ ایک زبردست چیخ کا انتظار کررہے ہیں جس کے درمیان سانس لینے کی بھی مہلت نہیں ہوگی۔ 

پھر اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو اڑا دے گا تو وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے ‘ پھر وہ خاک کا ڈھیر ہوجائیں گے ‘ اور زمین اپنے ساکنوں کے ساتھ لرز رہی ہوگی۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ، تتبعھا الرادفۃ، قلوب یومئذ واجفۃ “۔ (النزعت : ٨۔ ٦) 

ترجمہ : جس دن لرزنے والی لرز جائے گی ‘ پھر پیچھے آنے والی اس کے پیچھے آئے گی بہت سے دل اس دن لرز رہے ہوں گے۔ 

اور زمین اس طرح ہلنے اور جھولنے لگے گی جس طرح بلند جہاز کو سمندر میں موجیں ہر طرف دھکیلتی رہتی ہیں یا جس طرح چھت میں لٹکی ہوئی قندیل کو ہوا جھونٹے دیتی رہتی ہے ‘ پھر لوگ زمین پر گرنے لگیں گے۔ دودھ پلانے والیاں بچوں کو بھول جائیں گی ‘ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے ‘ اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے ‘ شیاطین جان بچانے کے لیے زمین کے آخری کناروں تک بھاگیں گے ‘ فرشتے ان سے مقابلہ کرکے ان کے چہروں پر ماریں گے ‘ اور لوگ پیٹھ موڑ کر بھاگیں گے۔ 

زمین ہر طرف سے پھٹنے لگے گی اور ایسا عظیم واقعہ ظاہر ہوگا جو اس سے پہلے دیکھا نہ گیا تھا اور ایسی گھبراہٹ اور دہشت طاری ہوگی جس کو اللہ ہی جانتا ہے ‘ پھر لوگ آسمان کی طرف دیکھیں گے ‘ تو وہ پرزے پرزے ہو کر اڑ رہا ہوگا ‘ سورج اور چاند دھندلا جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے ‘ آسمان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لیکن مردوں کو اس کی بالکل خبر نہیں ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کس کا استثناء فرمایا ہے ؟ 

(آیت) ” یوم ینفخ فی الصور ففزع من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ “۔ (النمل : ٨٧) 

ترجمہ : اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں ‘ وہ سب گھبرا جائیں گے مگر جنہیں اللہ چاہے گا۔ 

آپ نے فرمایا وہ شہداء ہیں وہ اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے ‘ اور گھبراہٹ کا اثر (ظاہرا) زندہ لوگوں پر ہوگا۔ سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ اور مامون رکھے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے برے لوگوں پر بھیجے گا اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم، یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا وتری الناس سکاری وما ھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید “۔ (الحج : ٢۔ ١) 

ترجمہ : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ‘ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی (بھاری) چیز ہے ‘ جس دن تم اسے دیکھو گے تو ہر دودھ پلانے والی اس (بچے) سے غافل ہوجائے گی جسکو اس نے دودھ پلایا تھا اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو مخمور دیکھے گا ‘ حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے ‘ لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ 

پھر جب تک اللہ چاہے گا لوگ اس عذاب میں مبتلا رہیں گے اور ایک طویل عرصہ تک یہ حالت رہے گی ‘ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دے گا کہ وہ موت کا صور پھونکیں ‘ سو وہ موت کا صور پھونکیں گے۔ جس سے تمام آسمانوں اور زمینوں کے لوگ ہلاک ہوجائیں گے ‘ ماسوا ان کے جنہیں اللہ چاہے گا اور جب وہ سب ہلاک ہوجائیں گے تو مالک الموت (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ‘ اے میرے رب تمام آسمانوں اور زمینوں کے لوگ ہلاک ہوگئے ‘ ماسوا ان کے جنہیں تو نے چاہا ‘ اللہ عزوجل پوچھے گا حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے ‘ تو کون کون باقی رہ گیا ؟ وہ کہیں گے ‘ اے میرے رب تو باقی ہے جو زندہ ہے اور تو نہیں مرے گا ‘ اور تیرے عرش کو اٹھانے والے باقی ہیں اور جبرائیل اور میکائیل باقی ہیں اور میں باقی ہوں۔ 

اللہ عزوجل فرمائے گا جبرائیل اور میکائیل کو بھی فوت ہونا چاہیے ‘ پس عرش کہے گا ‘ اے میرے رب ! تو جبرائیل اور میکائل کو بھی مار ڈالے گا ! اللہ عزوجل فرمائے گا خاموش رہو ! میں نے اپنے عرش کے نیچے ہر ایک کے لیے موت مقرر کردی ہے ‘ وہ دونوں مرجائیں گے۔ پھر ملک الموت (علیہ السلام) اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ‘ جبرائیل اور میکائیل فوت ہوگئے۔ اللہ عزوجل پوچھے گا ‘ حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے ‘ تو اب کون باقی ہے ؟ وہ عرض کریں گے ‘ اے میرے رب ! تو باقی ہے جو زندہ ہے اور جس کو موت نہیں آئے گی اور تیرے عرش کے حاملین باقی ہیں اور میں باقی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ میرے عرش کے حاملین کو بھی موت آجائے ‘ پس وہ مرجائیں گے۔ پھر ملک الموت اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے ‘ عرض کریں گے اے میرے رب ! تیرے عرش کے حاملین بھی فوت ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے۔ تو اب کون باقی ہے ؟ وہ کہیں گے ‘ اے میرے رب تو باقی ہے جو زندہ ہے اور جس کو موت نہیں آئے گی اور میں باقی ہوں۔ اللہ عزوجل فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے ‘ میں نے تجھے اسی کام کے لیے پیدا کیا تھا ‘ اب تو بھی مرجا سو وہ مرجائے گا ‘ اور اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ ” الواحد الاحد الصمد “ جو نہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا ‘ وہی آخر ہوگا جیسا کہ وہ اول تھا۔ آپ نے فرمایا اہل جنت پر موت ہوگی نہ اہل نار پر موت ہوگی۔ پھر آسمان اور زمین کو اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح اوراق کو لپیٹ دیا جاتا ہے ‘ ان کو پھر کھولا جائے گا اور پھر لپیٹا جائے گا۔ پھر فرمائے گا میں جبار ہوں ‘ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ بلند آواز سے فرمائے گا، ” لمن الملک الیوم “ آج کس کی بادشاہی ہے ‘ پھر فرمائے گا (آیت) ” للہ الواحد القھار “۔ (غافر : ١٦) اللہ واحد قہار کی بادشاہی ہے۔ پھر فرمائے گا ‘ سنو ! جس نے میرے لیے شریک بنایا ہو ‘ وہ لے آئے۔ سنو ! جس نے میرے لیے شریک بنایا ہو ‘ وہ لے آئے۔ پھر اس آسمان اور زمین کے علاوہ دوسرے آسمان اور زمین پیدا کرے گا اور ان کو پھیلا کر دراز کر دے گا ‘ جس میں تم کو کوئی کجی اور نقص نہیں دکھائی دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کو زبردست آواز کے ساتھ جھڑکے گا ‘ پھر لوگ اس نوپیدا شدہ زمین میں پہلے کی طرح ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر عرش کے نیچے سے پانی نازل فرمائے گا ‘ پھر تم پر چالیس دن تک آسمان سے بارش ہوتی رہے گی ‘ حتی کہ تم پر بارہ ہاتھ پانی بلند ہوجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ جسموں کو اگنے کا حکم دے گا تو وہ سبزیوں کی طرح اگنے لگیں گے ‘ جب اجسام پہلے کی طرح مکمل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ حاملین عرش زندہ ہوجائیں ‘ پھر اللہ عزوجل حضرت اسرافیل کو صور پکڑنے کا حکم دے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ جبرائیل اور میکائل زندہ ہوں ‘ سو وہ زندہ ہوجائیں گے۔ پھر اللہ عزوجل ارواح کو بلائے گا ‘ وہ لائی جائیں گی۔ مسلمانوں کی روحیں نور کی طرح چمک رہی ہوں گی اور دوسری روحیں تاریک ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو صور میں ڈال دے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل سے فرمائے گا ان کو زندہ کرنے کے لیے صور میں پھونکو ‘ تو وہ زندہ کرنے کے لیے صور پھونکے گا ‘ پھر تمام روحیں شہد کی مکھیوں کی طرح نکلیں گی جن سے زمین اور آسمان بھر جائیں گے ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا ‘ تمام روحیں اپنے اجسام میں داخل ہوجائیں ‘ تو سب روحیں جسموں میں داخل ہونے لگیں گی اور نتھنوں کے راستہ داخل ہوں گی۔ جس طرح زہر کسی مارگزیدہ میں سرایت کرجاتا ہے۔ پھر زمین پھٹنے لگے گی اور میں سب سے پہلے زمین سے نکلوں گا ‘ لوگ سرعت کے ساتھ اپنے رب کی طرف نکلیں گے ‘ تم سب تیس سال کی عمر میں اٹھوگے اور اس دن سب کی زبان سریانی ہوگی : 

(آیت) ” خشعا ابصارھم یخرجون من الاجداث کا نھم جراد منتشر، مھطعین الی الداع یقول الکافرون ھذا یوم عسر “۔ (القمر : ٨۔ ٧) 

ترجمہ : وہ نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے ‘ گویا وہ زمین پر پھیلے ہوئے ٹڈی دل ہیں ‘ بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے ‘ کافر کہیں گے یہ بڑا سخت دن ہے۔ 

یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہے ‘ اس دن ہم تم کو جمع کریں گے اور تم میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے ‘ پھر وہ ایک جگہ میں ستر سال تک کھڑے رہیں گے۔ اللہ تمہاری طرف نہ دیکھے گا اور نہ کسی کا کوئی فیصلہ کرے گا ‘ خلقت روئے گی اور جب آنسو ختم ہوجائیں گے تو آنکھوں سے خون بہنے لگے گا ‘ لوگ اپنے پسینہ میں شرابور ہوجائیں گے ‘ ان کی ٹھوڑیوں اور منہ تک پسینہ پہنچا ہوا ہوگا ‘ لوگ کہیں گے کہ ہمارے رب کے پاس کون شفاعت کرے گا ‘ تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ لوگ کہیں گے کہ تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) سے زیادہ اس کا کون حقدار ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور ان میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی ہے اور ان سے بالمشافہ کلام کیا ہے۔ پھر لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جا کر اپنا مقصد بیان کریں گے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) اس سے انکار کردیں گے۔ پھر وہ ہر نبی کے پاس باری باری جائیں گے اور وہ اس کام سے انکار کریں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر وہ میرے پاس آئیں گے ‘ حتی کہ جب وہ میرے پاس آئیں گے تو میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر پڑوں گا ‘ حتی کہ اللہ عزوجل میرے پاس ایک فرشتہ بھیجے گا جو مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھائے گا ‘ پھر اللہ عزوجل پوچھے گا ‘ حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے۔ اے محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کیا بات ہے ؟ میں کہوں گا ‘ اے میرے رب ‘ تو نے مجھ سے شفاعت کا وعدہ فرمایا تھا ‘ پس اپنی مخلوق کے متعلق میری شفاعت قبول فرما اور ان کا فیصلہ فرما ‘ اللہ عزوجل فرمائے گا ‘ میں نے تمہاری شفاعت قبول کی ‘ میں تمہارے پاس آکر تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں واپس آکر لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوجاؤں گا ‘ سو جس وقت ہم کھڑے ہوئے ہوں گے تو آسمان سے ایک زبردست آواز آئے گی جس سے ہم گھبراجائیں گے ‘ اور زمین کے جن وانس سے دگنی تعداد میں آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے ‘ حتی کہ وہ زمین کے قریب آجائیں گے اور زمین ان کے نور سے روشن ہوجائے گی ‘ وہ اپنی صفیں بنائیں گے۔ ہم ان سے پوچھیں گے ‘ کیا تم میں ہمارا رب ہے ؟ وہ کہیں گے ‘ نہیں وہ آنے والا ہے۔ 

پھر تیسرا آسمان سے اس سے دگنے فرشتے نازل ہوں گے اور وہ زمین کے جن وانس سے بھی دگنے ہوں گے ‘ حتی کہ جب وہ زمین کے قریب ہوں گے تو زمین ان کے نور سے روشن ہوجائے گی۔ اور وہ اپنی صفیں بنائیں گے۔ ہم ان سے کہیں گے ‘ کیا تم میں ہمارا رب ہے ؟ وہ کہیں گے نہیں ‘ وہ آنے والا ہے۔ پھر اس سے دگنے فرشتے نازل ہوں گے۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ بادلوں اور فرشتوں کے جھرمٹ میں نازل ہوگا۔ آٹھ فرشتے اس کا عرش اٹھائے ہوئے ہوں گے ‘ حالانکہ اس وقت تو اس کا عرش چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ‘ ان کے اقدام سب سے نچلی زمین کی تہہ میں ہیں۔ تمام زمینیں اور آسمان انکی آدھے دھڑ تک پہنچتے ہیں ‘ عرش ان کے کندھوں پر ہے اور وہ بلند آواز سے تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ ” سبحان ذی الملک والملکوت ‘ سبحان ذی العزۃ والجبروت ‘ سبحان الحی الذی لایموت ‘ سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت ‘ سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح قدوسا قدوسا ‘ سبحان ربنا الاعلی ‘ سبحان ذی الملکوت والجبروت و الکبریاء والسلطان والعظمۃ سبحانہ ابدالاباد “۔ 

پھر اللہ تعالیٰ زمین پر جہاں چاہے گا ‘ اپنا عرش رکھے گا۔ پھر فرمائے گا ‘ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! کوئی شخص بھی ظلم کر کے میرے قریب نہیں ہوگا ‘ پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کو تمام مخلوق سنے گی۔ اے جن اور انس کی جماعت ! میں نے جب سے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ آج تک خاموش تھا ‘ تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا۔ اب تم خاموش رہو تمہارے اعمال کے صحیفے تم کو پڑھ کر سنائے جائیں گے ‘ جو شخص نیکیاں پائے ‘ وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کے صحیفے اس کے خلاف ہوں ‘ وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے ‘ پھر اللہ تعالیٰ دوزخ کو حکم دے گا تو اس میں سے ایک سیاہ چمکتی ہوئی گردن نمودار ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : 

(آیت) ” وامتازوا الیوم ایھا المجرمون، الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدو مبین “۔ (یسین : ٦٠۔ ٥٩) 

ترجمہ : اے مجرمو ! آج (نیکوں سے) الگ ہوجاؤ‘ اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ 

پھر اللہ تعالیٰ جن وانس کے سوا تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا ‘ بعض کا بعض سے قصاص لیاجائے گا ‘ حتی کہ بغیر سینگھ والی بکری کا سینگھ والی بکری سے قصاص لیاجائے گا ‘ حتی کہ جب کسی کا کسی پر حق نہیں رہے گا ‘ تو فرمائے گا ‘ تم سب مٹی ہوجاؤ‘ اس وقت کافر کہے گا : 

(آیت) ” یلیتنی کنت ترابا “۔ (النباء : ٤٠ )

ترجمہ : اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔ 

پھر اللہ عزوجل جن اور انس کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ پس سب سے پہلے خون کے متعلق فیصلہ فرمائے گا ‘ اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ قتل کیا گیا اور اس کے قاتل کو لایا جائے گا ‘ مقتول کی رگوں سے خون بہ رہا ہوگا ‘ وہ کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! ہم کو اس شخص نے قتل کیا ہے۔ اللہ عزوجل پوچھے گا حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے ‘ تم نے ان سے قتال کیوں کیا تھا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ؟ میں نے تیری عزت کی خاطر ان سے قتال کیا تھا ‘ اللہ عزوجل فرمائے گا تم نے سچ کہا پھر اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ سورج کی طرح منور کر دے گا ‘ پھر فرشتے اس کو جنت کی طرف لے جائیں گے۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اطاعت کے ‘ محض دنیاوی غلبہ کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا ‘ اور اس کا قاتل بھی آئے گا۔ مقتول اپنے خون میں لتھڑے ہوئے سر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کی آنتیں خون میں لتھڑی ہوئی ہوں گی ‘ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو اس شخص نے قتل کیا ہے اللہ عزوجل پوچھے گا ‘ حالانکہ وہ ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ‘ تم نے ان کو کیوں قتل کیا ؟ وہ کہے گا ‘ اے میرے رب ! میں نے غلبہ حاصل کرنے کے لیے ان کو قتل کیا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا تم ہلاک ہوگئے ‘ پھر اس کا چہرہ سیاہ اور اس کی آنکھیں نیلی کردی جائیں گی ‘ پھر ہر قاتل کو مقتول کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ باقی مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ پھر دودھ میں پانی ملانے والے کو اس بات کا مکلف کرے گا کہ وہ اس دودھ سے پانی کو الگ کرکے فروخت کرے ‘ حتی کہ کسی شخص کا کسی شخص پر کوئی حق باقی نہیں رہے گا تو ایک منادی ندا کرکے تمام مخلوق کو سنائے گا اور کہے گا ‘ سنو ! سب لوگ اپنے اپنے خداؤں کے ساتھ لاحق ہوجائیں اور ان کے ساتھ جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے تھے ‘ اور جس شخص نے بھی اللہ کو چھوڑ کر کسی معبود کی پرستش کی تھی ‘ اس کے سامنے وہ معبود متمثل کردیا جائے گا اور اس دن ایک فرشتہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں بنادیا جائے گا۔ نصاری اس کے پیچھے چلے جائیں گے اور ایک فرشتہ حضرت عزیر کی شکل میں بنادیا جائے گا ‘ یہودی اس کے پیچھے چلے جائیں گے ‘ پھر ان کے معبود ان کو جہنم کی طرف لے جائیں گے ‘ اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” لوکان ھولاء الھۃ ماوردوھا وکل فیھا خلدون “۔ (الانبیاء : ٩٩) 

ترجمہ : اگر یہ (سچے) معبود ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے اور (یہ) سب اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 

حتی کہ جب صرف مومن رہ جائیں گے اور ان میں منافق بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس طرح چاہے گا ‘ اپنی ہیبت میں آئے گا۔ پس فرمائے گا ‘ اے لوگو ‘ اپنے خداؤں کے ساتھ لاحق ہوجاؤ اور ان کے ساتھ جن کی تم عبادت کرتے تھے ‘ وہ کہیں گے بخدا ‘ اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہے اور ہم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ پھر اللہ ان کے پاس سے ہٹ جائے گا ‘ پھر اللہ ان کو برقرار رکھے گا اور جتنی دیر اللہ ٹھہرنا چاہے گا ‘ ٹھہرے گا۔ پھر جس طرح چاہے گا ‘ ان کے پاس اپنی ہیبت میں آئے گا اور فرمائے گا ‘ اے لوگو ! سب لوگ اپنے اپنے خداؤں کے ساتھ مل جا ملے ہیں۔ تم بھی اپنے معبودوں سے جا ملو ‘ وہ کہیں گے بخدا اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہے اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ پھر اللہ عزوجل فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں ‘ وہ کہیں گے ہم تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ‘ پھر اللہ فرمائے گا ‘ کیا تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان کوئی ایسی نشانی ہے جس سے تم اس کو پہچان لو ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر اللہ ان کے لیے اپنی پنڈلی کھولے گا اور انکے لیے اللہ کی عظمت سے تجلی فرمائے گا جس سے وہ اس کو پہچان لیں گے۔ پھر وہ سجدہ میں گرجائیں گے ‘ پھر جب تک اللہ چاہے گا ‘ وہ اس کو سجدہ کریں گے ‘ اور اللہ عزوجل منافقوں کی پشتوں کو گائے کی پشتوں کی طرح سیدھا (بغیر لچک کے) کردے گا ‘ وہ اپنی پیٹھوں کے بل پر گرپڑیں گے۔ 

پھر اللہ عزوجل ان کو اٹھنے کا حکم دے گا ‘ پھر ان کے لیے جہنم کی پشت کے اوپر صراط (پل) بنادیا جائے گا۔ جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگا ‘ اس میں جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے ‘ اور اس میں پھسلنے کی جگہیں ہوں گی۔ بعض مسلمان اس پر سے پلک جھپکنے میں گزر جائیں گے اور بعض ہوا کے جھونکے کی طرح گزر جائیں گے ‘ بعض تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور بعض تیز چلنے والے کی طرح گزریں گے ‘ بعض صحیح سالم گزر جائیں گے ‘ بعض زخمی ہو کر گزریں گے ‘ بعض منہ کے بل جہنم میں گرجائیں گے۔ اللہ عزوجل کی مخلوق میں سے ایک گروہ جہنم میں جا گرے گا ‘ ان کے اعمال ان کو ہلاک کریں گے۔ بعض کے صرف پیروں تک آگ پہنچے گی ‘ اس سے آگے تجاوز نہیں کرے گی ‘ بعض کی نصف پنڈلیوں تک آگ پہنچے گی ‘ بعض کے معقد ازار تک آگ پہنچے گی ‘ بعض کے چہروں کے سوا پورے جسم تک آگ پہنچے گی ‘ اور ان کے چہروں پر اللہ نے آگ کو حرام کردیا ہوگا اور جب جنت میں چلے جائیں گے تو لوگ کہیں گے کہ ہمارے رب کے پاس ہماری کون شفاعت کرے گا ؟ تاکہ ہم بھی جنت میں چلے جائیں۔ پس وہ کہیں گے کہ تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) سے زیادہ اس کا اور کون حقدار ہوگا۔ اللہ عزوجل نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی اور ان سے بالمشافہ کلام کیا ‘ پھر لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے شفاعت طلب کریں گے۔ 

حضرت آدم کو اپنا (صورۃ) گناہ یاد آئے گا ‘ وہ کہیں گے میں اس کے لائق نہیں ہوں ‘ لیکن تم حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ‘ وہ اللہ کے پہلے رسول (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی طرف بھیجا۔ پھر وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے شفاعت طلب کریں گے ‘ وہ کہیں گے میں اس کے لائق نہیں ہوں ‘ لیکن تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا ہے، پھر لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے شفاعت طلب کریں گے ‘ وہ کہیں گے ‘ میں اس کے لائق نہیں ہوں ‘ لیکن تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ اللہ تعالیٰ نے ان سے سرگوشی میں کلام کیا ہے اور ان پر تورات نازل کی ہے۔ 

پھر لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے شفاعت طلب کریں گے ‘ وہ کہیں گے میں اس کے لائق نہیں ہوں ‘ لیکن تم روح اللہ اور کلمۃ اللہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے پاس جاؤ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جا کر ان سے شفاعت طلب کریں گے ‘ وہ کہیں گے میں اس کے لائق نہیں ہوں ‘ لیکن عنقریب میں صاحب شفاعت کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گا۔ تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر لوگ میرے پاس آئیں گے اور میرے رب کے پاس میری تین شفاعتیں ہیں جن کا اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ‘ پھر میں جنت کی طرف روانہ ہوں گا اور جنت کے دروازہ کو کھلواؤں گا ‘ پھر میرے لیے جنت کے دروازہ کو کھول دیا جائے گا اور مجھے تعظیم کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا۔ 

میں جنت میں داخل ہو کر عرش کے اوپر اپنے رب عزوجل کو دیکھوں گا میں اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑوں گا۔ اور جب تک اللہ چاہے گا ‘ میں سجدہ میں رہوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ایسی حمد اور تمجید کرنے کی اجازت دے گا جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی تھی۔ پھر اللہ عزوجل مجھ سے ارشاد فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور شفاعت کیجئے ‘ آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور سوال کیجئے آپ کو دیا جائے گا۔ پس میں اپنا سر اٹھاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا ‘ حالانکہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ کیا بات ہے ـ ؟ میں کہوں گا اے میرے رب ! تو نے مجھ سے شفاعت کا وعدہ کیا تھا۔ تو اہل جنت کے متعلق میری شفاعت قبول فرما ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تمہاری شفاعت قبول کرلی اور میں نے ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ‘ سو وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ 

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے ‘ تم دنیا میں اپنے گھروں اور بیویوں کو اس قدر نہیں پہچانتے جس قدر تم جنت میں اپنے گھروں اور بیویوں کو پہچانو گے۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا میں شفاعت کروں گا اور یہ کہوں گا ‘ اے میرے رب ! میری امت میں سے جو لوگ دوزخ میں گرگئے ہیں اللہ عزوجل فرمائے گا ‘ جاؤ جن کی صورت تم پہچانتے ہو ‘ ان کو دوزخ سے نکال لو۔ پھر ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا حتی کہ دوزخ میں میرا ایک امتی بھی نہیں رہے گا۔ پھر اللہ عزوجل شفاعت کی اجازت دے گا۔ اور ہر نبی ‘ ہر شہید اور لعنت کرنے والے کے سوا ہر مومن شفاعت کرے گا ‘ کیونکہ لعنت کرنے والے کو نہ شہید لکھا جائے گا اور نہ اس کی شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر اللہ عزوجل فرمائے گا جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہو ‘ اس کو دوزخ سے نکال لو۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں دو تہائی (٣۔ ٢) دینار کے برابر بھی ایمان ہو ‘ پھر فرمائے گا جس کے دل میں نصف دینار کے برابر بھی ایمان ہو ‘ پھر فرمائے گا جس کے دل میں ایک تہائی (٣۔ ١) دینار کے برابر بھی ایمان ہو ‘ پھر فرمائے گا ‘ جس کے دل میں ایک قیراط (چھ جو) کے برابر بھی ایمان ہو ‘ پھر فرمائے گا جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو ‘ اس کو دوزخ سے نکال لو اور بیشک ابلیس لعنہ اللہ اس دن یہ امید کرے گا کہ اس کی بھی کوئی شفاعت کرے گا۔ 

اور جب ہر شخص شفاعت کرچکے گا اور دوزخ میں کوئی ایسا شخص نہیں باقی بچے گا جس نے اللہ کے لیے کوئی نیکی کی ہو ‘ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ اب میں باقی رہ گیا ہوں ‘ اور میں سب سے زیادہ نیکی کرنے والا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ دوزخ میں اپنا ہاتھ داخل کرے گا۔ اور بیشمار لوگوں کو دوزخ سے نکال لے گا جن کی تعداد کو وہی جانتا ہے ‘ وہ لوگ جلی ہوئی لکڑیوں کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ انکو نہرالحیوان میں ڈال دے گا ‘ وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے دریا کے کنارے کی مٹی میں دبا ہوا دانہ اگنے لگتا ہے ‘ جو سورج کی دھوپ میں سرسبز اور سائے میں زرد ہوجاتا ہے۔ عربوں نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا تو وہ کہنے لگے ‘ یا رسول اللہ لگتا ہے کہ آپ جنگل میں رہے ہیں۔ وہ شاداب سبزیوں کی طرح اگیں گے اور ذرات کی طرح پھیلے ہوئے ہوں گے۔ ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا رحمن کے آزاد کیے ہوئے دوزخی اس تحریر سے اہل جنت ان پہچانیں گے ‘ جب تک اللہ چاہے گا ‘ وہ جنت میں اسی طرح رہیں گے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے ‘ اے اللہ ! یہ تحریر ہم سے مٹا دے ‘ سو اللہ تعالیٰ ان سے یہ تحریر مٹا دے گا۔ 

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں یہ حدیث مشہور ہے اور بہت طویل اور بہت غریب ہے۔ متفرق احادیث میں اس کے متفرق ٹکڑے ہیں۔ اس میں درج بعض امور لائق انکار ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی مدینہ اس کی روایت میں منفرد ہیں ‘ اس کی صحت میں اختلاف ہے۔ بعض نے اس کی توثیق کی ہے ‘ بعض نے اس کو ضعیف کہا ہے ‘ بعض نے انکار کیا ہے بعض نے متروک کہا ہے۔ دراصل یہ حدیث کئی احادیث کو جوڑ کر بنائی گئی ہے اور اس کو ایک ہی سند سے بیان کردیا گیا ہے ‘ اس لیے یہ قابل انکار ہوگئی۔ میں نے اپنے استاذ حافظ المزی سے سنا ہے کہ یہ ولید بن مسلم کی ایک تصنیف ہے جس کو اس نے جمع کر رکھا ہے ‘ گویا یہ بعض الگ الگ حدیثوں کے شواہد ہیں۔ 

(کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٨٨‘ ١٣٧‘ جامع البیان ‘ ج ٢٤‘ ص ٣٩‘ ٣٨‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ١٠‘ ص ٣٢٦٢ ‘۔ ٣٢٥٦‘ تفسیر ابن کثیر ‘ ج ٣‘ ص ٥٢‘ ٤٦‘ تفسیر درمنثور ‘ ج ٧‘ ص ٢٦٢۔ ٢٥٦ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 73