جونمازعصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط

حدیث نمبر :558

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازعصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط ہوگئے ۱؎ (بخاری)

شرح

۱؎ غالبًاعمل سے مراد وہ دنیوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازعصرچھوڑی۔ضبطی سے مراد اس کام کی برکت کا ختم ہونا،یایہ مطلب ہے کہ جوعصرچھوڑنے کاعادی ہوجائے اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافرہوکر مرے جس سے اعمال ضبط ہو جائیں،اس کا مطلب یہ نہیں کہ عصرچھوڑناکفر وارتدادہے۔خیال رہے کہ نماز عصرکو قرآن کریم نے بیچ کی نماز فرماکر اس کی بہت تاکیدفرمائی،نیز اس وقت رات ودن کے فرشتوں کا اجتماع ہوتاہے اوریہ وقت لوگوں کی سیروتفریح اورتجارتوں کے فروغ کا وقت ہے،اس لئے کہ اکثرلوگ عصر میں سستی کرجاتے ہیں ان وجوہ سے قرآن شریف نے بھی عصرکی بہت تاکیدفرمائی اورحدیث شریف نے بھی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.