🌺 سو سکھ کے حصول کا قرآنی نسخہ

🍂(( *لئن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (28) إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِين )) .🍃

( سورة المائدة 28 ، 29 ۔ )

اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ گے بھی تو میں تجھے قتل کرنے کے لیئے اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں کہ بلا شک وشبہ میں تو ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے اور میرا یہ ارادہ بھی ہو گا کہ تم میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس لوٹو تاکہ تم اصحاب جہنم میں سے بن جاؤ. اور یہی تو ظالموں کو بدلے میں ملنے والا ہے ۔

ان دونوں آیتوں کا مضمون کچھ یوں ہے کہ جب قابیل اور ہابیل میں بات بہت بڑھ گئی تو ہابیل نے واضح کر دیا کہ میں کسی طرح کی کوئی بری پہل نہیں کروں گا یہاں تک کہ اگر تم نے میرے قتل تک کا منصوبہ بنایا تو تم بناتے رہنا ۔ میں تو ایسا کوئی منصوبہ نہیں بناؤں گا

اس کی کسی بھی شک وشبہ سے مبرا

پہلی وجہ مجھے اللہ رب العالمین کا خوف ہے ۔

اگلی وجہ یہ ہے کہ پہلے کوئی منفی اقدام کر کے میں گناہ گار اور مجرم بننا پسند نہیں کرتا ۔

مجھے تم قتل کرو گے تو مجھے زندگی جیسی نعمت اور اس میں اللہ تبارک و تعالی کی بندگی کرنے سے محروم کرنے کا گناہ بھی اور میرا ناحق قاتل بننے کا گناہ دونوں تیرے ہی اعمال نامہ میں جائیں گے ۔

چنانچہ جناب ہابیل نے جسمانی قوت قابیل سے زیادہ ہونے کے باوجود کوئی منفی ہتھکنڈہ ، کوئی خلاف شرع اقدام کرنے میں پہل نہیں کی اور آپ سو رہے تھے کہ قابیل نے پتھر مار کر آپ کو شہید کر دیا

مطلب یہ کہ آپ نے مقتول اور شہید ہونا اختیار کر لیا لیکن ایک مسلمان کا قاتل بننا اور کہلانا پسند نہیں کیا ۔ آپ نے اپنی زندگی کی قربانی دینا تو پسند کر لیا لیکن اپنے ابا حضرت آدم علیہ السلام کی تا قیامت آنے والی اولاد میں کسی برائی کا موجد اور مروج بننا پسند نہیں کیا ۔

اس دور پر فتن میں ، جب کہ اکثر حالات میں تحمل و برداشت عنقا ہو چکی ہے ۔ اقدار مسخ ہوتی جا رہی ہیں ۔ دین ، دینی تعلیمات و شعائر کے ساتھ استہزاء کو روشن خیالی ، جہالت کو بسالت ، دست درازی کو فنکاری ، بے شرمی و بے حیائی کو فیشن ، خوش خلقی کو بزدلی ، بد تہذیبی کو دلیری ، یاوہ گوئی کو منہ پہ حق گوئی بنا دیا گیا ہے ، کوئی منچلا آپ کے ساتھ چونچلا ہونے لگے ، آپ کا وقار اسے بار لگنے لگے اور اس کا ارادہ کسی بے ہودگی اور بڑبولی کا ہونے لگے تو اسی آیت کو یاد کر لیجئے ..🧨

🍃(( *لئن بسطت إلي يدك لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلك* )).

🍂اور کہیئے

☆ میں اس جیسا تو نہیں ہوں ۔

☆ میں اس کے اس تھڑولے مقام پر کیوں گروں ۔

☆ مجھے اپنے دامن کو اجلا رکھنا ہے ۔

🌾 اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ذہن میں لائیے

🌸 اور اپنے آپ کو یہ تلقین کیجئے کہ اسے اس کی خوئے بد اگر پسند ہے ، تو مجھے ساری کائنات کے ہادئ اعظم کی ہدایت جان سے بڑھ کر عزیز ہے جو آپ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے اپنی ساری امت کو دی کہ ۔

🌹 جب فتنے تند و تیز گھٹائیں بن کر تجھ پر حملہ آور ہونے لگیں تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے جو خیر تھا اس کی طرح ہو جانا

( متعدد کتب تفسیر و حدیث میں موجود ارشاد نبوی کا مفہوم )

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ کریم کاتب تحریر اس فقیر کو اور اس کے جملہ پیاروں کو ظاہری و باطنی تمام فتنوں سے ہر دم اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم

✒ از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین