شیخ علی متقی

شیخ علی متقی

نام و نسب:۔ نام ،علی ۔لقب ،متقی ۔ والد کا نام ،عبدالملک ۔لقب ،حسام الدین ہے۔ سلسلہ نسب علی بن عبدالملک بن قاضی خاں شاذلی مدینی چشتی۔

آپ کے والد عبدالملک حسام الدین بن قاضی خاں متقی قادری شاذلی مدینی چشتی ہیں آباء واجداد جونپور سے آکر برھان پور میں مقیم ہوئے ،آپکی ولادت ۸۸۵ھ میں اسی شہر میں ہوئی ،پاکیزہ ماحول میں تعلیم وتربیت پائی ،آٹھ سال کی عمر میں شیخ بہاء الدین صوفی برھان پوری جوشاہ باجن چشتی سے مشہور تھے مرید ہوئے ،والد کا انتقال اسکے بعد ہی آپکی صغر سنی میں ہوگیا ۔ نوجوانی میں بمقام مندو ایک بادشاہ کی ملازمت بھی کرلی تھی جو اس وقت مالوہ کی قدیم حکومت کا صدر مقام تھا ۔لیکن سعادت ازلی نے اور عنایت الہی نے اس سے دل برداشتہ کردیا ملازمت ترک کرکے ملتان کا رخ کیا اور وہاں شیخ حسام الدین متقی ملتانی کی خدمت میں حاضری دی ۔

دوسال کی مدت میں تفسیر بیضاوی اور عین العلم کا آپ سے درس بھی لیا ۔اسکے بعد تقوی وتوکل کو زادراہ بناکر حرمین شریفین زادھما اللہ شرفاوتعظیما کا سفر اختیار فرمایا ۔

مکہ معظمہ پہونچ کر شیخ ابوالحسن شافعی بکری کی خدمت میں حاضر ہوکر مزید علم شریعت وطریقت پایا ،سلسلہ عالیہ قادریہ شاذلیہ مدینیہ میں مجاز ہوئے اور پھر شیخ محمد بن محمد بن محمد سخاوی کی خدمت میں رہکر سلسلہ عالیہ قادریہ کا خرقہ حاصل کیا ۔دیگر مشائخ طریقت سے بھی اجازت وخلافت سے نوازے گئے اور حدیث کی سندشیخ شہاب الدین احمد بن حجر مکی سے حاصل کی اور مکہ معظمہ میں اقامت اختیار کرلی ۔

شیخ عبدالحق محدث د ہلوی لکھتے ہیں :۔

اسی دوران آپ نے کنزالعمال نامی کتاب مدون ومرتب فرمائی جو آپ کا عظیم علمی ودینی شاہکار ہے ۔ نیز آپ نے احادیث مکررہ کو چھانٹ کر منتخب کنزالعمال بھی تحریر فرمائی ۔

ان کتابوں کو دیکھ کر آپ کے شیخ ابو الحسن بکری شافعی نے فرمایا تھا ، امام سیوطی نے جمع الجوامع لکھ کر تمام لوگوں پر احسان کیا تھا لیکن شیخ علی متقی نے کنزالعمال کی تدوین فرماکر خود ان پر احسان کیا ہے ۔

آپکی تصانیف کی تعداد ایک سوسے متجاوز ہے ۔پوری عمر زھد وتوکل میں بسر فرمائی ۔ اسکے بعد ھندوستان میں محمود شاہ صغیر گجراتی کے دور میں دومرتبہ تشریف لائے ،شاہ صغیر آپ کامرید بھی ہوگیا تھا ۔

آپ کا وصال ۲؍جمادی الآخرہ ۹۷۵ھ صبح صادق کے وقت مکہ معظمہ میں ہوا،مکہ معظمہ میں تدفین کی گئی ۔شیخ عبدالوہاب متقی آپ کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔(کنز العمال للمتقی ۔ شیخ محدث دہلوی)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.