عورتیں اپنی چادروں میں لپیٹی ہوئی لوٹ جاتی

حدیث نمبر :561

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجرپڑھتے تھے پھرعورتیں اپنی چادروں میں لپیٹی ہوئی لوٹ جاتی تھیں اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ اندھیرا یا تو مسجدکاہوتا تھا کیونکہ مسجد نبوی بہت گہری تھی یا وقت کا کیونکہ سر کارصلی اللہ علیہ وسلم نماز فجراول وقت میں ادا فرماتے تھے ان نمازی عورتوں کی وجہ سے تاکہ اندھیرے ہی میں اپنے گھر چلی جائیں پھرعورتوں کومسجد میں آنے سے روک دیا گیا تب یہ حکم بھی بدل گیا۔پہلی صورت میں یہ حدیث محکم اور ہمارے واسطے لائق عمل ہے۔دوسری صورت میں یہ عمل اس وقت کے لحاظ سے ہے اورحضورکی خصوصیات سے۔ہم نے توجیہیں اس لئے کیں کہ آگے فجراجیالے میں پڑھنے کا حکم آرہاہے اس توجیہ کی بنا پر یہ فعلی حدیث اس قولی کے خلاف نہ ہوگی۔غالبًا یہ بیبیاں سلام پھیرتے ہی دعا سے پہلے چلی جاتی تھیں جیساکہ فَتَنْصَرِفُ کی "ف”سے معلوم ہورہاہے اورمرد دعاکے بعدجاتے تھے تاکہ عورتوں اورمردوں کا اختلاط نہ ہو۔خیال رہے کہ حضرت عمر فاروق نےعورتوں کو مسجد سے روک دیاحضرت عائشہ صدیقہ نے اس کی تائیدکی اورفرمایا کہ اگرحضورانوربھی آج کے حالات دیکھتے توعورتوں کومسجد سے روک دیتے افسوس ان لوگوں پرجو اس دورمیں اپنی عورتوں کو بے پردہ سینما اوربازاروں میں بھیجیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.