کر دو آقا کرم

لب پہ جاری صدا کر دو آقا کرم

لب پہ جاری صدا کر دو آقا کرم

در پہ پہنچا تو دل نے کہا برملا

معاف ہو سب خطا کر دو آقا کرم

کس کی جانب چلوں کس کا منہ میں تکوں

چھوڑ کر در تِراکر دو آقا کرم

آپ حاضر بھی ہیں آپ ناظر بھی ہیں

یک نظر سوئے ما کر دو آقا کرم

مرض عصیاں سے اب تو ہوا چوٗر میں

دے دو کامل شفا کر دو آقا کرم

کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہئے

ہاتھ پھیلا دیا کر دو آقا کرم

سائلِ در ہوا شاکرِؔ بے نوا

علمِ نافع عطا کر دو آقا کرم