کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 5 رکوع 15 سورہ النساء آیت نمبر116 تا 126

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۱۶)

اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۳۰۵) اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا

(ف305)

شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک کہن سال اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبیَ اللہ میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا اور اس کے سوا کسی اور کو ولی نہ بنایا اور جرأ ت کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پَل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں شرمند ہوں ، تائب ہوں، مغفرت چاہتا ہوں اللہ کے یہاں میرا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ آیت نصِ صَریح ہے اس پر کہ شرک بخشا نہ جائے گا اگر مشرک اپنے شرک پر مرے کیونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مشرک جو اپنے شرک سے توبہ کرے اور ایمان لائے تو اس کی توبہ و ایمان مقبول ہے۔

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًاۚ-وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ(۱۱۷)

یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو (ف۳۰۶) اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو (ف۳۰۷)

(ف306)

یعنی مؤنث بتوں کو جیسے لات، عُزّٰی، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث اور عرب کے ہر قبیلے کا بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثٰی (عورت) کہتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی قراءت ” اِلَّا اَوْثَاناً ” اور حضرت ابن عباس کی قراء ت میں ” اِلَّآ اُثناً” آیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِناث سے مراد بُت ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔

(ف307)

کیونکہ اسی کے اِغواء سے بت پرستی کرتے ہیں۔

لَّعَنَهُ اللّٰهُۘ-وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ(۱۱۸)

جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا (ف۳۰۸) قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصّہ لوں گا (ف۳۰۹)

(ف308)

شیطان ۔

(ف309)

انہیں اپنا مطیع بناؤں گا ۔

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ(۱۱۹)

قسم ہے میں ضرورانہیں بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا (ف۳۱۰) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے (ف۳۱۱) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے -(ف۳۱۲) اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے(کھلے نقصان) میں پڑا

(ف310)

طرح طرح کی کبھی عمرِ طویل کی کبھی لذّاتِ دنیا کی کبھی خواہشاتِ باطلہ کی کبھی اور کبھی اور ۔

(ف311)

چنانچہ انہوں نے ایسا کیا کہ اونٹنی جب پانچ مرتبہ بیاہ لیتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے اور اس کا دودھ بتوں کے لئے کرلیتے اور اس کو بَحِیۡرہ کہتے تھے شیطان نے اُن کے دِل میں یہ ڈال دیا تھا کہ ایسا کرنا عبادت ہے۔

(ف312)

مَردوں کا عورتوں کی شکل میں زنانہ لباس پہننا عورتوں کی طرح بات چیت اور حَرَ کات کرنا جسم کو گُود کر سرمہ یا سَیندور وغیرہ جلد میں پیوست کرکے نقش و نگار بنانا بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْؕ-وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا(۱۲۰)

شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے (ف۳۱۳) اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے (ف۳۱۴)

(ف313)

اور دل میں طرح طرح کی اُمیدیں اور وسوسے ڈالتا ہے تاکہ انسان گمراہی میں پڑے۔

(ف314)

کہ جس چیز کے نفع اور فائدہ کی توقع دلاتا ہے درحقیقت اس میں سخت ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔

اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ٘-وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا(۱۲۱)

ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا(۱۲۲)

اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کچھ دیر جاتی ہے کہ ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا وعدہ اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِؕ-مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۲۳)

کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے (ف۳۱۵) اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر (ف۳۱۶) جو بُرائی کرے گا(ف۳۱۷)اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مدد گار (ف۳۱۸)

(ف315)

جو تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے۔

(ف316)

جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصارٰی کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے۔

(ف317)

خواہ مشرکین میں سے ہو یا یہود نصاری میں سے ۔

(ف318)

یہ وعید کفار کے لئے ہے ۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا(۱۲۴)

اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۳۱۹) تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا

(ف319)

مسئلہ: اس میں اشارہ ہے کہ اعمال داخلِ ایمان نہیں۔

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا(۱۲۵)

اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لیے جھکا دیا (ف۳۲۰) اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر چلا(ف۳۲۱) جو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا(ف۳۲۲)

(ف320)

یعنی اطاعت و اخلاص اختیار کیا۔

(ف321)

جو ملت اسلام کے موافق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت و ملت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملت میں داخل ہے اور خصوصیات دین محمدی کے اس کے علاوہ ہیں دین محمدی کا اتباع کرنے سے شرع و ملت ابراہیم علیہ السلام کا اتباع حاصل ہوتا ہے چونکہ عرب اور یہود و نصارٰی سب حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ السلام سے اِنتساب پر فخر کرتے تھے اور آپ کی شریعت ان سب کو مقبول تھی اور شرع محمدی اس پر حاوی ہے تو ان سب کو دین محمدی میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا لازم ہے۔

(ف322)

خُلَّت صفائے مَوَدّت اور غیر سے اِنقطاع کو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃوالتسلیمات یہ اوصاف رکھتے تھے اس لئے آپ کو خلیل کہا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ خلیل اس مُحِبّ کو کہتے ہیں جس کی محبت کاملہ ہو اور اس میں کسی قسم کا خَلل اور نقصان نہ ہو یہ معنٰی بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیمات میں پائے جاتے ہیں تمام انبیاء کے جو کمالات ہیں سب سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں حضور اللہ کے خلیل بھی ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور حبیب بھی جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور یہ فخراً نہیں کہتا ۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠(۱۲۶)

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے (ف۳۲۳)

(ف323)

اور وہ اس کے احاطہِ علم وقدرت میں ہے احاطہ بالعلم یہ ہے کہ کسی شے کے لئے جتنے وجوہ ہوسکتے ہیں ان میں سے کوئی وجہ علم سے خارج نہ ہو ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.