اہلِ عرب کے حالات :

عرب کی حالت دنیا کے تمام ممالک سے بدترین تھی، اہل حجاز مذہبی اعتبار سے اپنے رشتے کو حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام سے فخریہ منسلک کرتے، ویسے تو حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے مذہب کی کچھ رسمیں عربوں میں رائج تھیں، یہ اور بات ہے کہ ان رسموں کی شکلیں مسخ ہو چکی تھیں، ان کے انداز تبدیل ہو گئے تھے۔ مثلاً ملتِ ابراہیمی کی طرح یہ لوگ بھی حج کرتے لیکن ننگے ہو کر، ان کی طرح یہ لوگ بھی قربانی دیتے، مہمان نوازی اور وعدہ وفا کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے علاوہ کچھ اور اچھائیاں بھی عربوں میں تھیں، لیکن اگر ان میں موجود بُرائیوں پر نظر کی جائے تو اچھائیاں بالکل ہی معدوم نظر آتی ہیں۔

بد کاری اور زنا کاری اور دوسرے قبیح افعال پر نادم ہونے کے بجائے فخر کیا کرتے تھے اور اشعار کے ذریعہ انہیں مشہور کرتے۔ شراب نوشی اور اسی طرح دیگر نشیلی چیزیں ان میں عام تھیں، انہیں کوئی عیب کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ باندیاں اور لونڈیاں رقص و سرودکے لئے پالی جاتی تھیں، ان سے زنا کا کاروبار چلتا تھا اور آمدنی ان کے مالک لے لیتے تھے۔ کسی عورت کو مالِ وراثت میں سے کچھ نہ ملتا، عورتیں اور بچے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی وراثت سے قطعاً محروم تھے، صرف بالغ مردوں ہی کو وارث سمجھا جاتا تھا۔ اگر کسی کا شوہر مر جاتا تو اس پر اس کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار حتیٰ کہ خود اس کا سوتیلا بیٹا اس پر حق جما کر اپنی زوجیت میں شامل کر لیتا۔ عورت کی رضا مندی کو ہرگز ملحوظ نہ رکھا جاتا، بے پردگی اور جسم کی نمائش سارے معاشرے میں عام تھی، بڑی ہی بے حیائی کے ساتھ عورتیں اپنے جسم کی نمائش کرتیں۔ شریف خاندانوں کا حال یہ تھا کہ اپنی لڑکیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیتے یا گہرے کنووں میں ڈھکیل کر ہلاک کر دیتے، اس پر فخر بھی کیا جاتا اور اسے شرافت بھی سمجھا جاتا تھا۔ جوا بازی محبوب کھیل تھا اور جگہ جگہ جوا خانے موجود تھے۔ توہم پرستی اور خبیث روحوں کا اعتقاد عام تھا۔ کئی خیالی دیوتا اور دیویاں بنا لی گئی تھیں، ان کی عجیب عجیب صورتیں اور شکلیں متعین کی جاتیں اور انہیں کے مطابق بُت بنائے جاتے۔ ہر قبیلے کا تقریباً اپنا اپنا الگ بُت تھا۔تقریباً سارا عرب بُت پرستی کا شکار تھا، بتوں کو سجدہ کیا جاتا، ان سے منتیں مانی جاتیں، اونٹ، گائے بکری وغیرہ کی قربانیاں پیش کی جاتیں۔ ہُبل، وُد، سُواع، یغوث، یعوق، نسر، لات، منات، عُزیٰ، دوار، اساف، نائلہ، عبعب اور ان جیسے سیکڑوں بُتوں کو عرب خُدا مانتے تھے۔

معمولی معمولی باتوں پر جنگیں چھڑ جاتیں اور برسوں تک ایک دوسرے کا خون بہایا جاتا اور کئی نسلوں تک ان جنگوں کا اثر باقی رہتا۔ حسب و نسب پر بہت فخر کیا جاتا اور ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو حقیر و ذلیل سمجھتا اور ایک دوسرے کو رسوا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔

خیبر میں آباد یہود و نصاریٰ اگر چہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے تھے لیکن ان کی حالت دیگر عربوں سے زیادہ مختلف نہ تھی۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! دیگر ممالک کے باشندوں کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر عرب کے باشندے اللہ کی نافرمانی اور معصیت میں مبتلا تھے۔ تقریباً تین سو ساٹھ بتوں کو پوجنے والے ان عربوں کی تقدیر اس وقت جگمگا اٹھی جب اللہ کے پیارے محبوب دانائے خفایا و غیوب رحمۃٌ للعالمین ﷺ ۵۷۱ء؁ میں رشد و ہدایت اور حق و صداقت کا پیکر بن کر جلوہ گر ہوئے اور آپ نے وہ عظیم انقلاب برپا کیا کہ جس کے نورانی اثرات سے ساری دنیا خصوصاً عرب سے بُرائی اور بدعملی کا دور اپنے انجام کو پہنچا، جس کی برکتوں سے گمراہی اور بے دینی کا سد باب ہو گیا۔ سابقہ کتب الٰہیہ میں جو بشارت دی گئی تھی کہ ’خاتم النبیین جب مبعوث ہوں گے تو ساری دنیا سے کفر و شرک کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں کو دور فرماکر آفتابِ اسلام کی نورانی شعاعوں سے ساری دنیا کو منور کر دیں گے ۔پوری ہو چکی تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا ذکر اس طرح فرمایا ۔

’’اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِز یَأْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَ الْاَغْلَالَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ‘‘

وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور بُرائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لئے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتارے گا۔ (سورۂ اعراف،آیت:۱۵۷)