🌴 سیر و سیاحت 🌴

رمضان شریف کے بعد ماہِ شَوَّال آتا ہے ۔

دیگر مہینوں کی طرح ، اس مہینے کا نام رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ:

عرب ، اس مہینے میں سیر و تفریح کے لیے گھروں سے باہر جایاکرتے تھے ۔

اسی لیے انھوں نے اس کا نام شوال رکھا ، کیوں کہ لفظِ شوال میں ” اونٹنی کے دم اٹھانے “ کے معنے پائے جاتے ہیں ، جو سفر کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

زمانہ قدیم سے یہ رسم آج تک چلی آرہی ہے ۔

ہمارے ہاں بھی لوگ اس مہینے میں سیر سپاٹا کرنے مختلف علاقوں کی طرف جاتے ہیں ۔

اگر اللہ و رسول کی نافرنی نہ ہو ، تو سیر کرنے میں کوئی ہرج نہیں!

سیر ، انسانی صحت اور شعور پر اچھے اثرات ڈالتی ہے ۔

اگر آپ اکیلے ہیں تو اچھے دوستوں کے ساتھ ، اچھے اچھے مقامات کی سیر کو نکلیں ، قدرتی مناظر سے لطف حاصل کریں اور اللہ پاک کی تسبیح بیان کریں ۔

اگر صاحبِ اولاد ہیں ، توبیوی بچوں کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے نکلیں ، وہ آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر قلبی سکون محسوس کریں گے ۔

مذہبی حال حُلیے کے لوگ بھی مع اہل وعیال سیر کے لیے جاسکتے ہیں ، یہ کوئی قابل گرفت عمل نہیں ؛ اس سلسلے میں بالکل احساس کم تری اورعار میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔

صُوفیِ باصفا ، عابدِ بے ریا ، شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ جمعرات کواپنے اہل وعیال سمیت کسی پارک میں چلے جاتے تھے ، وہیں رات کا کھاناکھاتے اور نمازِعشا کے بعد دیر سے گھر لوٹتے ۔

اللہ کرے ہم سب ؎

طیبہ کی سیر کو چلیں ، قدموں میں اُن کے جان دیں

دفن ہوں اُن کے شہر میں ، ہے یہی التجا فقط !

لقمان شاہد

9 شوال 1440 ھ

حال مقیم: گجرات ، پاکستان ۔