شیخ عبدالوہاب متقی

نسب و ولادت:۔آ پ کی ولادت مندو میں ۹۰۲ھ میں ہوئی ۔آپ کے والد ماجد شیخ ولی اللہ مندو کے اکابرین میں سے تھے ،بعد میں برھان پور سکونت اختیار کرلی تھی ۔لیکن تھوڑے دن بعد انتقال ہوگیا ۔کچھ عرصہ بعد آپ کی والدہ بھی رحلت فرماگئیں ۔لیکن تائید ربانی اور توفیق یزدانی نے آ پ کی رفاقت کی ۔آپ نے چھوٹی سی عمر ہی سے طلب حق کیلئے فقہ وتجرید ،سفروسیاحت اختیار فرمائی ،نواح گجرات ، علاقہ دکن ،سیلون لنکا اور سراندیپ کے مختلف مقامات پر گئے ،آپ کا معمول تھا کہ تین دن سے زیادہ کہیں قیامنہیں کرتے تھے ،البتہ تحصیل علم کا موقع جہاں ملتا تو حسب ضرورت قیام کرتے ۔

بیس سال کی عمر ہو گی کہ آپ سیاحت کرتے ہوئے مکہ معظمہ پہونچ گئے ۔یہ ۹۶۳ کا زمانہ تھا ۔ مکہ معظمہ میں اس وقت شیخ علی متقی مسند درس پر متمکن تھے ،دور دور انکی شہرت تھی ، وہ شیخ عبدالوہاب متقی کے والد سے بھی واقف تھے ،چنانچہ آپ انکی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں کے ہورہے ۔

شیخ عبدالوہاب متقی کا خط نہایت پاکیزہ تھا ،شیخ علی متقی نے سب سے پہلے ان سے یہ ہی کام لیا ،جو شخص مدتوں صحرا نوردی کرتا رہا ہو اسکی طبیعت میں یکسوئی پیدا کرنے کیلئے اس سے بہتر کوئی کام نہیں ہوسکتا تھا ۔آپ نے دل وجان سے یہ کام انجام دیا اور شیخ علی متقی کی ایک کتاب جو بارہ ہزار سطروں کی تھی کل بارہ راتوں میں مکمل کتابت کردی ۔تعجب خیز بات یہ ہے کہ دن بھر دوسری کتابوں کی تصحیح و کتابت میں مشغولیت رہتی ،صرف رات کو شیخ کی کتاب لکھنے کا موقع ملتاتھا ۔ شیخ علی متقی نے ان کا یہ ذوق وشوق دیکھا تو مزید قلبی تعلق ہوگیا ،شیخ عبدالوہاب نے بھی انکے آستانہ کو اس مضبوطی سے پکڑا کہ ۹۷۵ھ آپکے وصال تک وہیں جمے رہے ،خود فرماتے تھے :۔

میرے شیخ علی متقی کا وصال میرے زانو پرہوا ۔

اسکے بعد مکہ معظمہ میں ایسا مرکز قائم کیا جسکی شہرت دوردور تک پھیل گئی ۔شیخ محقق لکھتے ہیں :۔

اس زمانے میں انکے برابر علوم شرعیہ پر عبور رکھنے والے کم ہونگے ۔اگر کہاجائے کہ لغت قاموس آپکو پوری یاد تھی تو مبالغہ نہ ہوگا ۔اسی طرح فقہ وحدیث اور فلسفہ کی کتابیں بیشتر یاد تھیں ۔برسوں حرم شریف میں درس دیا ۔

مکہ معظمہ میں بیٹھ کر ساری علمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیاتھا اور اپنے علمی تبحر کا سکہ حجاز ویمن اور مصروشام کے علماء سے منوایا تھا ۔

شیخ عبدالوہاب متقی عمر کے بیشتر حصہ میں مجرد ہی رہے ، عمر جب چالیس اور پچاس کے درمیان تھی تو شادی کی ،شادی سے پہلے ان کا یہ حال تھا کہ جو کتابت وغیرہ کی اجرت ملتی سب فقراء پر تقسیم کردیتے تھے ۔شادی کے بعد اہل وعیال کے حقوق کو مقدم سمجھتے تھے لیکن پھر بھی یہ حال تھا کہ کسی محتاج کی مدد سے گریز نہ کرتے تھے ۔

ھندوستان کے فقراء انکی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کھانے کپڑے وغیرہ سے انکی مدد کرتے تھے ۔

آپ اپنے زمانہ میں علم وعمل ،حال واتباع ،استقامت وتربیت ،مریدوں کے سلوک اور طالب علموں کی افادیت وامداد ،غریبوں فقیروں پر مہر بانی وشفقت ،مخلوق الہی کو نصیحت اور تمام نیک کاموں کی تلقین کرنے میں اپنے پیرومرشد کے حقیقی وارث ،اولین خلیفہ اور صاحب اسرار تھے ۔ آپ کا وصال ۱۰۰۱ھ میں مکۂ معظمہ میں ہوا۔(کنز العمال للمتقی ۔ شیخ محدث دہلوی)