*عرض:* بعض وعظ کرنے والے یہ کہہ جاتے ہیں کہ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی (استغفر الله)۔ حضرت اس کی کچھ وضاحت فرما دیں۔

*ارشاد:* غزوۂ احد میں مسلمانوں کو عارضی طور پر شکست ہوئی لیکن فوراً اس کے بعد یہ شکست فتح میں بدل گئی اور اس کی کچھ حکمتیں ہمارے علمائے کرام نے ذکر کی ہیں اور ان حکمتوں کو میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مواہب اللدنیہ سے آپ کو ان حکمتوں کا کچھ مجمل بیان سنا دیا جائے چنانچہ حضرت علامہ قسطلانی علیه الرحمه مواہب اللدنیہ میں فرماتے ہیں:

*منها: تعريف المسلمين سوء عاقبة المعصية، وشؤم ارتكاب النهي، لما وقع من ترك الرماة موقفهم الذي أمرهم الرسول صلى الله عليه وسلم ألايبرحوا منه.*

یہ پہلی حکمت بتائی کہ حضور سرور عالم صلی ﷲ تبارک وتعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو تیر اندازوں کو مقرر فرمایا تھا اور جن لوگوں نے مدینہ شریف میں احد کی زیارت کی ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ اُحد کے مزارات کے سامنے ایک ٹیلہ ہے جس کا نام ”جبل رماۃ“ اُس پر سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کچھ تیر اندازوں کو مقرر فرمایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ تم لوگ اس پر ثابت قدمی سے رہنا ہمارا کچھ بھی حال ہو اگر تم یہ دیکھو کہ خدانخواستہ چڑیاں ہمارا گوشت نوچ رہی ہیں پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا لیکن ان لوگوں نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور مسلمان جمع غنیمت میں اور مالِ غنیمت کی تحصیل میں مصروف ہوئے دوسری طرف سے حضرت خالد رضی ﷲ تبارک وتعالیٰ عنہ یہ منظر دیکھ رہے تھے وہ دوسری طرف سے آکر جو حالت کفر میں تھے وہ حملہ آور ہوئے اُس وقت تھوڑی دیر کے لئے مسلمانوں کو شکست ہوگئی لیکن حضور سرور عالم صلی ﷲ تبارک وتعالیٰ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے اور پھر مسلمانوں کی شکست فوراً فتح میں بدل گئی اب پہلی حکمت یہ ہے کہ یہ شکست عارضی طور پر جو ان کو ہوئی ﷲ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ان کو دکھایا گیا کہ رسول (صلی ﷲ علیہ وسلم) کی نافرمانی کا کیا انجام ہے اور تمہاری اس معصیت کا کیسا شگون ہے اور تمہارے اوپر اس کی وجہ سے کیا گزری اس پر عبرت تمہیں حاصل ہونی چاہئے۔

*أن عادة الرسل أن تبتلى ثم تكون لهم العافبة*

اور دوسری بات یہ ہے کہ ﷲ تبارک وتعالیٰ نے عادت کریمہ جاری کی ہے کہ مرسلانِ عظام کو ﷲ تبارک وتعالیٰ شدت میں، سختی میں مبتلا فرماتا ہے ان کی آزمائش کرتا ہے اور وہ صبر کرتے ہیں اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آتی اور ان کے ساتھ جو ان کے جانباز نبردآزما ہوتے ہیں وہ ان کا ساتھ دیتے ہیں پھر ﷲ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے وہ آزمائش دور ہوتی ہے اور عافیت ﷲ تبارک وتعالیٰ ان کو عطا فرماتا ہے۔

*والحكمة في ذلك أن لو انتصروا دائما لدخل في المسلمين من ليس منهم، ولم يتميز الصادق من غيره*

اب حکمت اس میں یہ ہے کہ اگر ہمیشہ فتح ہی ہوتی تو مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے داخل ہوجاتے جو مسلمان نہیں ہیں تو ﷲ تبارک وتعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے یہ چاہا کہ مسلمانوں کا امتحان ہو اور مسلمانوں میں جو سچے مسلمان ہیں وہ الگ ہوں اور جو اہلِ نفاق ہیں وہ الگ ہوں۔

*ولو انكسروا دائما لم يحصل المقصود من البعثة*

اور اگر ہمیشہ ان کو ہزیمت ہوتی تو ﷲ تبارک وتعالیٰ نے جو رسولوں کی بعثت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو نبی بنا کر بھیجا ہے تو اس کا مقصود ظاہر نہیں ہوتا۔

*فاقتضت الحكمة الجمع بين الأمرين لتمييز الصادق من الكاذب*

تو اب حکمتِ بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ عارضی ہزیمت اور پائیدار فتح دونوں ایک ساتھ اکٹھے ہوں تاکہ سچا پکا مسلمان اور منافق دونوں الگ الگ ظاہر ہوجائیں۔

*وذلك أن نفاق المنافقين كان مخفيا عن المسلمين، فلما جرت هذه القصة، وأظهر أهل النفاق ما أظهروه من الفعل والقول حتى عاد التلويح تصريحا، وعرف المسلمون أن لهم عدوا في دارهم، فاستعدوا لهم وتحرزوا منهم.*

اور یہ بات اس لئے ہے کہ منافقوں کا نفاق مسلمانوں پر ظاہر نہ تھا ﷲ تبارک وتعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے یہ چاہا اور اس کی حکمت نے یہ تقاضا کیا کہ منافقوں کا نفاق کب تک رہے گا اور وہ مسلمانوں کے اندر کب تک چھپے رہیں گے تو ﷲ تبارک وتعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے یہ چاہا کہ منافق ظاہر ہوجائیں اور مسلمان ان سے خبردار ہوجائیں اور ان سے عبرت پکڑیں اور وہ یہ سمجھیں کہ ان کا دشمن خود ان کے گھر میں موجود ہے تو اُس سے وہ پرہیز کریں اور اس کی سازش سے باخبر ہوں اور اس کے علاوہ بہت ساری حکمتیں ہیں۔

*تاج الشریعه مفتی محمد اختر رضا خان قادری (عليه الرحمه)*

*بتاریخ ٢٦ ستمبر ۲۰۱۰ بروز اتوار بمقام بریلی شریف۔*