سن لو آقا میرے

غم زدوں کی صدا سُن لو آقا میرے

اک نگاہِ کرم کر دو آقا میرے

داغ سینے کے کس کو دکھائیں حضور

پھر علاجِ جگر کر دو آقا میرے

تشنگی علم کی روز بڑھتی رہے

علم نافع عطا کر دو آقا میرے

دل کی دھڑکن سے آئے صدائے درود

کیف ایسا عطا کر دو آقا میرے

پھر چلا ہوں مدینے سے روتا ہوا

رَبِّ سَلِّمْ دعا کر دو آقا میرے

عزتِ حاضری مجھ کو ملتی رہے

اذنِ دائم عطا کر دو آقا میرے

حاضرِ در ہوا شاکرِؔ بے نوا

معاف جرم و خطا کر دو آقا میرے

سائل در ہوا شاکرؔ بے نوا

دامن عاصیاں بھر دو آقا میرے