نماز کا ساتواں فرض :-خروج بُصنعہ

یعنی اپنے ارادے سے نماز سے باہر آنا ( نماز پوری کرنا ) ۔

یعنی قعدہ ٔ اخیرہ کے بعد سلام و کلام وغیرہ کوئی ایسا کام کرنا جونماز میںمنع ہو ۔لیکن سلام کے علاوہ دوسرا کوئی منافی ٔ نمازفعل قصداً کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہوگی یعنی نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا ۔ ( بہار شریعت )

 پہلی بار لفظ ’’ السلام ‘‘کہتے ہی امام نماز سے باہر ہوگیا اگرچہ ’’ علیکم ‘‘ نہ کہا ہو ۔ اس وقت اگر شریک جماعت ہوا تو اقتدا صحیح نہ ہوئی ( ردالمحتار)

 فقط ’’ السلام ‘‘ کہنا تحریمہ ٔ نماز سے باہر کردیتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۳۴۴)

دونوں سلام میں لفظ ’’ السلام ‘‘ کہنا واجب ہے ۔ ’’’ علیکم ‘‘ کہنا واجب نہیں ۔ (بہارشریعت )

خروج بصنعہ کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:نماز پوری کرنے کے لئے ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ کہنا سنت ہے ۔

مسئلہ:’’ علیکم السلام ‘‘ کہنا مکروہ ہے اور آخر میں ’’ و برکاتہ ‘‘ ملانا بھی نہ چاہئے ۔

مسئلہ:نماز پوری کرنے کے لئے دو مرتبہ ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘ ‘ کہنا سنت ہے اور پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا یہ بھی سنت ہے ۔

مسئلہ:سنت یہ ہے کہ امام دونوں سلام بلند آواز سے کہے لیکن دوسرا سلام پہلے سلام کی نسبت کم آواز سے ہو ۔ ( در مختار)

مسئلہ:داہنی طرف سلام پھیرنے میں چہرہ اتنا پھرانا ( گھمانا) چاہئے کہ پیچھے والوں کو داہنا رخسار نظر آئے اور بائیں طرف میں بایاں رخسار دکھائی دے ۔ ( عالمگیری )

مسئلہ:امام کے سلام پھیر دینے سے مقتدی نماز سے باہر نہ ہوا ۔ جب تک مقتدی سلام نہ پھیرے ۔( در مختار)

مسئلہ:مقتدی کو امام کے پہلے سلام پھیرنا جائز نہیں ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ:جب امام سلام پھیرے تو مقتدی بھی سلام پھیر دے لیکن اگر مقتدی نے تشہد پورا نہ کیا تھاکہ امام نے سلام پھیر دیاتو مقتدی امام کا ساتھ نہ دے بلکہ واجب ہے کہ وہ تشہد پوراکرکے ہی سلام پھیر ے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:امام سلام پھیرنے میں دا ہنی طرف سلام پھیرتے وقت ان مقتدیوں سے خطاب کی نیت کرے جو داہنی طرف ہیں اور بائیں طرف سلام پھرتے وقت بائیں طرف والوں کی نیت کرے ۔ نیز دونوں سلاموں میںکراماً کاتبین اور ان فرشتوں کی نیت کرے جن کو اللہ تعالیٰ نے حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے اور نیت میں کوئی تعداد معین نہ کرے (در مختار)

مسئلہ:مقتدی بھی ہر طرف کے سلام میں اس طرف والے مقتدیوں اور فرشتوں کی نیت کرے نیز جس طرف امام ہو اس طرف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرے اور اگر امام اس کے محاذی ہو تو دونوں سلاموں میں امام کی نیت کرے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:منفرد یعنی اکیلا نماز پڑھنے والا دونوں سلامو ںمیں صرف فرشتوں کی نیت کرے۔(درمختار )

مسئلہ:سلام کے بعد سنت یہ ہے کہ اما م داہنے یا بائیں کو انحراف کرے لیکن دائیں طرف انحراف کرنا افصل ہے ۔ نیز امام مقتدیوں کی طرف بھی منہ کرکے بیٹھ سکتا ہے جبکہ کوئی مقتدی اسکے سامنے نماز میں نہ ہو ۔ اگرچہ پچھلی صف میں وہ نماز پڑھتا ہو۔ (حلیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۶)

مسئلہ:امام کو بعد سلام قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے ۔ شمال و جنوب یا مقتدیوں کی طرف منہ کرے اور اگر کوئی مسبوق اس کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو اگرچہ آخری صف میں ہو تو مشرق یعنی مقتدیوں کی جانب منہ نہ کرے ۔ بہرحال سلام کے بعد امام کا پھرنا مطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رو بیٹھارہا تو سنت کا ترک کیا اور کراہت میں مبتلا ہوا۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۴)

مسئلہ:پہلے سلام میں دائیں شانہ اور دوسرے سلام میں بائیں شانہ کی طرف نظر کرنا مستحب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:منفرد بغیر انحراف اگر اسی جگہ بیٹھ کر دعامانگے تو جائز ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:ظہر ، مغرب اور عشاء کی فرض کے بعد مختصر دعاؤں پر اکتفا کرکے سنت پڑھے اور زیادہ طویل دعاؤں میں مشغول نہ ہو ۔ ( عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۸۶)

مسئلہ:جن فرضوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں بعد نمازِ فرض کلام نہ کرنا چاہئے اگرچہ سنتیں ہوجائیں گی مگر ثواب کم ہوجائے گا اور سنتو ںمیں تاخیر بھی مکروہ ہے ۔ فرض اور سنتوں کے درمیان بڑے بڑے ( طویل ) اوراد اور وظائف کی بھی اجازت نہیں۔(غنیۃ ، رد المحتار)

مسئلہ:افضل یہ ہے کہ جہاں فرض پڑھے ہوں وہیں سنتیں نہ پڑھے بلکہ دائیں ، بائیں یا آگے ، پیچھے ہٹ کر پڑھے ۔ ( عالمگیری ، در مختار)

مسئلہ:افضل یہ ہے کہ نماز فجر کے بعد وہیں بیٹھار ہے اور طلوع آفتاب تک ذکر و اذکار اور قرآن شریف کی تلاوت میں مشغول رہے ۔ (عالمگیری)

مسئلہ:بعد نماز دعا مانگنا سنت ہے اور ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا اور بعد دعا منہ پر ہاتھ پھیرنا یہ بھی سنت سے ثابت ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۷۲ اور ۸۳)

مسئلہ:ہاتھ اٹھاکر دعامانگتے وقت دونوں ہاتھوں میں کچھ فاصلہ ہو ، بالکل ملا دینا نہ چاہئے۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳، ص ۱۲۱)