تحریر: علامہ لقمان شاہد حفظہ الله

⚡️ فہمِ رسا کی پہنچ ⚡️

امامِ اعظم رحمہ اللہ سے ایک مخالف نے پوچھا:

آپ اُس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو:

1: نہ جنت کی امید کھتا ہو

2: نہ دوزخ سے ڈرتا ہو

3: نہ اُسے خوفِ خدا ہو –

4: وہ مردار کھاتا ہو

5: بغیر رکوع وسجود نماز پڑھتا ہو

6: بغیر دیکھے گواہی دیتا ہو

7: حق کو ناپسند کرتا ہو

8: فتنے سے محبت رکھتا ہو

9: رحمت سے بھاگتا ہو

10: اور یہود و نصاریٰ کو سچا سمجھتا ہو –

آپ نے پوچھا:

کیا تجھے ایسے شخص کے بارے میں معلوم ہے؟

اُس نے کہا نہیں! لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے بُرا کوئی نہیں —

امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے پوچھا: ایسےآدمی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟

اُنھوں نےعرض کی :

” شر ھذا الرجل ھذہ صفۃ کافر “

ایسا شخص بہت برا ہے ، یہ تو کافرانہ صفات ہیں –

امام صاحب مسکرادیے اور فرمانے لگے:

” ھومن اولیاءاللہ تعالیٰ حقا “

ایسا شخص تو اللہ کے سچے ولیوں میں سے ہے –

پھر ( سوال کرنے والے سے ) فرمانے لگے:

اگر میں تجھے بتادوں تَو تُومیری مخالفت سے باز آجائے گا اور جو چیز ( غیبت وبہتان وغیرہ ) تیرے لیے نقصان دہ ہے ، اُس سے بچا رہے گا؟

اس کے کہا: ہاں –

فرمایا: ( پھر سن! )

1: وہ ( جنت سے نہیں ) جنت کے رب سے امید رکھتاہے ،

2: ( دوزخ سے نہیں ) دوزخ والے رب سے ڈرتاہے

3: اللہ تعالیٰ سے اس لیے بے خوف ہے کہ وہ اپنی سلطنت میں اُس پر ظلم نہیں کرے گا –

4: مچھلی کھاتا ہے جو مری ہوتی ہے

5: نماز جنازہ اورنبی علیہ السلام پر دورد پڑھتا ہے

6: وہ گواہی دیتاہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں

7: وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے لیے موت کو ناپسند کرتاہے جب کہ یہ حق ہے

8: مال اور اولاد سے محبت کرتا ہے جو فتنہ ہیں

9: بارش سے بھاگتا ہے جو کہ رحمت ہے

10: یہودیوں کی اِس بات کی تصدیق کرتاہے کہ: عیسائی کچھ نہیں ، اور عیسائیوں کی اس بات کوسچا سمجھتاہے کہ: یہودی کوئی شے نہیں –

( یہ جوابات سن کر ) وہ شخص کھڑا

ہوگیا اور امام کے سرِ انور کو بوسہ دے کرکہنے لگا:

” اشھد انک علی الحق “

میں گواہی دیتا ہوں آپ حق پر ہیں –

( الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم…….. ، لابن حجر ہیتمی ، م 973ھ ، الفصل الثانی والعشرون…….. ، ص 63 ، 64 ، ط دارالکتب العلمیہ بیروت 1403ھ )

امام صاحب کی اِس گفتگوسے کئی سبق ملتے ہیں ، لیکن میں سرِدست اس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا ؛ آپ اِسے اپنی فہم کے مطابق ہی سمجھ کر نتیجہ نکالیں –

البتہ ایک آپ بیتی سُنا دیتا ہوں :

کئی ماہ پہلے مجھے یہی گفتگو سنانے کے بعد ایک ” نومولود محقق ” نے کہا تھا :

” دیکھیے جی امام صاحب مسئلہ تکفیر میں کس قدر محتاط تھے “

میں نے اُسے کہا:

میاں صاحب زادے ! جہاں تم بول رہے ہو میں وہاں پہنچ گیا ہوں —

امام صاحب نے فتویٰ دینے سے پہلے اپنے شاگردوں سے پوچھا تو انھوں نے کہا:

ایسا شخص غلط ہے –

یہ شاگرد امام اعظم کے شاگرد تھے جو عام نہیں بلکہ علم وفضل کے بادشاہ تھے ؛ اِس کے باوجود امام نے اُن کی بات کو رد کردیا ، تو امام کے علم وفضل کے آگے سبھی شاگرد خاموش ہوگئے اور آج بھی تمھارے سمیت ساری دنیا خاموش ہے ، آخر کیوں؟؟

کہنے لگا: شاگردوں کوپتا تھا کہ امام نے اپنی فہم و ذکا سے وہاں تک رسائی حاصل کرلینی ہے جہاں تک ہم نہیں پہنچ سکتے –

میں نے کہا:

سیدی اعلیٰ حضرت نے جب بہ دلائل صحیح وصریح کچھ لوگوں کو گستاخی رسول کی بِنا پر کافرکہا اور اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے کف لسان کیا تو اِس سے بھی علما نے سمجھ لیا کہ آپ اپنی عقل رسا اور فہم و ذکا سے وہاں تک پہنچے ہیں جہاں تک ناقص عقلیں نہیں پہنچ سکتیں –

اِسی لیے اُس وقت سے لے کرآج تک کے ائمہ اہل سنت یہی تسلیم کرتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کی تفہیم وتشریح بالکل درست ہے!!

✍لقمان شاہد

16/3/1439ھ