مصافحہ ومعانقہ وبوسہ وقیام

مصافحہ ومعانقہ وبوسہ وقیام

حدیث شریف میں ہے کہ جب دو مسلمان ملیں اور مصافحہ کریں اور اللہ کی حمد کریں اور استغفار کریں تو دونوں کی مغفرت ہوجائے گی ۔ (ابو دائود جلد ثانی ؍ص۳۶۱ مجتبائی)

مسئلہ:مصافحہ سنت ہے اور اس کا ثبوت متواتر حدیثوں سے ہے اور احادیث میں اس کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے ۔ایک حدیث میں ہے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو ہلایا ،تو اس کے تمام گناہ گرجائیں گے ۔جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے مطلقا مصافحہ کا جائز ہونا یہ بتاتا ہے کہ نماز فجر ونماز عصر کے بعد جو اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے ۔اور فقہ کی بعض کتابوں میں جو اس کو بدعت کہا گیا ہے اس سے مراد بدعت حسنہ ہے اور ہر بدعت حسنہ جائز ہی ہوا کرتی ہے۔(بہار شریعت ج۱۶ ؍ص۹۸ بحوالہ در مختار ورد المختار ج۵؍ص۲۴۴)

اور جس طرح نماز فجر وعصر کے بعد مصافحہ کرنا جائز ہے دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے کیونکہ جب اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو جس وقت بھی مصافحہ کیا جائے جائز ہی رہے گا جب تک کہ شریعت مطہرہ سے اس کی ممانعت ثابت نہ ہوجائے اور ظاہر ہے کہ پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے کی کوئی ممانعت شریعت کی طرف سے ثابت نہیں ہے لہٰذا پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے ۔(بہار شریعت ج۱۶ ؍ص۹۸ بحوالہ رد المختار ج ۵ ؍ص۲۴۴)

مسئلہ:مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ا کا ہاتھ ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا ،یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو۔ دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہاء نے بیان کیا ہے اور اس کو بھی حدیث سے ثابت بتاتے ہیں وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے داہنے ہاتھ سے اور بایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے ملائے۔اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ (بہارشریعت ج۱۶ ؍ص۹۸)

مسئلہ: وہابی دیوبندی دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کو ناجائز اور خلاف سنت بتاتے ہیں اور صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے صاف صاف تحریر فرمایا ہے کہ ’’ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہییٔ‘‘(اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ جلد چہارم ؍ص۲۰)

مسئلہ: معانقہ کرنا بھی سنت ہے کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ا نے معانقہ فرمایا ہے ۔ (ابودائود ج۲؍ص۳۶۱)

مسئلہ::بعد نماز عیدین مسلمانوں میں معانقہ کا رواج ہے اور یہ بھی اظہار خوشی کا ایک طریقہ ہے ،یہ معانقہ بھی جائز ہے بشرطیکہ فتنہ کا خوف اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو مثلا خوبصورت امرد لڑکوں سے معانقہ کرنا کہ یہ فتنہ کا محل ہے ۔لہٰذا اس سے بچنا چاہییٔ۔ (بہار شریعت ج۱۶؍ص۹۸)

مسئلہ:کسی مرد کے رخسار یا پیشانی یا ٹھوڑی کو بوسہ دینا اگر شہوت کے ساتھ ہوتو ناجائز ہے اور اگر اکرام وتعظیم کے لئے ہو تو جائز ہے ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس ﷺ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیا اور حضرات صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سے بھی بوسہ دینا ثابت ہے ۔ (ابو دائود ج۲ ؍ص۳۶۲وغیرہ)

مسئلہ: عالم دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے بلکہ ان لوگوں کے قدم کو چومنا بھی جائز ہے ۔بلکہ کسی عالم دین سے لوگ یہ خواہش ظاہر کریں کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دے دیجئے کہ میں بوسہ دوں ،تو لوگوں کی خواہش کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ یا پائوں بوسہ کے لئے لوگوں کی طرف بڑھا سکتا ہے۔ (درمختار ج۵ ص ۲۴۵)

مسئلہ :بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے ایسا نہیں کرنا چاہییٔ۔ (بہار شریعت ج۱۶؍ص۹۹ بحوالہ زیلعی )

بوسہ کی چھ قسمیں :یاد رکھوکہ بوسہ کی چھ قسمیں ہیں

(۱)بوسۂ رحمت :جیسے ماں باپ کا اپنی اولاد کو بوسہ دینا۔

(۲)بوسۂ شفقت جیسے اولاد کا اپنے والدین کو بوسہ دینا ۔

(۳)بوسۂ محبت :جیسے ایک شخص اپنے بھائی کی پیشانی کو بوسہ دے

(۴)بوسۂ تحیت جیسے بوقت ملاقات ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو بوسہ دے

(۵) بوسۂ شہوت جیسے مرد عورت کو بوسہ دے

(۶)بوسۂ دیانت جیسے حجر اسود کا بوسہ۔ ( بہارشریعت)

مسئلہ:قرآن شریف کو بوسہ دینا بھی صحابۂ کرام کے فعل سے ثابت ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزآنہ صبح کو قرآن مجید کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے ۔ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی قرآن مجید کو بوسہ دیتے تھے اور اپنے چہرے سے لگاتے تھے ۔

مسئلہ:سجدۂ تحیت یعنی ملاقات کے وقت تعظیم کے طور پر کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر عبادت کی نیت سے ہو تو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے ۔

مسئلہ: آنے والے کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز بلکہ مستحب ہے خصوصاً جب کہ ایسے شخص کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جو تعظیم کا مستحق ہے ، مثلا عالم دین کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا ۔(ردالمختار )

مسئلہ:جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ میری تعظیم کے لئے کھڑے ہوں اس کی یہ خواہش مذموم و ناپسندیدہ ہے ۔ بعض حدیثوں میں جو قیام کی مذمت آئی ہے اس سے مراد ایسے ہی شخص کے لئے قیام ہے یا اس قیام کو منع کیا گیا ہے جو عجم کے بادشاہوں میں رائج ہے کہ سلاطین اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کے اردگرد تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں آنے والے کے لئے قیام کرنا اس میں داخل نہیں ۔

٭٭٭٭

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.